قومی زبان

دیکھ کر آپ کو دعا کرنا

دیکھ کر آپ کو دعا کرنا پھر نمازیں سبھی ادا کرنا عشق دیکھو کہاں پہ لے آیا صبر کرنا کہ التجا کرنا چھوڑ جاتے ہو یہ تو بتلا دو آپ کے بعد ہم نے کیا کرنا وہ سراپا غزل کا پیکر ہے اس کے چہرے سے ابتدا کرنا دل نے چاہا کہ اس کو چھو لوں میں کتنا مشکل ہے حوصلہ کرنا عشق تو اک معمہ ہے اے ...

مزید پڑھیے

یہی نہیں کہ ہمیں ہیں یہاں بکھرتے ہوئے

یہی نہیں کہ ہمیں ہیں یہاں بکھرتے ہوئے ادھر تو دیکھ رہا ہوں سبھی کو ڈرتے ہوئے یہ دل فریب چراغاں یہ قہقہوں کے ہجوم میں ڈر رہا ہوں اب اس شہر سے گزرتے ہوئے تمام رات ہم افسردگان محفل خواب گزارتے ہیں ستاروں سے بات کرتے ہوئے شفق کا رنگ بھی آنکھوں میں ابھی باقی ہے دکھائی دے رہی ہے رات ...

مزید پڑھیے

خلا سے کبریا تک کا سفر تھا اور ہم تھے

خلا سے کبریا تک کا سفر تھا اور ہم تھے تھرکتا چاک تھا اک کوزہ گر تھا اور ہم تھے تمہیں کو دیکھتے گزرے تھے اک سچائی سے ہم جہاں آشوب ہی حد نظر تھا اور ہم تھے بڑی مشکل سے کی دریافت ہم نے رغبت غم پھر اس کے بعد تو آساں سفر تھا اور ہم تھے گزاری عمر ہم نے آبیاری میں کسی کی وہ اپنا ایک کار ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھتا ہوں میں کسی کو نظر آتا ہے کوئی

ڈھونڈھتا ہوں میں کسی کو نظر آتا ہے کوئی دید میں کیوں نہیں آتا اگر آتا ہے کوئی راستے میں کسی سائے کا دکھائی دینا بام و در کا یہ سمجھنا کہ گھر آتا ہے کوئی مجھ پہ گرتی ہوئی یہ دھوپ بھی اب تھک گئی ہے میں بھی اس طاق میں ہوں کب شجر آتا ہے کوئی کیا تناقض ہے کہ آنکھوں سے نہ ہو کر داخل دل ...

مزید پڑھیے

اک عجب سی دھندھ میں اب سر بسر لپٹا ہوں میں

اک عجب سی دھندھ میں اب سر بسر لپٹا ہوں میں کھو گیا ہوں یوں کہ خود کو بھی کہاں دکھتا ہوں میں ڈھونڈھتا ہوں اک شناسا مجمع اغیار میں اجنبی چہرے بھی پہروں دیکھتا رہتا ہوں میں شہر کی شب پر بپا ہیں جگمگاتی لائٹیں ہائے راتوں کو اندھیرا ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں یہ مرا کار جنوں ہے یا مجاز ...

مزید پڑھیے

ہزاروں درد یکجا ہو کے آنکھیں دھو رہے ہیں

ہزاروں درد یکجا ہو کے آنکھیں دھو رہے ہیں یہ رت گریہ کی ہے ہر سمت آنسو ہو رہے ہیں ہوائے خواب خوش نے تھی ہماری نیند توڑی سو اک گہری اداسی اوڑھ لی ہے سو رہے ہیں ہمیں رکھنے تھے اپنے نقش پا بھی سرخیوں میں سو اپنی راہ میں کچھ اور کانٹے بو رہے ہیں بڑی خواہش تھی ہم کو قیس ہونے کی سو ہو ...

مزید پڑھیے

عجیب اس سے بھی رشتہ ہے کیا کیا جائے

عجیب اس سے بھی رشتہ ہے کیا کیا جائے وہ صرف خوابوں میں ملتا ہے کیا کیا جائے جہاں جہاں تیرے ملنے کا ہے گمان وہاں نہ زندگی ہے نہ راستہ ہے کیا کیا جائے غلط نہیں مجھے مرنے کا مشورہ اس کا وہ میرا درد سمجھتا ہے کیا کیا جائے کسی پہ اب کسی غم کا اثر نہیں ہوتا مگر یہ دل ہے کہ دکھتا ہے کیا ...

مزید پڑھیے

تمہیں کوئی خبر ہے نہ پتا ہے

تمہیں کوئی خبر ہے نہ پتا ہے مرے اندر کوئی اب تک چھپا ہے تماری دستکیں سب رائیگاں ہیں کہاں دروازہ اس گھر میں لگا ہے مری انگلی میں وہ چھلا نہیں ہے تمہارے نام کا بس دائرہ ہے سمندر میں وہی طوفان ہے پھر کہ دریا اپنا حصہ مانگتا ہے کوئی پوچھے تو کیا بتلاؤں گا میں جو دشمن ہے وہ ہی تو ہم ...

مزید پڑھیے

تمام خواب ادھورے اٹھا کے رکھے ہیں

تمام خواب ادھورے اٹھا کے رکھے ہیں کبھی تو ہوں گے یہ پورے اٹھا کے رکھے ہیں تمہارے نام کا پیکر بنا کے رکھا ہے تمہارے نام کے چہرے اٹھا کے رکھے ہیں یہ کیا کہ چاند تو بادل میں جا کے بیٹھا ہے سو ہم نے جگنو سنہرے اٹھا کے رکھے ہیں یہ تیری شوخ ادائیں ہیں اور مری لرزش کہ جتنے پہرے تھے ...

مزید پڑھیے

آ کے اک بار مرے یار ذرا دیکھ تو لے

آ کے اک بار مرے یار ذرا دیکھ تو لے چارہ گر خود بھی ہے بیمار ذرا دیکھ تو لے دن گزرتا ہے ترے ہجر میں تھوڑا تھوڑا گردش وقت کی یہ مار ذرا دیکھ تو لے قلب وارفتہ کی ہر آہ بھی سہمی سہمی دھیمی دھیمی سی ہے رفتار ذرا دیکھ تو لے اب بھی محفوظ ہیں آنکھوں میں وہ سارے منظر وہی نخرے وہی تکرار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1224 سے 6203