قومی زبان

ایک نظم

طویل برسوں کے بعد دیکھا وہ پیارا مشفق حسین چہرہ کہ جس نے مجھ کو وہ روشنی دی کہ جس سے میں نے بہت سے ٹوٹے دلوں کو جوڑا وہ روشنی کا حسین چہرہ ابھرتی شاموں کے ساتھ ابھرا مجھے نیا گیت دے گیا ہے نیا سویرا

مزید پڑھیے

دعا

اے خدا مجھ کو وہ حوصلہ دے کہ میں اس سفر کو جو سب میں جدا اور سب سے چھپا لمحہ لمحہ رواں ہے مری ذات میں اب رقم کر سکوں ان سبھوں کو جو ہم راہ چلتے رہے اور غافل رہے ان کو وہ حوصلہ دے کہ وہ مجھ سے مل کے مرا سامنا کر سکیں مجھ کو پا کے ہزاروں برس جی سکیں

مزید پڑھیے

جواب

جو کچھ بھی ہیں جیسے بھی ہیں میرے دکھ تو میرے دکھ ہیں میں کیوں تم کو داغ دکھاؤں میں کیوں تم سے مرہم چاہوں میں کیوں اپنی بات گنواؤں بول اٹھوں بھی تو کیا ہوگا جان سکو گے پل میں کیا کیا ہستی اتنی آساں کب ہے مانو کہنا مجھ سے میرے دکھ مت پوچھو

مزید پڑھیے

تتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈھتی رہی

تتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈھتی رہی میں شہر ننگ میں بھی ردا ڈھونڈھتی رہی وہ تتلیوں میں مست بہت مطمئن سا تھا جس کو چمن میں میری صدا ڈھونڈھتی رہی رت کی طرح مزاج بدل کر چلا گیا وہ بے وفا تھا اس میں وفا ڈھونڈھتی رہی تخت منافقت پہ وہی حکمران تھا بہر خلوص جس کو سدا ڈھونڈھتی رہی جوش ...

مزید پڑھیے

وہ میرے قلب و روح کو شاداب کر گیا

وہ میرے قلب و روح کو شاداب کر گیا پھر اس طرح گیا مجھے بیتاب کر گیا کاجل بھی نیند کا مری آنکھوں سے لے اڑا خوابوں میں آ کے وہ مجھے بے خواب کر گیا اس نے تو اضطراب کے معنی سجھا دیے ایسی نگاہ کی مجھے بیتاب کر گیا جنس گراں سمجھ کے نہیں دیکھتا کوئی مجھ کو وہ ایک جوہر نایاب کر گیا جوف ...

مزید پڑھیے

خبر ہے کہ آیا گلابوں کا موسم

خبر ہے کہ آیا گلابوں کا موسم گلوں کے بدن پر ہے کانٹوں کا موسم خدا جانے اس رت میں کیا گل کھلائے گلستاں کا جوبن یہ کلیوں کا موسم لبوں کی شرارت نظر سے اشارت دم وصل کیسا حیاؤں کا موسم یہ دور محبت بھی کیسا عجب ہے ہوں آنکھوں میں باتیں اشاروں کا موسم ہوائے جدائی یہ کیسی چلی پھر غموں ...

مزید پڑھیے

چاہا ہے عجب ڈھنگ سے چاہت بھی عجب ہے

چاہا ہے عجب ڈھنگ سے چاہت بھی عجب ہے محبوب عجب ہے یہ محبت بھی عجب ہے پلو مرا تھاما ہے کئی بار خرد نے پر ان دنوں جذبوں کی بغاوت بھی عجب ہے جکڑا ہے تری یاد نے افکار کو میرے ہمدم ترے جذبات میں شدت بھی عجب ہے قربت کے حسیں پھول مری روح پہ وارے کیا خوب سخی ہے یہ سخاوت بھی عجب ہے اک عارض ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں جو بسا تھا وہ کاجل کہاں گیا

آنکھوں میں جو بسا تھا وہ کاجل کہاں گیا تھا ضبط جس کے دم سے وہ بادل کہاں گیا ہم جس کے ساتھ شوق سے نکلے تھے سیر کو وہ ہم سفر کہاں ہے وہ جنگل کہاں گیا کرتا تھا شہر میں جو محبت سے گفتگو معلوم ہے کسی کو وہ پاگل کہاں گیا موجیں بھی اس کے پاس اٹھیں نظم و ضبط سے ساحل کی جان تھا جو وہ دیبل ...

مزید پڑھیے

خمیر میرا اٹھا وفا سے

خمیر میرا اٹھا وفا سے وجود میرا فقط حیا سے کچھ اور بوجھل ہوا مرا دل گھٹی ہوئی درد کی فضا سے برس پڑے حسرتوں کے بادل نظر پہ چھائی ہوئی گھٹا سے ہے وحشتوں کا سفر مسلسل بڑھا جنوں ہجر کی سزا سے ہتھیلیوں پر نہ رچ سکی وہ جو نام لکھا ترا حنا سے بنا گئی تم کو اور چنچل جھکی جو میری نظر ...

مزید پڑھیے

بے گھری

جاتے کیوں نہیں ہو یہ گھر میرا نہیں ہے جو تم اندر آنا چاہتے ہو میں گھر میں رہ کر بھی بے گھر ہوں اور تم کو یقیں نہیں آتا بار بار منع کرنے کے باوجود نہیں جانا چاہتے ہو اور مجھے اس بے گھری میں بے گھر کر دینا چاہتے ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 1342 سے 6203