قومی زبان

یہ کیسا رائیگاں سا

انتظار سونپا ہے تم نے نہ کوئی حرف دل داری کہ جس کو دہراتے ہوئے سبھی پھیکے سے دن کاسنی بیلوں سے ڈھک جائیں نہ کوئی لمس کی اترن کہ جس کو اوڑھ کے میں شام کے پہلو میں بیٹھی تمہارے وصل کے کچھ خواب ہی کاڑھوں نہ کوئی بوسۂ امید میرے ماتھے پہ مہکا کہ جس کی لو میں میری نظمیں رات بھر رقص کرتی ...

مزید پڑھیے

نظم

تم آنکھیں کھولتے ہو تو تتلیوں کے پر مجھے چھو کر گزرتے ہیں کنول کے پھول دل کی جھیل میں ہلکورے لیتے ہیں تمہارے بازوؤں میں آسماں کی رفعتیں بسرام کرتی ہیں میں اپنے ادھ کھلے خوابوں کو ریشمی آواز دیتی ہوں خمار آلود مشک بار نظمیں میرے در پہ دستک سی دیتی ہیں

مزید پڑھیے

قرار جاں

تمہارے عارض و لب پہ نثار کتنے ہوں تمہارے فکر و جمال کے ہوں شیدائی تمہارے صندلی بوسے کسی رخ پہ مہرباں ہوں تمہارے بازوؤں کی پناہیں کسی کا حاصل ہوں تمہارے گیسوئے مشکبار کسی کی سانس مہکائیں تمہارے نقرئی لب لاکھ کیف چرائیں تمہارے دل پہ کسی کی مہر جگمگاتی ہو مگر اتنا تو ...

مزید پڑھیے

میں انسان ہوں

ہر رنگ میں خوب صورت ہر ڈھنگ میں بے مثال تم مجھے رنگ زاویے قد کاٹھ سے مت ماپو میرے دماغ کے روبرو آؤ میں تمہارے برابر نہیں تم سے بہتر ہوں میں عورت ہوں

مزید پڑھیے

نہیں چھوڑ سکتا میں روتا سمندر

نہیں چھوڑ سکتا میں روتا سمندر اگر میرا دشمن بھی ہوتا سمندر میں ہجرت جو کرتا کسی بھی جہاں میں تمام عمر آنکھوں سے ڈھوتا سمندر ترے ماتھے پر میں سجاتا ستارے تری آنکھوں میں بھی سموتا سمندر کہیں چاند تارے نہانے کو آتے کہیں بادلوں میں بھگوتا سمندر اسے جاگنے کی سزا مل رہی ہے نہیں ...

مزید پڑھیے

اس کی آنکھ میں ایسا خواب اتارا ہے

اس کی آنکھ میں ایسا خواب اتارا ہے جس کے اندر میرا جیون سارا ہے سچ پوچھو تو جیون ہم کو جیتا ہے اس جیون کو ہم نے کہاں گزارا ہے کمرے میں ہے روشنی تیرے بالوں سے بالوں میں جو پھول ہے ایک ستارا ہے لفظوں سے خوشبو سی آنے لگتی ہے ناچتے ہیں وہ لفظ کہ جنہیں پکارا ہے دھرتی سے امبر تک دوڑ ...

مزید پڑھیے

اک زمانہ گزر گیا ہے مجھے (ردیف .. ا)

اک زمانہ گزر گیا ہے مجھے اک خدا نے گلے لگایا تھا جو مرے ساتھ چلا آیا تھا تیری آواز کا ہی سایا تھا میں نے آواز دوبارہ دی ہے شاید اک بار سن نہ پایا تھا تیری پیشانی کے ستارے کو دل مرا چومنے کو آیا تھا ایک زنجیر کھولنی ہوگی ایک پاؤں اگر اٹھایا تھا ایک خوشبو مجھے بلاتی ہے اک تمنا ...

مزید پڑھیے

دیکھ لو ضد پہ اڑا ہے اب تک

دیکھ لو ضد پہ اڑا ہے اب تک دل ترے ساتھ کھڑا ہے اب تک کوئی ہے کھینچ نکالے اس کو درد سینے میں گڑا ہے اب تک خواب میں بھی نہ دکھائی دے تو ہائے کیا قحط پڑا ہے اب تک کوئی صورت ہو دکھائی تو دے تو کہ آنکھوں میں جڑا ہے اب تک وہ جہاں تو نے مجھے چھوڑا تھا اس جگہ پیڑ کھڑا ہے اب تک

مزید پڑھیے

میں تری بات چنبیلی سے کروں

میں تری بات چنبیلی سے کروں شعر کہہ دوں کہ پہیلی سے کروں ایسی طاری ہے اداسی اب کہ کب ترا ذکر سہیلی سے کروں آنکھ میں بھیگتا ہے کاجل بھی رنگ جو ماند ہتھیلی سے کروں لوٹ آتی ہے ترے نام کی گونج جوں صدا بند حویلی سے کروں دن سے کچھ دوستی نہیں میری بات میں رات اکیلی سے کروں

مزید پڑھیے

رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیے

رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیے میرا بھی ایک بار کہا مان جائیے کہتا ہر ایک ہے تری تصویر دیکھ کر اس شکل اس شبیہ کے قربان جائیے مجھ کو پلا کے بزم میں کہنے لگے وہ آج بس جائیے یہاں سے مری جان جائیے سنبل نے آج نرگس حیراں سے یہ کہا جب جائیے چمن میں پریشان جائیے میں نے کہا یہ ان سے جب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1165 سے 6203