قومی زبان

مجھے اس طرح نہ دیکھو مرا دل مچل نہ جائے

مجھے اس طرح نہ دیکھو مرا دل مچل نہ جائے یہ بلا کا منچلا ہے کسی پر پھسل نہ جائے مری بچی رو رہی ہے میں ابھی سلا کے آئی ذرا بھابھی دیکھتے رہنا کہیں دودھ ابل نہ جائے کرو چھیڑ اب نہ مجھ سے نہ جگاؤ سوئے فتنے جو چراغ بجھ چکا ہے کہیں پھر سے جل نہ جائے یہ کہاں کا چوچلا ہے ذرا ہٹ کے کھیلو ...

مزید پڑھیے

دکھلایا رقیبن نے نیا کوئی ہنر پھر

دکھلایا رقیبن نے نیا کوئی ہنر پھر بدلی سی نظر آتی ہے کچھ ان کی نظر پھر مرتا ہے جو ہر روز مگر مر نہیں چکتا کل رات کو گھر آ گیا وہ شعبدہ گر پھر اب جوتیوں سے ایسی خبر لوں کہ رکھے یاد دیکھے تو موا میری طرف بھر کے نظر پھر اک سال کی گڈی ابھی ہونے بھی نہ پائی لو ہو گیا بھابی کے یہاں نور ...

مزید پڑھیے

وہ میرے پاس جن راتوں میں ہوگا

وہ میرے پاس جن راتوں میں ہوگا مزہ کچھ اور ہی باتوں میں ہوگا ابھی کچھ کچھ جھجک ہے بے تکلف کہیں دو اک ملاقاتوں میں ہوگا نظر آئے گی اس میں شکل میری جو آئینہ ترے ہاتھوں میں ہوگا یہ کب سمجھی تھی میں شادی کے پہلے مرا سب کچھ ترے ہاتھوں میں ہوگا میں اگلی پچھلی منوا لوں گی اس سے کبھی جب ...

مزید پڑھیے

یہ نہیں بڑھ کے ہاں نہ ہو جائے

یہ نہیں بڑھ کے ہاں نہ ہو جائے جو نہاں ہے عیاں نہ ہو جائے دولہا بھائی سے خار کھاتے ہیں یوں کوئی بد گماں نہ ہو جائے آمد طفل کم کرو بھابی بڑھ کے اک کارواں نہ ہو جائے ڈر لگا ہے موئی پڑوسن سے میرے منے کی ماں نہ ہو جائے میرے بستر پہ تم نہ سو بھابی ان کو میرا گماں نہ ہو جائے ہنس کے ...

مزید پڑھیے

گو ترے شہر میں بھی رات رہے

گو ترے شہر میں بھی رات رہے صبح تک تشنۂ حیات رہے درد کا چاند بجھ گیا لیکن غم کے تارے تمام رات رہے اور بھی ہیں تعلقات مگر غم کے رشتے سے میری بات رہے زندگی میں اجل سے پہلے ہی کیسے جانکاہ سانحات رہے ہم کو ان سے شکایتیں ہیں شمیمؔ لوگ مرہون التفات رہے

مزید پڑھیے

حرف تہجی سیکھ رہا ہوں

حرف تہجی سیکھ رہا ہوں دریا میں میں کود گیا ہوں میرے قدم کی آہٹ پا کر رات جو سہمی چونک گیا ہوں سامنے منزل آ گئی لیکن آگے کیا ہے سوچ رہا ہوں تیری طرف اک گام بڑھا تھا اب میں خود کو ڈھونڈ رہا ہوں کون کرے گا صورت صیقل زنگ لگا اک آئینہ ہوں منزل سے ہے اتنا تعلق میل کا پتھر بن کے کھڑا ...

مزید پڑھیے

مرے قریب نہ آؤ بہت اندھیرا ہے

مرے قریب نہ آؤ بہت اندھیرا ہے ہٹو پرے اجی جاؤ بہت اندھیرا ہے یہ میرا منا جو جاگا تو چیز مانگے گا ابھی نہ اس کو جگاؤ بہت اندھیرا ہے ہے پچھلی رات نمود سحر تو ہونے دو ابھی تو گھر سے نہ جاؤ بہت اندھیرا ہے ہے کالی رات بھی اور راستہ بھی نا ہموار قدم سنبھل کے اٹھاؤ بہت اندھیرا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

جو میرے پیار میں الجھا ہوا دکھائی دے

جو میرے پیار میں الجھا ہوا دکھائی دے خدا کبھی نہ مری قید سے رہائی دے مری بہو کو جو کوئی بھی منہ دکھائی دے تو ساتھ نقد کے زیور کوئی طلائی دے عجیب شخص سے پالا پڑا ہے اے بھابی میں کچھ کہوں تو اسے کچھ کا کچھ سنائی دے وہ چھیڑا کرتی ہے مردوں کو راہ چلتے میں خدا کسی کو نہ اس درجہ بے ...

مزید پڑھیے

ضبط دو روز بھی ان سے نہ ہوا میرے بعد

ضبط دو روز بھی ان سے نہ ہوا میرے بعد میں جو کہتی تھی وہی ہو کے رہا میرے بعد اچھا کھاؤ تو قسم سر پہ میرے رکھ کر ہاتھ میرے بچوں سے کرو گے نہ دغا میرے بعد جو مرے واسطے چوتھی کا بنا تھا جوڑا وہی جوڑا مری سوتن کو چڑھا میرے بعد میری ہی سیج پہ سوتن کو سلایا ہے ہے کیسا کھل کھیلا موا چکنا ...

مزید پڑھیے

اس نے کچھ کان میں چپکے سے کہا رات گئے

اس نے کچھ کان میں چپکے سے کہا رات گئے میں نے سب سن کے بھی جیسے نہ سنا رات گئے آج بھیا نے خدا جانے کھلا دی کیا شے پانی بھابی نے کئی بار پیا رات گئے کیا کہیں گے مجھے بتلاؤ محلے والے تم کو آتے ہوئے گر دیکھ لیا رات گئے میں وہاں جا کے پڑھا کرتی ہوں اکثر بھابی اچھی لگتی ہے کھلی چھت کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1274 سے 6203