بغداد
حسن جس شہر میں تو گیلی مٹی سے کبھی کوزے بناتا تھا تجھے اس شہر میں مٹی نہیں اب سر ملیں گے ہزاروں خستہ تن لاشوں سے رستا خون تیرے شہر کی مٹی کو یوں سیراب کرتا ہے کہ اب جو تو کبھی مٹی سے کھیلے گا تو ہر کوزہ صراحی جام و مینا لہو کے رنگ کے ہوں گے تری نقش و نگاری اور ترے ہاتھوں کی صناعی نہ ...