قومی زبان

تیرے لئے ایجاد ہوا تھا لفظ جو ہے رعنائی کا

تیرے لئے ایجاد ہوا تھا لفظ جو ہے رعنائی کا سر سے لے کر ناخن پا تک عالم ہے زیبائی کا دل کی ویرانی نے اتنا ذوق سماعت بدلا ہے غم کی لے میں ڈھل جاتا ہے نغمہ خود شہنائی کا چاروں طرف سیلاب آدم پھر بھی اکیلا ہوں جیسے دھیرے دھیرے کھا جائے گا زہر مجھے تنہائی کا حسن کے کاشانہ میں آ کر سر ...

مزید پڑھیے

خوشی میں دل کے داغ کو جلا جلا کے پی گیا

خوشی میں دل کے داغ کو جلا جلا کے پی گیا ہوس کی تیز آنچ کو بجھا بجھا کے پی گیا نظر کے ساگروں میں جو بھری تھی تو نے ارغواں تری حسین آنکھ سے چرا چرا کے پی گیا نصیحتوں کے درمیاں جو تک رہی تھی جام کو اسی نگاہ بد سے میں بچا بچا کے پی گیا ملی جو تیرے ہاتھ سے تو ہو گیا نشہ دو چند رقیب رو ...

مزید پڑھیے

تیری ناراضگی فصل خزاں ہے

تیری ناراضگی فصل خزاں ہے رفاقت گلستاں ہی گلستاں ہے ہوئی ہے وار پر جس کی سماعت حدیث عشق ایسی داستاں ہے یقیناً انقلاب آیا ہے کوئی ہمارا ذکر اور ان کی زباں ہے غموں کا زنگ جو دل سے مٹا دے وہ دل کش آپ کا طرز بیاں ہے مجھے موج حوادث کا نہیں ڈر سفینہ کی مرے ہمت جواں ہے وطن کے رہنما سے ...

مزید پڑھیے

لگا مجنوں کو زہر عشق کیا آب بقا ہو کر

لگا مجنوں کو زہر عشق کیا آب بقا ہو کر وہ زندہ ہو گیا گویا محبت میں فنا ہو کر بنے تھے میہماں آغاز الفت میں مرے دل میں مکین مستقل اب بن گئے شیریں ادا ہو کر مٹاتے جو رہے مجھ کو مجسم ظلم بن بن کر انہیں کے دل پہ میں ابھرا کیا نقش وفا ہو کر انہیں کو جلوہ ریزی بن گئی تھی چاندنی غم کی افق ...

مزید پڑھیے

پاؤں سے لپٹتی ہے کس کے خواب کی دنیا

پاؤں سے لپٹتی ہے کس کے خواب کی دنیا کیوں مجھے بلاتی ہے پھر گلاب کی دنیا اپنی خوش نصیبی ہیں خود کو روک رکھے ہیں ورنہ کھینچ لیتی ہے یہ شراب کی دنیا کھو دیا ہے کیا ہم نے اور کیا ملا ہم کو کیوں حساب میں رکھیں بے حساب کی دنیا جو پڑھا لکھا ہم نے وہ نظر نہیں آیا کتنی بے مروت ہے یہ کتاب ...

مزید پڑھیے

ہمارا کیا ہمارے واسطے سو در ٹھکانے ہیں

ہمارا کیا ہمارے واسطے سو در ٹھکانے ہیں کسی سے دور جانے کے بہت سارے بہانے ہیں گزرتے وقت کے مانند تنہا چھوڑنے والے چلے جاؤ مجھے بھی اب تمہارے خط جلانے ہیں ہمارے بیچ کی دوری کبھی کم ہو نہیں سکتی تری خوشیاں ہیں کل کی اور میرے غم پرانے ہیں کوئی ایسا ہو پیمانہ جو ماپے آدمیت کو یہاں ...

مزید پڑھیے

بچھڑتے وقت یہ کیا کر رہا ہے

بچھڑتے وقت یہ کیا کر رہا ہے میں اس کا ہوں یہ دعویٰ کر رہا ہے زمانے میں جو دریا کر نہ پایا وہ سارے کام قطرہ کر رہا ہے دل نادان تجھ کو کیا کہوں تو اسی کی پھر تمنا کر رہا ہے رہا نروستر شب بھر خواہشوں سا سحر ہوتے ہی پردہ کر رہا ہے اسی کا نام ہونٹوں تک نہ آیا جو سب سے میری چرچا کر رہا ...

مزید پڑھیے

میرے اندر صرف میں تھا دوسرا کوئی نہ تھا

میرے اندر صرف میں تھا دوسرا کوئی نہ تھا شور اتنا تیز تھا پر بولتا کوئی نہ تھا آنکھ روئی ہیں بہت دنیا کی حالت دیکھ کر یوں تو لوگوں سے ہمارا واسطہ کوئی نہ تھا ایسی دنیا میں مجھے اک عمر تک رہنا پڑا آنکھ تھی سب کی وہاں پر دیکھتا کوئی نہ تھا پستکوں میں عمر گزری بال بھی چاندی ...

مزید پڑھیے

کوئی باقی میرے دل میں کہیں ارمان ہوگا کیا

کوئی باقی میرے دل میں کہیں ارمان ہوگا کیا اداسی کے سوا میرا کوئی پریدھان ہوگا کیا تمہاری منزلیں ہیں تم نے خود مشکل بڑھائی ہے کسی کے ساتھ چلنے سے سفر آسان ہوگا کیا نہ چڑیوں کی کوئی آہٹ نہ جھونکے ہی ہوا کے ہیں بہت لگتا ہے ڈر مجھ کو نگر ویران ہوگا کیا کئی ارمان مجھ میں توڑ کر دم ...

مزید پڑھیے

پاتے رہے یہ فیض تری بے رخی سے ہم

پاتے رہے یہ فیض تری بے رخی سے ہم گویا کہ دور ہوتے رہے زندگی سے ہم غم دائمی ہے اور خوشی عارضی سی چیز اس واسطے قریب نہیں ہیں خوشی سے ہم محسوس تم سے مل کے ہوا ہم کو پہلی بار ہیں ہمکنار آج مجسم خوشی سے ہم اک دور تھا لکھا تھا مرے دل پہ تیرا نام ہیں آج تیری بزم میں اک اجنبی سے ہم جلنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1133 سے 6203