قومی زبان

لیلیٰ کا اگر مجھ کو کردار ملا ہوتا

لیلیٰ کا اگر مجھ کو کردار ملا ہوتا مجنوں سا کہانی کو آدھار ملا ہوتا صحرا میں نکل جاتا دریا بھی سرابوں سے گر کلپنا کو میری آکار ملا ہوتا پل بھر کی محبت میں جاں تک بھی میں دے دیتی افسوس نہیں ہوتا گر پیار ملا ہوتا ہوتی نہ مہابھارت یا کوئی بغاوت پھر حق دار کو جو اس کا ادھیکار ملا ...

مزید پڑھیے

دیکھ تاریخ کے خزانے میں

دیکھ تاریخ کے خزانے میں ہے مرا ذکر ہر زمانے میں یوں بھی عمریں قلیل ہوتی ہیں کیوں گنواتے ہو آزمانے میں اس کی قسطیں چکانی پڑتی ہیں کچھ نہیں لگتا دل لگانے میں ایک لمحے میں کھو نہ دینا اسے لگ گئی عمر جس کو پانے میں ڈال دیں گے خلوص کی چادر اور کیا ہے غریب خانے میں غم نہ کیجے کہ ہم ...

مزید پڑھیے

اس سمت تو ماحول ہے پہلے سے ہی بگڑا ہوا

اس سمت تو ماحول ہے پہلے سے ہی بگڑا ہوا اے آتشیں طوفان تیرا کیوں ادھر آنا ہوا وعدہ تھا اس کا وہ نہ آیا ہاں مگر ایسا ہوا اک پھول ساحل پر نظر آیا مجھے رکھا ہوا کس نے قدم رکھے یہاں کس کا ادھر پھیرا ہوا خوشبو سے کس کے جسم کی گھر ہے مرا مہکا ہوا اک ابر کے ٹکڑے نے میرے سر پہ کھینچا ...

مزید پڑھیے

ہم سفر اب مرے پہلو میں مرا دل نہ رہا

ہم سفر اب مرے پہلو میں مرا دل نہ رہا جس میں تو گرم سفر تھا وہی محمل نہ رہا کس کی امید پہ لڑتا پھروں طوفانوں سے منتظر اب مرا کوئی لب ساحل نہ رہا جس پہ مر مر کے ہمیں ڈھنگ سے جینا آیا کیا کریں اب سر مقتل وہی قاتل نہ رہا اب خیالات کی محفل بھی نہیں سج پاتی دل تنہا میں کوئی رونق محفل نہ ...

مزید پڑھیے

فتح پانے کی نئی راہ نکالی اس نے

فتح پانے کی نئی راہ نکالی اس نے میرا سر مانگ لیا بن کے سوالی اس نے اپنی ہی ذات کے گلشن میں کیا آ کے قیام بھول کر وادیٔ کشمیر و منالی اس نے قرب مانگا تو دیا ہجر جو مانگا تو دیا جو کہا میں نے کوئی بات نہ ٹالی اس نے میں سمجھتا تھا یوں ہی ہوگا ہنر اس کا مگر بے مثالی کی بھی تصویر بنا لی ...

مزید پڑھیے

سنبھالتا ہے ترا دست معتبر مجھ کو

سنبھالتا ہے ترا دست معتبر مجھ کو تو کس لیے ہو کوئی خوف یا خطر مجھ کو بس ایک بار تری جستجو میں نکلا تھا پھر اس کے بعد نہ اپنی ملی خبر مجھ کو وہ اک مکان جو پرچھائیوں کا مسکن ہے وہی بلاتا ہے مدت سے رات بھر مجھ کو کھلا یہی کہ ہے وہ زرد موسموں کا نقیب جو لگ رہا تھا بہاروں کا نامہ بر ...

مزید پڑھیے

آئنہ عہد گذشتہ کا بچا رہ گیا ہے

آئنہ عہد گذشتہ کا بچا رہ گیا ہے طاق نسیاں پہ ابھی ایک دیا رہ گیا ہے کھڑکیاں سو گئیں خاموش ہوئے سارے چراغ اک دریچہ مگر اس گھر کا کھلا رہ گیا ہے اے ہوا اب تو نہ کر آگ اگلنے کا عمل شاخ پر بس یہی اک پتا ہرا رہ گیا ہے کہیں ٹھوکر سے کوئی زخم نہ آ جائے تجھے دل ہمارا ترے قدموں میں پڑا رہ ...

مزید پڑھیے

رائیگاں عشق کا انجام کہاں ہوتا ہے

رائیگاں عشق کا انجام کہاں ہوتا ہے اب مرا غم ترے چہرے سے عیاں ہوتا ہے آج منہ موڑ کے جانے لگیں یادیں اس کی آج تاراج مرا کوچۂ جاں ہوتا ہے گردش وقت غلط نکلا ترا اندازہ ٹھوکریں کھا کے مرا عزم جواں ہوتا ہے ٹیس جب دل میں ابھرتی ہے تری یادوں کی تب کہیں اپنے بھی ہونے کا گماں ہوتا ہے اے ...

مزید پڑھیے

کالی ہوا چلی گئی رنگ زیاں اچھال کے

کالی ہوا چلی گئی رنگ زیاں اچھال کے میرے دیار میں گلو رکھنا قدم سنبھال کے باد سحر خموش تھی جاگتی تھیں سماعتیں میرے لبوں پہ رقص میں حرف تھے عرض حال کے چشم دریچے شوق کے بند کیے گئے سبھی اور ہٹا دیے گئے پردے در خیال کے موج شمیم اس لیے چوم رہی ہے گرد راہ وہ بھی مسافروں میں ہے قافلۂ ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا دور یہ کیسی صدی ہے

یہ کیسا دور یہ کیسی صدی ہے جدھر دیکھو ہجوم بے دلی ہے بس اتنی سی ہماری زندگی ہے سویرا آ گیا رات آ رہی ہے وہی شب ہے وہی بارہ دری ہے چلا آ تو کہ بس تیری کمی ہے چراغوں نے نہ جانے کہہ دیا کیا ہوا دہلیز پر ٹھہری ہوئی ہے سحر دم قتل ہو جائے گا سورج تبھی یہ رات بھی سہمی ہوئی ہے چلو اس پیڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1112 سے 6203