قومی زبان

اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے

اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے جو انتہا کو پہنچتے تو ابتدا کرتے اگر زمانے میں اپنے کبھی وفا کرتے دہان زخم تڑپنے پہ کیوں ہنسا کرتے مریض لذت فریاد کہہ نہیں سکتے جو نالے کام نہ آتے تو چپ رہا کرتے ہم ان سے مل کے بھی فرقت کا حال کہہ نہ سکے مزہ وصال کا کھوتے اگر گلہ کرتے مذاق درد ...

مزید پڑھیے

اداسی کی یہ عادت ہی کہاں تھی

اداسی کی یہ عادت ہی کہاں تھی ہمیں اس کی سہولت ہی کہاں تھی تمہیں جانا ہی تھا تو در کھلا تھا بہانوں کی ضرورت ہی کہاں تھی ذرا ہم بیٹھتے کچھ بات کرتے تمہیں اتنی سی فرصت ہی کہاں تھی سنو ان دوریوں کا اب گلہ کیا ہمارے بیچ قربت ہی کہاں تھی مقابل وقت سے جب جیتنا تھا ہمیں اس وقت ہمت ہی ...

مزید پڑھیے

بد گماں آج ساری محفل ہے

بد گماں آج ساری محفل ہے جانے کس راہ کس کی منزل ہے حال دل ہم بیاں کریں کیسے شہر کا مسئلہ مقابل ہے عمر بیتی ہے میری صحرا میں دور تک دریا ہے نہ ساحل ہے ساتھ چلنا ہے ان کی مجبوری دو کناروں کی ایک منزل ہے وہ مری غزلوں کا ہی ہے حصہ وہ کہاں زندگی میں شامل ہے دل مری ایک بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

خود سے کچھ یوں ابھر رہے ہیں ہم

خود سے کچھ یوں ابھر رہے ہیں ہم اک بھنور میں اتر رہے ہیں ہم زندگی کون جی رہا ہے یہاں موت میں جان بھر رہے ہیں ہم موت کے بعد زندگی ہوگی یہ سمجھ کر ہی مر رہے ہیں ہم اب سنورنے کا لطف جاتا رہا آئنے میں بکھر رہے ہیں ہم عشق پہلے بھی تو ہوا ہے ہمیں کیا نیا ہے جو ڈر رہے ہیں ہم وقت اپنی جگہ ...

مزید پڑھیے

یوں تو دنیا بھی مجھے راس کہاں آئی ہے

یوں تو دنیا بھی مجھے راس کہاں آئی ہے بزم میں آتے ہی لگتا ہے کہ تنہائی ہے سچ تو یہ ہے کہ مجھے راس نہیں آتا کچھ میری عادت سے مری زندگی اکتائی ہے ذہن میں نام نہیں چہرہ نہیں ہے کوئی آج اک روح کو اک روح کی یاد آئی ہے وہ ملاقات مری جان کچھ اک پل کی سہی اس کی تصویر بڑے فریم میں بنوائی ...

مزید پڑھیے

زندگی کا جمال دیکھا بھی

زندگی کا جمال دیکھا بھی موت کا مرم خوب سمجھا بھی بچپنا تو ابھی گیا بھی نہ تھا جانے کب آ گیا بڑھاپا بھی جب تلک زندگی سمجھتے ہم موت کا آ گیا بلاوا بھی شبد کچھ رہ گئے ہیں من میں ہی کچھ کو اوراق پر اتارا بھی عمر سستے میں خرچ کر ڈالی ہاتھ آیا نہیں خسارہ بھی

مزید پڑھیے

عیب اوروں میں گن رہا ہے وہ

عیب اوروں میں گن رہا ہے وہ اس کو لگتا ہے یوں خدا ہے وہ میری تدبیر کو کنارے رکھ میری تقدیر لکھ رہا ہے وہ میں نے مانگا تھا اس سے حق اپنا بس اسی بات پر خفا ہے وہ پتھروں کے شہر میں زندہ ہے لوگ کہتے ہیں آئنہ ہے وہ اس کی وہ خامشی بتاتی ہے میرے دشمن سے جا ملا ہے وہ

مزید پڑھیے

ذرا سا وقت لگتا ہے کوئی رشتہ بنانے میں

ذرا سا وقت لگتا ہے کوئی رشتہ بنانے میں کلیجہ سوکھ جاتا ہے مگر اس کو نبھانے میں کسی کی یاد جیون بھر کسی کے ساتھ رہتی ہے کسی کو پل نہیں لگتا کسی کو بھول جانے میں محبت اور تکلف میں ہے اتنا فرق کہ جتنا کسی بت کی پرستش میں اور اس سے گھر سجانے میں بہت حیران ہوں میں دیکھ کر بارش کا یہ ...

مزید پڑھیے

خوشبوؤں کا شجر نہیں دیکھا

خوشبوؤں کا شجر نہیں دیکھا ایک مدت سے گھر نہیں دیکھا رہ گزر ہم نے ایسی چن لی تھی میلوں دیوار و در نہیں دیکھا تم جو بدلے تو کیا غضب بدلے ہم نے ایسا اثر نہیں دیکھا اتنی بوجھل ہوئی تھی یہ پلکیں اس کو دیکھا مگر نہیں دیکھا چاند کیسے زمیں پہ چلتا ہے جس نے اس کو اگر نہیں دیکھا آئنہ ہم ...

مزید پڑھیے

اک اس کے در کے سوا اور میں کدھر جاتی

اک اس کے در کے سوا اور میں کدھر جاتی اسے پکارتے یہ زندگی گزر جاتی مجھے لگا تھا وہ میرے بغیر مر جاتا اسے لگا تھا میں اس کے بغیر مر جاتی مجھے تو عشق بھی پیارا تھا اور دنیا بھی جدا تھے راستے دونوں کے میں کدھر جاتی ہزاروں عیب ہیں مجھ میں مگر سنو تو سہی تمہارے پیار کی شدت میں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1208 سے 6203