قومی زبان

رو رہا تھا میں بھری برسات تھی

رو رہا تھا میں بھری برسات تھی حال کیا کھلتا اندھیری رات تھی میرے نالوں سے ہے برہم باغباں یہ خفا ہونے کی کوئی بات تھی دن نہیں دیکھا سوائے شام ہجر زندگی بھر میں یہی اک رات تھی نالہ و آہ و فغاں سے بڑھ گئی ورنہ الفت اک ذرا سی بات تھی حشر تک لایا جہاں سے درد دل کس کو دیتا کیا کوئی ...

مزید پڑھیے

میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چل

میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چل خار ہیں پیراہن گل میں سنبھل کر راہ چل دور ہے ملک عدم اور تجھ میں دم باقی نہیں ہو سکے تو بس یوں ہی کروٹ بدل کر راہ چل طالب منزل ہے پھر عزلت نشینی کس لیے رہروؤں کو دیکھ لے گھر سے نکل کر راہ چل کوئے جاناں میں زمانہ ہو گیا روتے ہوئے تا کجا دل کا ...

مزید پڑھیے

آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا

آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا در مے خانہ تھا نقشہ تری انگڑائی کا ماسوا اس کے نہیں جس کا کوئی اور شریک کون بتلائے گا عالم مری تنہائی کا پاک دامانیٔ یوسف تھی زلیخا کی سزا راستہ چاک سے پیدا ہوا رسوائی کا سختیاں ہمت دل ہو تو بدل جاتی ہیں موت اک کھیل ہے لیکن ترے شیدائی کا ہم ...

مزید پڑھیے

میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے

میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے وگر نہ موت تو دنیا میں ہے سبھی کے لئے شب فراق کی روزانہ آفتیں توبہ یہ امتحان تو ہوتا کبھی کبھی کے لئے بہت سی عمر مٹا کر جسے بنایا تھا مکاں وہ جل گیا تھوڑی سی روشنی کے لئے وسیع بزم جہاں ہے تو ہو مجھے کیا کام جگہ ملی نہ مری حسرت دلی کے لئے یہ ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے آئیے حال دل مجروح سنیے دیکھیے کیا کہا زخموں نے کیوں ٹانکے صدا دینے لگے کس نظر سے آپ نے دیکھا دل مجروح کو زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے سننے والے رو دئیے سن کر مریض غم کا حال دیکھنے والے ترس کھا کر دعا ...

مزید پڑھیے

سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئی

سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئی تمام رات ہوئی درد میں کمی نہ ہوئی غرور حسن تمنائے دل کا دشمن تھا وہ کون دن تھا کہ جس دن ہماہمی نہ ہوئی امنڈ رہی ہے مرے دل کے ساتھ برسوں سے یہ کوئی نہر ہوئی آنکھ کی نمی نہ ہوئی میں اپنے قتل کا شاکی نہیں ہوا تو ہوا یہ رنج ہے کہ ترے ظلم میں کمی ...

مزید پڑھیے

ہزار پھول لیے موسم بہار آئے

ہزار پھول لیے موسم بہار آئے جو دل ہو سوکھ کے کانٹا تو کیا قرار آئے جواب لے کے پھری شکر نزع کی ہچکی وہ اب پکارتے ہیں ہم جنہیں پکار آئے سلجھ سکیں نہ مری مشکلیں مگر دیکھا الجھ گئے تھے جو گیسو انہیں سنوار آئے فلک کو دیکھ کے ہنستے یہ گل تو اچھا تھا جو ابر آئے وہ گلشن پہ اشک بار ...

مزید پڑھیے

دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے

دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے اک فقط موت کے آ جانے سے کیا ہوتا ہے ظلم سے ذکر وفا اور سوا ہوتا ہے ان کی ہر ایک برائی میں بھلا ہوتا ہے شہدا نعمت دنیا کی طلب بھول گئے خون کے گھونٹ میں ایسا ہی مزا ہوتا ہے خود فراموشی الفت ہے علاج غم دہر بے خبر ہوش میں آنا ہی برا ہوتا ہے امتحاں ...

مزید پڑھیے

کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیں

کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیں نام لوں کس کس کا مجھ کو ایک بیماری نہیں آگ کتنی لے کے نکلا تھا مرا دود جگر وہ فضا ہے کون جس میں کوئی چنگاری نہیں یاس سے کیوں دیکھتے ہیں دوست اے آزار دل پوچھتے ہیں کیا مجھے تو کوئی بیماری نہیں ہاتھ رکھ کر اک ذرا دیکھو تپ غم کا اثر یہ تمہارا ...

مزید پڑھیے

نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے

نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے زمانہ نام گزرنے کا ہے گزرتا ہے وہ میری جان کا دشمن سہی مگر صیاد مری کہی ہوئی باتوں پہ کان دھرتا ہے ہمیں ہیں وہ جو امید فنا پہ جیتے ہیں زمانہ زندگیٔ بے بقا پہ مرتا ہے ابھی ابھی در زنداں پہ کون کہتا تھا ادھر سے ہٹ کے چلو کوئی نالے کرتا ہے وہی سکوت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1207 سے 6203