قومی زبان

ہم جو مسجد سے در پیر مغاں تک پہنچے

ہم جو مسجد سے در پیر مغاں تک پہنچے بڑھ کے یہ بات خدا جانے کہاں تک پہنچے کون کہتا ہے رہے راز محبت پنہاں ہم تو کہتے ہیں کہ یہ بات وہاں تک پہنچے سن سکے کیوں نہ تم آواز شکست دل کی یہ وہ آواز ہے جو گوش گراں تک پہنچے ہجو مے شیخ نے کی توڑ دی میں نے توبہ دل بھی خواہاں تھا کہ یہ بحث یہاں تک ...

مزید پڑھیے

ہے اضطراب دل میں تو دل اضطراب میں

ہے اضطراب دل میں تو دل اضطراب میں ڈالا ہے تم نے مجھ کو عجب پیچ و تاب میں ڈھونڈیں گے ایک دن مجھے خود جلوہ ہائے حسن دیکھوں گا میں رہیں گے وہ کب تک حجاب میں اک حسن برق پاش کی دن رات ہے تلاش اپنی قضا کو ڈھونڈ رہا ہوں شباب میں ہم نے جنوں کو عقل کہا عقل کو جنوں کیا نکتہ رس تھا عشق ہمارا ...

مزید پڑھیے

نہیں یہ مژدۂ راحت کسی جواں کے لئے

نہیں یہ مژدۂ راحت کسی جواں کے لئے شباب کا تو زمانہ ہے امتحاں کے لئے بتا نہ راز محبت کسی کو اے ناداں بہت سے اور بھی ہیں راز رازداں کے لئے جناب شیخ نے مانگی شراب یہ کہہ کر ذرا سی چاہئے اک خاص مہرباں کے لئے خیال برق سے ہم نے جلا دئے خود ہی وہ چار تنکے جو رکھے تھے آشیاں کے لئے ہماری ...

مزید پڑھیے

حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ

حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ جسے تم آئے دن کہتے ہو یہ ہے کوئی دیوانہ بھرم قائم ہے تیرے نام سے دونوں کا دنیا میں حقیقت میں ترا مسکن نہ کعبہ ہے نہ بت خانہ دل شیدا کی فطرت کو کوئی سمجھے تو کیا سمجھے یہ فرزانے کا فرزانہ یہ دیوانے کا دیوانہ محبت نے لگا دی آگ دونوں کو برابر ...

مزید پڑھیے

خدایا عشق میں اچھی یہ شرط امتحاں رکھ دی

خدایا عشق میں اچھی یہ شرط امتحاں رکھ دی لگا کر مہر خاموشی مرے منہ میں زباں رکھ دی جو پوچھو دل سے شے تم نے کہاں اے مہرباں رکھ دی بڑی نخوت سے کہتے ہیں جہاں چاہی وہاں رکھ دی کسی کے جور بے حد پر بھی جب خاموش رہنا تھا تو پھر کیوں اے خدا تو نے مرے منہ میں زباں رکھ دی محبت کا نشاں تک بھی ...

مزید پڑھیے

آئیں وہ لاکھ دیکھنے والوں کے سامنے

آئیں وہ لاکھ دیکھنے والوں کے سامنے اٹھتی ہے آنکھ مہر جمالوں کے سامنے ممکن نہیں جواب تری چشم مست کا یہ فیصلہ ہوا ہے غزالوں کے سامنے تنہا نہ ایک حضرت موسیٰ کو غش ہوا ٹھہرا ہے کون برق جمالوں کے سامنے ہو جائے حسن کو نہ کسی کی نظر کہیں اچھے نہیں ہیں دیکھنے والوں کے سامنے دنیا میں ...

مزید پڑھیے

نظم

ہر زخم ہنر سے ہر دیدۂ تر سے خاموش سفینوں کے لہو رنگ سفر سے انصاف جو ہوگا تو وطن زندہ رہے گا

مزید پڑھیے

پچھلی باتیں یاد آتی ہیں

زخمی تن ہے من بے کل ہے پچھلی باتیں یاد آتی ہیں ملتے رستے جن پہ ہم تم ہنستے گاتے دوڑ رہے تھے دل میں کوئی خوف نہیں تھا پھول کھلے تھے رستے رستے برکھا کتنی البیلی تھی بھولے بھالے وہ سپنے تھے میری امی میرے ابا میری بہنیں میرے بھیا ہم سب کتنے خوش خوش سے تھے اب کچھ ایسی بات ہوئی ہے گھر ...

مزید پڑھیے

تمہاری آواز آ رہی ہے

میں اپنے گھر کے خموش در پہ کھڑی ہوئی ہوں میں ایک کمرے سے دوسرے کو لرزتے قدموں سے بڑھ رہی ہوں میں چھت کے زینے پہ چڑھ رہی ہوں تمہاری آواز آ رہی ہے گلی گلی کے تمام چہرے مشین دفتر لباس سارے دکاں مکاں اور مکین سارے بسوں کے اٹھتے دھوئیں میں تحلیل ہو رہے ہیں تمہاری آواز آ رہی ہے ہوا کی ...

مزید پڑھیے

آس

بیت چکا ہے وہ پل جس پل اس کو میرے گھر آنا تھا بیت چکے ہیں ایسے پل بھی جن سے میرا ساتھ نہیں تھا شام ہوئی ہے آس کو اب تک لازم تھا یہ ٹوٹ ہی جاتی لیکن میں تو آتی جاتی ہر رکشا کو دیکھ رہی ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 1340 سے 6203