ہم جو مسجد سے در پیر مغاں تک پہنچے
ہم جو مسجد سے در پیر مغاں تک پہنچے بڑھ کے یہ بات خدا جانے کہاں تک پہنچے کون کہتا ہے رہے راز محبت پنہاں ہم تو کہتے ہیں کہ یہ بات وہاں تک پہنچے سن سکے کیوں نہ تم آواز شکست دل کی یہ وہ آواز ہے جو گوش گراں تک پہنچے ہجو مے شیخ نے کی توڑ دی میں نے توبہ دل بھی خواہاں تھا کہ یہ بحث یہاں تک ...