ہر فصیل راہ کو زیر و زبر کرتے ہوئے
ہر فصیل راہ کو زیر و زبر کرتے ہوئے میں یہاں پہنچا ہوں قرنوں کا سفر کرتے ہوئے تشنگی اب تک نہ سیرابی کی منزل پا سکی زندگی گزری طواف بام و در کرتے ہوئے بول اے باد خزاں کیوں آ گیا اتنا جلال کچھ نہ سوچا باغ کو زیر و زبر کرتے ہوئے جسم سارا بن گیا خونیں قبا کا آئنہ خار زار زندگی کو رہ ...