اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے
اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے جو انتہا کو پہنچتے تو ابتدا کرتے اگر زمانے میں اپنے کبھی وفا کرتے دہان زخم تڑپنے پہ کیوں ہنسا کرتے مریض لذت فریاد کہہ نہیں سکتے جو نالے کام نہ آتے تو چپ رہا کرتے ہم ان سے مل کے بھی فرقت کا حال کہہ نہ سکے مزہ وصال کا کھوتے اگر گلہ کرتے مذاق درد ...