قومی زبان

کب سے محو سفر ہو

ساجدہ کن یگوں کی مسافت سمیٹے ہوئے اس بیاباں میں یوں ہی بھٹکتی رہو گی ان بگولوں کے ہم راہ یوں رقص کرتی رہو گی کتنے صحراؤں میں تم نے پھوڑے ہیں پاؤں کے چھالے کتنی بیدار راتوں سے مانگا ہے تم نے خراج تمنا ساجدہ کچھ کہو ہجر کی کن زمانوں میں اشکوں کی مالا پروئی کن حسابوں چکایا قرض ...

مزید پڑھیے

اجنبی موڑ پر

ہے کہاں وہ سماں درد کے نور میں دھل کے نکھرے ہوئے جسم و جاں بے حسی کی چٹانیں گراتی ہوئی راہ سنگ خار ہٹاتی ہوئی کرب تخلیق کی ندیاں روح کے زخم دھوتی ہوئی تند جذبات کی بدلیاں آبشار رواں وہ متاع گراں روز و شب کی فرومایہ گردان میں کھو گئی لذت وصل کی بیکلی ہجر بیتاب کی روشنی منزل بے نشاں ...

مزید پڑھیے

عجب بلا خیز مرحلہ تھا

عجب سفر تھا عجب پر اسرار مرحلہ تھا عجیب ہنگام رہ نوردی عجیب شوق جہاں نما تھا نہ کوئی صوت درا صدائے رحیل تھی اور نہ کوئی منزل نہ کارواں تھا عجیب خوئے سفر تھی جو زاد راہ تھی ہم سفر تھی رہرو تھی راہبر تھی نہ دل میں اندیشۂ مراحل نہ خوف جادہ نہ انتظار سواد منزل ہر اس طوفان باد و ...

مزید پڑھیے

مئی یوم الحساب

مجھے بے رحم ہستی کے زیاں خانے میں کیوں بھیجا گیا کیوں حلقۂ زنجیر میں رکھ دی گئیں بے تابیاں میری ہر اک منظر مری نظروں کا جویا تھا فروزاں شاخساروں پر ہجوم رنگ و بو اڑتا ہوا بر رواں سیماب پا موجیں صبا کا رقص بے پروا شب مہتاب کا افسوں مہ و انجم کے رقصاں دائرے روئے شفق تاباں افق دریاؤں ...

مزید پڑھیے

اک سوال خدائے برتر سے

ہم اس زمین و آسماں کے درمیاں حیران ہیں اور سر گراں اے خدائے دو جہاں! اے حرف کن کے راز داں! اے منبع کون و مکاں! اتنا تو بتلا دے کوئی ایسی بھی دنیا ہے جہاں انسانیت کی صاف پیشانی پہ علم و فن کی پو پھٹتی ہو اور فکر و نظر کے آئینوں سے نور کی کرنیں ابلتی ہوں دلوں میں خیر و برکت کی دعائیں ...

مزید پڑھیے

دور افتادگی

نغمگی گیت حرف و نوا نالۂ شوق صوت و صدا ایک بہری سیاست کے دربار میں سرنگوں پا بہ زنجیر لائے گئے سارا سیماب نقد و نظر سب طلسمات حرف و ہنر پردۂ سحر و اسرار سے ٹوٹ کر مقتل آرزو بن گئے وہ طرب زار دل قصر غم رات بھر جاگتی آگہی یعنی اقلیم جاں مشینوں کے کھنڈرات میں کھو گئے وہ جو آہنگ عالم ...

مزید پڑھیے

رات گہری ہے تو پھر غم بھی فراواں ہوں گے

رات گہری ہے تو پھر غم بھی فراواں ہوں گے کتنے بجھتے ہوئے تارے سر مژگاں ہوں گے قہر ہے ساعت محشر ہے کہ کہرام فنا خاک اس شہر فنا کوش میں انساں ہوں گے شہر ہو دشت ہو محفل ہو کہ ویرانہ ہو ہم جہاں جائیں وہی خار مغیلاں ہوں گے کیسے اس شہر خرابی میں بسر کی ہم نے کل جو آئیں گے وہ انگشت ...

مزید پڑھیے

ترجمانیٔ غم زیست کا موسم بھی نہیں

ترجمانیٔ غم زیست کا موسم بھی نہیں شعلۂ غم بھی نہیں موج تبسم بھی نہیں کوئی عنواں کوئی صورت نہیں وجہ تسکین وحشت دل کی دوا جان جہاں تم بھی نہیں پا بہ زنجیر ہوئی جاتی ہے پرواز خیال دل کی آواز میں جذبوں کا ترنم بھی نہیں پھر یہ کیا شے ہے جو رکھتی ہے ہراساں شب و روز بحر احساس کی موجوں ...

مزید پڑھیے

وہ خواب معدوم ہو گئے ہیں

عظیم تر تھی نظر کی دنیا حسین تھیں آرزو کی راہیں علامت زندگی تھی خوابوں کی کہکشاں زاد راہ تھیں حیرتیں وفائیں لرزتے احساس کانپتا ذہن فکر فردا کی جوت سے مضطرب نگاہیں وہ رنگ و صوت و صدا کے وقفے وہ جان و تن کی حکایتیں قلب و روح کے دل کشا مناظر وہ سب جو اک عمر کی کمائی تھے کیسے اک بے ...

مزید پڑھیے

فقیری میں

فقیری میں بھی خوش وقتی کے کچھ سامان فراہم تھے خیالوں کے بگولے مضطرب جذبوں کے ہنگامے، تلاطم بحر ہستی میں تموج روح کے بن میں، عجب افتاں و خیزاں مرحلے پہنائی شب کے، تڑپ غم ہائے ہجراں کی لرزتی آرزو دیدار جاناں کی عدم آباد کے صحرا میں ایک ذرہ کہ مثل قطرۂ سیماب لرزیدہ صدف میں ذہن کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1276 سے 6203