قومی زبان

ان کی سنجیدگی سے کبر جہاں ٹوٹ گیا

ان کی سنجیدگی سے کبر جہاں ٹوٹ گیا شر کی پسپائی ہوئی زور سناں ٹوٹ گیا باغ میں چھاتے ہی تاریک خزاں کا موسم چہرۂ گل سے تبسم کا سماں ٹوٹ گیا ان کے جلوے کی ذرا دیکھو اثر انگیزی ان کی آمد ہوئی اور شہر بتاں ٹوٹ گیا تم تو ایقان کی سیڑھی پہ چڑھانے سے رہے کیسے کہتے ہو کہ امکان گماں ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

نظم

تم کس خواہش کی مستی میں میرے دکھوں کو اپنے دلاسوں کی جھولی میں ڈال سکو گے جھوٹے دلاسوں کی یہ جھولی میرے تند دکھوں سے چھلنی ہو جائے گی اور تیرے یہ لوے لوے ہاتھوں کی ڈھارس نفرت سے کمھلا جائے گی کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کندن میں میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے تیرے بدن کے ان جیتے ...

مزید پڑھیے

وہ مر چکا ہے

وہ جس کے رستے پہ بال کھولے نگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیں وہ مر چکا ہے وہ مر چکا ہے کہ جس کی خاطر نگر کی نو عمر لڑکیوں نے بدن کی خوش رنگ زینتوں کو چھپا کے رکھا جنہوں نے بیتاب حدتوں کو بدن کی پھٹ پڑتی شدتوں کو سنبھالے رکھا جنہوں نے آنکھوں کے نم کو شرم و حیا کے آنچل کی اوٹ ڈھانپا وہ مر چکا ...

مزید پڑھیے

سرخ اناروں کے موسم میں

سرخ اناروں کے موسم میں ریشم کے ملبوس سے پھوٹا عریانی کی دھوپ کا جھرنا آئینے میں گردن کے گلدان سے نکلا پھول سا چہرہ آہستہ سے گندھے ہوے بالوں کی ڈالی گر کے گھاٹ پہ جھک جاتی ہے اک لمحے کو ہر شے جیسے رک جاتی ہے پلک جھپکتے آئینے میں اک خونی ڈائن کا عکس ابھر آتا ہے چھت پر اک فانوس کی ...

مزید پڑھیے

ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے

بد دعا ہے ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے گھروں میں اترتی اذانوں میں حکم سزا ہے سنو بد دعا ہے ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے سنو ہم نے شب بھر اسے یاد رکھا اندھیرے کی دیوار کے سرد سینے سے لگ کر اسے اپنے دل کے افق سے صدا دی کبھی اپنی سانسوں کے دکھ میں پکارا دلاسوں کی دہلیز ...

مزید پڑھیے

تیرے جوبن کے موسم میں

او مٹیالی! تیرے جسم کی سوندھی خوشبو روئیں روئیں میں سانولی رت بیدار کرے دل کی اور سے گہری گھور گھٹائیں امڈیں اور میرے یہ پیاسے ہونٹ تیرے سینے کے پیالوں میں تیرتے انگوروں کے رس کے لمس میں بھیگیں تیری ہری بھری سانسوں کی مشک نچوڑیں او مٹیالی تیرے جوبن کے موسم میں دل کے اندر غیبی ...

مزید پڑھیے

محبوبہ کے لئے آخری نظم

پہلے جتنی باتیں تھیں وہ تم سے تھیں تیرے ہی نام کی ایک ردیف سے سارے قافیے بنتے اور بگڑتے تھے میں اپنے اندھے ہاتھوں سے تیرے جسم کے پراسرار زمانوں کی تحریریں پڑھ لیتا تھا اور پھر اچھی اچھی نظمیں گھڑ لیتا تھا تو بھی تو کاغذ کے پھولوں کی مانند ہر موسم میں کھل جاتی تھی اور میں ہجر و ...

مزید پڑھیے

کون ہے کس نے پکارا ہے صدا کیسے ہوئی

کون ہے کس نے پکارا ہے صدا کیسے ہوئی یہ کرن تاریکئ شب سے رہا کیسے ہوئی ایک اک پل میں اتر کر سوچتا رہتا ہوں میں نور کس کا ہے مرے خوں میں ضیا کیسے ہوئی خواہشیں آئیں کہاں سے کیوں اچھلتا ہے لہو رت ہری کیونکر ہوئی پاگل ہوا کیسے ہوئی اس کے جانے کا یقیں تو ہے مگر الجھن میں ہوں پھول کے ...

مزید پڑھیے

دم جنوں کی حد انتہا پہ ٹھہرا ہے

دم جنوں کی حد انتہا پہ ٹھہرا ہے یہ میرا دل ہے ابھی ابتدا پہ ٹھہرا ہے اسی کے لمس سے آب و ہوا بدلتی ہے تمام منظر جاں اک ادا پہ ٹھہرا ہے کنار کن سے پرے ہے کہیں وجود اپنا یہ کارواں تو غبار صدا پہ ٹھہرا ہے کچھ اور دیر نمائش ہے شور و شر کی یہاں یہ اک حباب ہے موج فنا پہ ٹھہرا ہے شعاع صبح ...

مزید پڑھیے

ہاں میری محبوبہ

تو نہ تو کوئی بھید ہے اور نہ ہی بھید بھری تھیلی کا چھٹا ہوا کوئی عین محبوبہ ہاں میری محبوبہ تیرا نام پتہ اور شجرۂ نسب تو جانتے ہیں ہم اندر باہر ظاہر باطن دونوں سمت ہی آنے جانے والے ہیں ہم تیرے گھر کے بھیدی ہیں او بھیدن باری کبھی حقیقی کبھی مجازی طرح طرح سے تیرے عام سے جسم کی لذت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1135 سے 6203