قومی زبان

وہ آ گئے ہیں بغض کا جذبہ لیے ہوئے

وہ آ گئے ہیں بغض کا جذبہ لیے ہوئے ہم سے مصالحت کا ارادہ لیے ہوئے ہے سامنے فقیر کے شاہوں کا ایسا حال ثروت کھڑی ہے ہاتھ میں کاسہ لیے ہوئے ہم ڈھونڈتے ہیں رہبر کامل کو ہند میں حسن عمل کا قلب میں جذبہ لیے ہوئے ہیں خشک سالیاں کہیں جانوں میں اک وبال بارش کہیں ہے قہر کا نقشہ لیے ...

مزید پڑھیے

زمیں کی بات ہے دل میں مگر امبر نکلتا ہے

زمیں کی بات ہے دل میں مگر امبر نکلتا ہے سبھی دریا کے دل میں آج کل ساگر نکلتا ہے زباں پر تیاگ کی باتیں مگر پیسے کے لوبھی ہیں ہماری جیب سے کاغذ قلم اکثر نکلتا ہے ہمیشہ دل میں رہتی ہے زمانے بھر کی کڑواہٹ مگر جب گھر سے چلتا ہے سدا ہنس کر نکلتا ہے یہاں پر آنکھ کا دیکھا ہمیشہ سچ نہیں ...

مزید پڑھیے

دوسروں کے واسطے بد حال رہ کر کیا ملا

دوسروں کے واسطے بد حال رہ کر کیا ملا غم چھپا کر عمر بھر خوش حال رہ کر کیا ملا صرف لوگوں کو ہنسی آئی مرے حالات پر کیا بتائیں بے سبب کنگال رہ کر کیا ملا بے سہارا ان پرندوں کا ٹھکانہ پیٹھ پر آپ کیا سمجھیں گے مجھ کو ڈال رہ کر کیا ملا نیہ کی پچکاریوں کے ساتھ میں آشیش بھی میں سمجھ ...

مزید پڑھیے

زخم گہرے تھے بھلا کیسے مداوا کرتے

زخم گہرے تھے بھلا کیسے مداوا کرتے کچھ نہ ہوتا جو اگر خود کا تماشا کرتے جھوٹ ہی ہوتا مگر خواب تو ہوتا کوئی وہ ہمارا ہے سر راہ دکھاوا کرتے بات بے بات وہ رکھے تو بھرم چاہت کا ہم بھی خاموش کوئی ترک تمنا کرتے میری ان آنکھوں میں جگنو سے چمکتے ہیں کئی خواب آتے ہیں مرا نیند میں پیچھا ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں خود کو کیوں برباد کرتے رہ گئے

کیا بتائیں خود کو کیوں برباد کرتے رہ گئے عمر بھر اک شخص کی امداد کرتے رہ گئے چند غزلیں لکھ کے ان کو شہرتیں حاصل ہوئیں اور ہم بس درد کا انوواد کرتے رہ گئے راستے بالکل غلط پھر بھی انہیں منزل ملی ہم سہی رستوں کو ہی ایجاد کرتے رہ گئے دیکھیے مالی نے پھولوں کو مسل کر رکھ دیا اور ہم اک ...

مزید پڑھیے

گوتم کے لئے نظم

رشی منی و گیانی گیان سرت کی گیدڑ سنگھی مل جائے تو مجھے بتانا اسے بتانا اسے بتانا سب کو بتانا میری آنکھیں تو تیری دہلیز کے باہر جانے کب سے لٹک رہی ہیں لوٹ کے آنا رشی منی و گیانی سارے درختوں پر چیلوں کی کالی دہشت منڈلاتی ہے اور جڑوں میں سانپ اگے ہیں ہاں بودھی کا پیڑ کہیں مل جائے تو ...

مزید پڑھیے

ڈھول کا پول

میں ہی میں ہوں اور میری اس میں میں کی ممیاہٹ میں اپنے نہ ہونے کے خوف کی جھنجھلاہٹ ہے سمجھ گئے نا آپس ہی کی بات ورنہ ''الف'' سے ''ی'' تک میں میں کی گردان ہی میری ٹیس ہے یہ کیا آپ بھی بھولے باچھا ہیں میں نے کہا نا مجھے نہ ڈھونڈیں ایسی فضول تلاش کا مقصد میرے اندر تو مت جھانکیں ہاں باہر سے ...

مزید پڑھیے

استعارے ڈھونڈتا رہتا ہوں

استعارے ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں دھوپ میں اڑتی سنہری دھول کے بھید ست رنگی طلسمی پھول کے جانے کس کے پاؤں کی مدھم دھمک دھیان کی دہلیز پر سنتا ہوں میں استعارے ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں جانے کس رنگت کو چھو کر شہر میں آتی ہے شام بھول جاتا ہوں گھروں کے راستے لوگوں کے نام ایک ان دیکھے نگر کا ...

مزید پڑھیے

ایک ڈبہ شاعر کے لئے نظم

چھوڑ دے یار اب کھیل تماشے دیکھ سوانگ رچاتے اپنا اصلی چہرہ کھو بیٹھے گا اپنے آپ سے جو اک رسمی سا رشتہ ہے ہاتھ اس سے بھی دھو بیٹھے گا چھوڑ دے جھوٹی شہوت کے مصنوعی دعوے عشق و محبت کے یہ جعلی نعرے لذت بھرے تلازموں کے بازاری نطفہ جناتی تشبیہوں میں ان چھوٹی چھوٹی کمینگیوں کے گراتے ...

مزید پڑھیے

میری خواہش کا بستر سلگتا رہا

میری خواہش کا بستر سلگتا رہا ہجر میں وقت اکثر سلگتا رہا پھول مقتول کے ہاتھ میں دیکھ کر دست قاتل پہ خنجر سلگتا رہا مہرباں تھے تماشائیوں کی طرح میرے خوابوں کا دفتر سلگتا رہا تیز کرنوں کی زد میں تھا ہر ایک شعر یوں تخیل کا خاور سلگتا رہا میکدہ تھا بغیر ان کے ویران سا یاد میں ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1134 سے 6203