کب سے محو سفر ہو
ساجدہ کن یگوں کی مسافت سمیٹے ہوئے اس بیاباں میں یوں ہی بھٹکتی رہو گی ان بگولوں کے ہم راہ یوں رقص کرتی رہو گی کتنے صحراؤں میں تم نے پھوڑے ہیں پاؤں کے چھالے کتنی بیدار راتوں سے مانگا ہے تم نے خراج تمنا ساجدہ کچھ کہو ہجر کی کن زمانوں میں اشکوں کی مالا پروئی کن حسابوں چکایا قرض ...