قومی زبان

دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا

دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا یہ بھی چاہت کی ہے اک رسم نبھا کر جانا تم مجھے چھوڑ کے جاتے ہو تو جاؤ لیکن اپنے بھیجے ہوئے خط سارے جلا کر جانا کیا بتاؤں گا جدائی کا سبب لوگوں کو جو حقیقت ہے زمانہ کو بتا کر جانا تاکہ تنہائی سے گھبراؤں تو باتیں کر لوں اپنی تصویر کو کمرے میں لگا ...

مزید پڑھیے

کھیل دل کا عجیب ہوتا ہے

کھیل دل کا عجیب ہوتا ہے کون کس کے قریب ہوتا ہے پیار ملتا کسی کو رسوائی اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے کام آئے برے سمے میں جو وہ ہی سچا حبیب ہوتا ہے پیار ہے جس کے پاس وہ انساں اس جہاں میں غریب ہوتا ہے راز جس کو بتا دیا دل کا وہ ہی میرا رقیب ہوتا ہے

مزید پڑھیے

راہ میں جب مے خانہ پڑا ہے

راہ میں جب مے خانہ پڑا ہے دل کو بہت سمجھانا پڑا ہے گلشن گلشن آئے تھے لیکن صحرا صحرا جانا پڑا ہے خیر ہو یا رب ہوش و خرد کی راہ میں پھر مے خانہ پڑا ہے کل جو چھلکتا تھا محفل میں آج سر مے خانہ پڑا ہے کام نہ دوانہ پن آیا ہوش میں پھر سے آنا پڑا ہے گلشن میں روتے ہو سرنؔ کیوں رونے کو ...

مزید پڑھیے

شام جو دیکھی رات سمجھ لی

شام جو دیکھی رات سمجھ لی بنا بتائے بات سمجھ لی میں نے اپنی بات کہی تھی تم نے اپنی بات سمجھ لی ہٹ گیا طوفاں خود ہی پیچھے جب اپنی اوقات سمجھ لی دیکھتی رہ گئی آنکھیں شاید دل نے دل کی بات سمجھ لی کٹ گیا غم کیسے مت پوچھو بس اس کی سوغات سمجھ لی ہو گیا چپ کیوں رونے والا ہجر کی شاید ...

مزید پڑھیے

دامن تہیں کئے ہوئے سینہ ابھار کے

دامن تہیں کئے ہوئے سینہ ابھار کے جاتا ہے کوئی قرض گلستاں اتار کے پھولوں کا ہار رکھ دو گلے سے اتار کے دن لد گئے گلوں کے اب آئے ہیں خار کے خاموش ہو گیا کوئی آنکھیں پسار کے لمحے ہوئے نہ ختم ترے انتظار کے وہ کیا گئے کہ روح گلستاں نکل گئی آئی نہیں خزاں کہ گئے دن بہار کے ہر ایک گام پر ...

مزید پڑھیے

پہلے تھا اشک بار آج بھی ہے

پہلے تھا اشک بار آج بھی ہے دل میرا سوگوار آج بھی ہے میں نہیں ہوں کسی بھی لائق پر آپ کو اعتبار آج بھی ہے جو تھا پہلے وہی ہے رشتۂ دل پیار وہ بے شمار آج بھی ہے عشق آنکھیں بچھائے بیٹھا ہے آپ کا انتظار آج بھی ہے لاکھ دنیا نے توڑنا چاہا دل سے دل کا قرار آج بھی ہے

مزید پڑھیے

زندگی سے دور کب تک جاؤ گے

زندگی سے دور کب تک جاؤ گے کس طرح سچائی کو جھٹلاؤ گے سادگی اتنی میاں اچھی نہیں زندگی میں روز دھوکا کھاؤ گے تلخ یادیں دل سے مٹتی ہی نہیں زندگی میں چین کیسے پاؤ گے تم غموں کو مات دینا سیکھ لو اشک پیکر کب تلک غم کھاؤ گے اپنی کمزوری کو ظاہر مت کرو ورنہ ہر سودے میں گھاٹا کھاؤ گے

مزید پڑھیے

گزرے وقتوں کی وہ تحریر سنبھالے ہوئے ہیں

گزرے وقتوں کی وہ تحریر سنبھالے ہوئے ہیں دل کو بہلانے کی تدبیر سنبھالے ہوئے ہیں باندھ رکھا ہے ہمیں جس نے ابھی تک جاناں ہم محبت کی وہ زنجیر سنبھالے ہوئے ہیں دیکھتے رہتے ہیں اجداد کے چہرے جس میں ہم وفاؤں کی وہ تصویر سنبھالے ہوئے ہیں جن لکیروں میں نجومی نے کہا تھا تو ہے دونوں ...

مزید پڑھیے

ہر کہی ان کہی سمجھتا ہے

ہر کہی ان کہی سمجھتا ہے دل تری خامشی سمجھتا ہے چپ یوں ہی بے سبب نہیں رہتا وہ مری شاعری سمجھتا ہے دل کو الجھا نہ یوں سوالوں میں یہ تری سادگی سمجھتا ہے ہر کسی سے نہیں کیا کرتے بات کب ہر کوئی سمجھتا ہے میں سمجھتی ہوں جو تجھے ہمدم کیا مجھے تو وہی سمجھتا ہے روٹھتا ہی نہیں کسی ...

مزید پڑھیے

بیٹھے بیٹھے

میرا چہرہ تمہارا بن جاتا ہے تمہاری آنکھوں سے دیکھتی ہوں تمہارے ہونٹوں سے مسکراتی ہوں میں تم بن جاتی ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 1164 سے 6203