تیرے لئے ایجاد ہوا تھا لفظ جو ہے رعنائی کا
تیرے لئے ایجاد ہوا تھا لفظ جو ہے رعنائی کا سر سے لے کر ناخن پا تک عالم ہے زیبائی کا دل کی ویرانی نے اتنا ذوق سماعت بدلا ہے غم کی لے میں ڈھل جاتا ہے نغمہ خود شہنائی کا چاروں طرف سیلاب آدم پھر بھی اکیلا ہوں جیسے دھیرے دھیرے کھا جائے گا زہر مجھے تنہائی کا حسن کے کاشانہ میں آ کر سر ...