قومی زبان

ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی

ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی گلوں کی بات چھڑی اور ان کو خار لگی بہت سنبھال کے ہم نے رکھے تھے پاؤں مگر جہاں تھے زخم وہیں چوٹ بار بار لگی قدم قدم پہ ہدایت ملی سفر میں ہمیں قدم قدم پہ ہمیں زندگی ادھار لگی نہیں تھی قدر کبھی میری حسرتوں کی اسے یہ اور بات کہ اب وہ بھی بے قرار ...

مزید پڑھیے

ابر نے چاند کی حفاظت کی

ابر نے چاند کی حفاظت کی چاند نے خود بھی خوب ہمت کی آج دریا بہت اداس لگا ایک کترے نے پھر بغاوت کی وہ پرندہ ہوا کو چھیڑ گیا اس نے کیا خوب یہ حماقت کی وقت منصف ہے فیصلہ دے گا اب ضرورت بھی کیا عدالت کی دھوپ کا دم نکل گیا آخر چھاؤں ہونے لگی ہے شدت کی

مزید پڑھیے

دن کئی دن چھپا رہا جیسے

دن کئی دن چھپا رہا جیسے کوئی اس کو ستا رہا جیسے صبح سورج کو نیند آنے لگی ابر چادر اڑھا رہا جیسے ایک آہٹ سی لگ رہی مجھ کو کوئی پیچھے سے آ رہا جیسے ہم مسافر ہیں ایک جنگل میں خوف رستہ دکھا رہا جیسے الجھا الجھا سا ایک چہرہ ہی سو فسانے سنا رہا جیسے قافلہ میرا بڑھ گیا آگے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کو ہم نے پلک پر یوں سجا رکھا

تمہاری یاد کو ہم نے پلک پر یوں سجا رکھا اندھیری رات میں ہر روز آنگن میں دیا رکھا لبوں سے گفتگو ہوتی تو کچھ شکوہ نہ ہو پاتا نظر سے جب سنا اس کو تبسم سے گلا رکھا گیا پردیس بیٹا جب بھی لے کر خواب سب اپنے تو پھر دن رات ماں نے اپنی آنکھوں کو کھلا رکھا دوالی عید میں اکثر کھلونے بیچتا ...

مزید پڑھیے

کرنی نہیں ہے دنیا میں اک دشمنی مجھے

کرنی نہیں ہے دنیا میں اک دشمنی مجھے کہتے ہیں سارے لوگ کبھی آدمی مجھے جاتی ہے گر تو جائیں یہ دنیا کی دولتیں بس رام آئی ہے تو فقط سادگی مجھے نظریں جھکائے بیٹھے رہے وہ بھی شرم سے راتوں کو پھر ستاتی رہی ان کہی مجھے سارے چراغ چھوڑ کے منزل پہ بڑھ چلا رستہ دکھا رہی ہے ابھی تیرگی ...

مزید پڑھیے

یہی پیشانی کہ جس پر کوئی سلوٹ بھی نہیں (ردیف .. ے)

یہی پیشانی کہ جس پر کوئی سلوٹ بھی نہیں یہی رفتار کہ جس میں کوئی آہٹ بھی نہیں ہاں یہی ہات جو اب تک مرے ہاتوں میں نہیں یہی انگشت کہ حیرت سے جو دانتوں میں نہیں یہی بے داغ سا چہرہ ہے جو تخیل میں تھا جیسے اک سادہ ورق بھی کوئی انجیل میں تھا یہی ملبوس جو اس تن پہ کہاں ٹھہرا ہے آئینے پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1209 سے 6203