ان کی سنجیدگی سے کبر جہاں ٹوٹ گیا
ان کی سنجیدگی سے کبر جہاں ٹوٹ گیا شر کی پسپائی ہوئی زور سناں ٹوٹ گیا باغ میں چھاتے ہی تاریک خزاں کا موسم چہرۂ گل سے تبسم کا سماں ٹوٹ گیا ان کے جلوے کی ذرا دیکھو اثر انگیزی ان کی آمد ہوئی اور شہر بتاں ٹوٹ گیا تم تو ایقان کی سیڑھی پہ چڑھانے سے رہے کیسے کہتے ہو کہ امکان گماں ٹوٹ ...