گمشدہ راستے
ساعت خود گری خود شناسی رفاقت محبت کے وہ جاگتے قافلے جو مہ و سال کی گرد میں اٹ گئے تھے اب بھی اک گمشدہ راستے پر رواں ہیں ہم نوائی کے وہ رات دن وقت کی گہری اندھی گپھاؤں سے اٹھ کر میرے اطراف یوں جمع ہونے لگے ہیں جیسے مجھے مجھ سے مری بے حسی کا گلہ کر رہے ہوں پوچھتے ہوں کہ کیا موسموں کے ...