قومی زبان

گمشدہ راستے

ساعت خود گری خود شناسی رفاقت محبت کے وہ جاگتے قافلے جو مہ و سال کی گرد میں اٹ گئے تھے اب بھی اک گمشدہ راستے پر رواں ہیں ہم نوائی کے وہ رات دن وقت کی گہری اندھی گپھاؤں سے اٹھ کر میرے اطراف یوں جمع ہونے لگے ہیں جیسے مجھے مجھ سے مری بے حسی کا گلہ کر رہے ہوں پوچھتے ہوں کہ کیا موسموں کے ...

مزید پڑھیے

کاغذی ہے پیرہن

یہ بے نور اندھی سیاست کا بازار ہے مصلحت کی دکاں ہے شناسا یہاں اجنبی ہیں مسرت کے لمحے بھی بے جان ہیں جسم و جاں کی حقیقت نہیں ہیں ریاکار سوچوں کے جامد حصاروں میں لپٹی ہوئی سر زمین کہہ رہی ہے کہ یہ محفل تنگ داماں ہے ساقی کا اعجاز مطرب کی آواز اور نعرۂ سرمدی کچھ نہیں ہے یہاں تو بس ذوق ...

مزید پڑھیے

یہ کس کی سازش ہے

یہ کس کی سازش ہے کس کا خون ہے یہ کون آمادۂ جنوں ہے یہ کون آگ اور خون کی ہولی جلا رہا ہے یہ کون تیروں سے کھیلتا ہے یہ کون خنجر بکف اخوت کا جسم نازک کچل رہا ہے ہمکتی معصومیت کو نیزوں سے چھیدتا ہے لرزتی انسانیت کے خیمے جلا رہا ہے کہ آسماں سے مہیب شعلے برس رہے ہیں ہوائیں مسموم ہو گئی ...

مزید پڑھیے

روشنی در پہ کھڑی مجھ کو بلاتی کیوں ہے

روشنی در پہ کھڑی مجھ کو بلاتی کیوں ہے میں اندھیرے میں ہوں احساس دلاتی کیوں ہے رات حصہ ہے مری عمر کا جی لینے دے زندگی چھوڑ کے تنہا مجھے جاتی کیوں ہے شہر کے لوگ تو سڑکوں پہ رہا کرتے ہیں گھر بنانے کی لگن مجھ کو ستاتی کیوں ہے گمرہی سے بھی مرا ذوق سفر کم تو نہیں راہ لیکن مرے قدموں کو ...

مزید پڑھیے

راہ میں کوئی کھڑا ہو جیسے

راہ میں کوئی کھڑا ہو جیسے اس کو منزل کا پتہ ہو جیسے کیا ہوئے آج وہ چہرے کے نقوش آئنہ پوچھ رہا ہو جیسے میرے ہم راہ نہیں تو جب سے یہ سفر ایک سزا ہو جیسے تیری یادوں سے گریزاں ہونا اب غم دل کی دوا ہو جیسے اف یہ خاموش محبت کہ شمیمؔ سارے عالم کو پتہ ہو جیسے

مزید پڑھیے

برق طور

میں اپنے عرصۂ ہستی کی ڈھونڈھتی تھی اساس تمام عمر بس اک ایسی روشنی کی تلاش کہ جو نگاہ کے دامن میں ہو سکے نہ اسیر مری طبیعت بے چین کی رہی تقدیر مری طلب کی وراثت مری جبیں سائی یہ عبدیت کا تقاضا وہ دشت پیمائی ترے حضور مگر یہ بھی کارگر نہ ہوئی کہیں فضاؤں میں چمکتی تو تھی وہ برق تپاں اس ...

مزید پڑھیے

سر شام

ابھی تو منظر گل دعوت نظارہ تھا ابھی تو دیدہ و دل کارزار ہستی ہیں رہ نجات کا عنوان بننے والے تھے ابھی تو شام کے اس موج خیز دریا میں نوا و صوت کا طوفان اٹھنے والا تھا نہاں تلاطم لا‌ انتہا تھا سینے میں ابھی سے کیوں مرے نالے لبوں پہ سوکھ گئے ابھی سے مہر بہ لب کیوں ہوئی نوائے خروش ابھی ...

مزید پڑھیے

ہماری روح کا نغمہ کہاں ہے؟

وہ درد آرزو جو لرزہ بر اندام تھا پہنائے عالم میں وہ حرف تشنگی جو نغمہ بر لب تھا دبستان شب غم میں وہ اک دنیائے نا پیدا کراں تھی آسماں کی وسعتیں جس میں سمائی تھیں بڑے گہرے سمندر موجزن تھے کرۂ دل میں جنہیں اک جستجوئے خام نے خاموش کر ڈالا بہت منہ زور موجیں تھیں جنہیں خود ہم نے پابند ...

مزید پڑھیے

آئینے نظر کے گرد ہوئے

جب درد کے ناتے ٹوٹ گئے جب منظر منظر پھیلے ہوئے ان دیکھے لمبے ہاتھوں نے سب عہد پرانے لوٹ لئے ماضی کے خزانے لوٹ لئے سب عشق کے دعوے روٹھ گئے جاں گنگ ہوئی دل چھوٹ گئے ہر زخم تمنا راکھ ہوا جو شعلۂ جاں تھراتا ہوا شفاف اندھیری راتوں میں رقصاں تھا فلک کے زینے پر تھک ہار کے آخر بیٹھ ...

مزید پڑھیے

وہ عشق جو ہم کو لاحق تھا

وہ عشق جو ہم کو لاحق تھا شب ہائے سیہ کے دامن میں اسرار جنوں کے کھول گیا بحر موجود کے مرکز سے اک موج تلاطم خیز اٹھی اک درد کی لہر اٹھی دل کے روزن سے جس میں سمٹ گئے دونوں عالم کے رنج و طرب اور ہست و بود کے محور پر رنج و راحت ہم رقص ہوئے فرقت کے تنہا لمحوں میں آباد تھی اک دنیائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1275 سے 6203