پیہم جل میں رہتی ہوں
پیہم جل میں رہتی ہوں پھر بھی سوکھی سوکھی ہوں دامن ایسا پھاڑا ہے ناخونوں سے سہمی ہوں نبھ میں لاکھوں تارے ہیں اک تارے سی میں بھی ہوں تانا ٹوٹا ہے من کا بانا پکڑے بیٹھی ہوں کچھوا ہے مجھ میں سیماؔ ہولے ہولے چلتی ہوں
پیہم جل میں رہتی ہوں پھر بھی سوکھی سوکھی ہوں دامن ایسا پھاڑا ہے ناخونوں سے سہمی ہوں نبھ میں لاکھوں تارے ہیں اک تارے سی میں بھی ہوں تانا ٹوٹا ہے من کا بانا پکڑے بیٹھی ہوں کچھوا ہے مجھ میں سیماؔ ہولے ہولے چلتی ہوں
چاند خود کو دیکھ کر شرمائے گا بادلوں کی اوٹ میں چھپ جائے گا یوں اداسی میں نہ تو اس کو گزار عمر بھر اس شام کو پچھتائے گا آنکھ کھلتے ہی وہ ڈھونڈھے گا مجھے خواب ایسا اس کو میرا آئے گا چل تو کتنا بھی سلیقے سے مگر راستوں میں ٹھوکریں تو کھائے گا روندتا ہے آج جو اس خاک کو ایک دن وہ خاک ...
ضرور وقت ہی کچھ چال چل رہا ہوگا وہی بساط پہ مہرے بدل رہا ہوگا اتر رہا ہے سبھی راستوں سے اک دریا پہاڑ برف کا کوئی پگھل رہا ہوگا اسے کھلونے دئے تھے کسی نے بچپن کے وہ ایک پاؤں پہ اب بھی اچھل رہا ہوگا لباس اپنا بدل آیا تھا بہت پہلے وہ اب تو شکل ہی اپنی بدل رہا ہوگا نہیں ہے اور کسی ...
سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں پیڑوں کی چھاؤں کا ہی سہارا ہے ان دنوں ہم کو بھی دل کے درد نے مارا ہے ان دنوں درد جگر غزل میں اتارا ہے ان دنوں احساس برف برف ہیں دل کی زمین پر یادوں کی دھوپ کا ہی سہارا ہے ان دنوں سوکھے بدن کی خاک پہ غم کی پھوار تھی یہ ہی سبب ہے جسم میں گارا ہے ...
پوچھ مت کل آئنہ میں کیا ہوا اپنے زندہ ہونے کا دھوکہ ہوا روز سورج ڈوبتا اگتا ہوا وقت کی اک کیل پر لٹکا ہوا آ گیا لے کر ادھاری روشنی چاند نے سورج کو ہے پہنا ہوا تشنگی اپنی بجھائیں کیسے ہم جو سمندر تھا وہ اب صحرا ہوا شہر سے جب بھی یہ دل اکتا گیا دشت کی جانب مرا جانا ہوا خوبیاں ...
ٹھٹھک گیا مہ نو جھیل میں اترتے ہوئے تو ہم نے دیکھا ہے آب رواں ٹھہرتے ہوئے قصیدہ گوئی خد و خال کی نظارے کریں وہ آئنے سے کرے گفتگو سنورتے ہوئے نہ ارد گرد کا کچھ ہوش تھا نہ خود اپنا عجیب حال تھا خوشبو سے بات کرتے ہوئے پھر اس کے بعد سمٹنے کی آرزو نہ رہی کچھ ایسا لطف ملا ٹوٹتے بکھرتے ...
جب تلک عشق کا افسانہ مکمل ہوگا ایک طوفان بپا ذہن میں ہر پل ہوگا دل دھڑکنے کی صدا اتنی کہاں ہوتی ہے پاس ہی شور مچاتا کوئی پاگل ہوگا اتنا آسان نہیں دشت تمنا کا سفر کہیں دریا تو کوئی راستہ دلدل ہوگا تشنگی دشت کی صورت ہے لبوں پر بیٹھی کب ترا ہاتھ مرے واسطے چھاگل ہوگا منزل درد سے ...
آندھیوں سے ہیں رابطے اس کے جل رہے ہیں سبھی دیے اس کے خوشبوئیں کر رہی ہیں اس کا طواف باغ سب ہیں ہرے بھرے اس کے وہ سراپا ہے آفتاب جمال کون ٹھہرے گا سامنے اس کے مجھ سے پہچانتے ہیں لوگ اس کو عکس میرے ہیں آئنے اس کے میں کتاب اس کی زندگی کی ہوں مجھ میں روشن ہیں حاشیے اس کے شب کے ...
موسم گل نہ بہاروں کا سخن یاد آئے مجھ کو اے ماہ ترے رخ کی پھبن یاد آئے سیر گلشن کے لیے وہ نہ کہیں نکلے ہوں کس لیے آج مجھے سرو و سمن یاد آئے جب شفق دیکھوں تو یاد آتے ہیں عارض اس کے چاند کو دیکھتے ہی اس کا بدن یاد آئے بجھ گیا دل بھی مرے گھر کے چراغوں کی طرح خاک ایسے میں کوئی غنچہ دہن ...
سنی نہ دشت یا دریا کی بھی کبھی میں نے کہ بے خودی میں گزاری ہے زندگی میں نے بتائی موت کے سائے میں زندگی اپنی بنا ہی زہر کے کر لی ہے خودکشی میں نے ندی ہو تال سمندر یا دشت ہو کوئی سبھی کے لب پہ ہی دیکھی ہے تشنگی میں نے کبھی تو میرا کہا مان زندگی میری تری خوشی میں ہی پائی ہے ہر خوشی ...