رو رہا تھا میں بھری برسات تھی
رو رہا تھا میں بھری برسات تھی حال کیا کھلتا اندھیری رات تھی میرے نالوں سے ہے برہم باغباں یہ خفا ہونے کی کوئی بات تھی دن نہیں دیکھا سوائے شام ہجر زندگی بھر میں یہی اک رات تھی نالہ و آہ و فغاں سے بڑھ گئی ورنہ الفت اک ذرا سی بات تھی حشر تک لایا جہاں سے درد دل کس کو دیتا کیا کوئی ...