قومی زبان

ہر فصیل راہ کو زیر و زبر کرتے ہوئے

ہر فصیل راہ کو زیر و زبر کرتے ہوئے میں یہاں پہنچا ہوں قرنوں کا سفر کرتے ہوئے تشنگی اب تک نہ سیرابی کی منزل پا سکی زندگی گزری طواف بام و در کرتے ہوئے بول اے باد خزاں کیوں آ گیا اتنا جلال کچھ نہ سوچا باغ کو زیر و زبر کرتے ہوئے جسم سارا بن گیا خونیں قبا کا آئنہ خار زار زندگی کو رہ ...

مزید پڑھیے

منہ دیکھا کیے ہم آئنے کا

منہ دیکھا کیے ہم آئنے کا حاصل ہے یہی تو رت جگے کا آئیں جو پہاڑ بھی تو کیا غم راہی ہوں ہوا کے راستے کا دل ہے مرا خانقاہ میری میں میر ہوں اپنے سلسلے کا کیا اب ہے ہنر وری میں رکھا یہ دور ہے دھن کا اور گلے کا بیٹھے ہیں سراب ہر قدم پر ممکن نہیں بچنا قافلے کا ہیں ساری جہات دسترس ...

مزید پڑھیے

لہو بولتا ہے 5

میں اپنے خوں کو جواب دیتا ہوں نچلا دھڑ میرے ساتھ رہنے دو میرے حصہ ہے میرا میں ہے کہ اپنے حیواں کی پہلی منزل سے چلنے والا کہ اپنے انساں کی سیڑھیوں تک پہنچنے والا مرا ہی جوہر تھا شہد کا قطرہ قطرہ حیواں تھا اپنے انساں کی سیڑھیوں سے بھی اور اونچا وہ منصب نسل جو فرشتوں سے بالاتر ہے جو ...

مزید پڑھیے

بوعلی اندر غبار ناقہ گم

میں اگر شاعر تھا مولا تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخر شاعری میں متکفل تھا تو یہ کیسی نا مناسب احتمالی کیا کروں میں بند کر دوں اپنا باب لفظ و معنی اور کہف کے غار میں جھانکوں جہاں بیٹھے ہوئے اصحاب معبود حقیقی کی عبادت میں مگن ہیں اور سگ تازی سا چوکیدار ان کے پاس بیٹھوں وحدت و توحید کا ...

مزید پڑھیے

میں دو جنما

آج کا دن اور کل جو گزر گیا یہ دونوں میرے شانوں پر بیٹھے ہیں کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے ''میں زندہ ہوں! بائیں جانب کندھا موڑ کے دیکھو مجھ کو'' آج کا دن جو دائیں کندھے پر آرام سے پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہے بار بار ...

مزید پڑھیے

آزمائش شرط تھی

زندہ رہنا سیکھ کر بھی میں نے شاید زندگی کو درد تہہ تک پی کے جینے کی کبھی کوشش نہیں کی! پیاس تھی پانی نہیں تھا صبر سے شکر و رضا کے بند حجروں میں بندھا بیٹھا رہا اور حلق میں جب پیاس کے کانٹے چبھے تو سہہ گیا میں! میرے گھر والوں نے، میرے بیوی بچوں نے بھی جلتے ہونٹ سی کر پیاس کے کانٹوں کو ...

مزید پڑھیے

''ناگہاں'' اور ''بے نہایت''

''ناگہاں'' اور ''بے نہایت'' سے اگر پیچھے ہٹو گی تو تجھے معلوم ہوگا ناگہاں تو میں ہوں، لیکن کون تھا وہ بے نہایت کوئی پچھلا جس نے تجھ کو مجھ سے پہلے تیری کچی عمر میں یوں چیر کر زخمی کیا تھا تو تڑپتی رہ گئی تھی اور یہ کڑوا کسیلا زہر سوتے جاگتے خوابوں میں امرت جان کر پیتی رہی ہے کیوں ...

مزید پڑھیے

لہو بولتا ہے 3

میں سوچتا ہوں کہ میرے تن کا یہ نچلا حصہ جو معصیت کے مہیب غاروں میں گر گیا تھا جسے کوئی دیو عین عہد شباب میں اپنے غار کی تیرگی میں محبوس کر گیا تھا جسے گنہ کا گھنا اندھیرا خود اپنے خوں میں امڈتی آتش کا رقص گردش کا شور و غوغا وہ عشق پیچاں کی بیل جسے گٹھے ہوئے خواب قہوہ رنگت گداز کو ...

مزید پڑھیے

شہر گم صم

بلڈنگیں ذیشان اونچی شاہراہوں کے کناروں پر کھڑی تھیں شاہراہیں آتی جاتی گاڑیوں کاروں سے پر تھیں قہوہ خانوں پارکوں گلیوں محلوں اور گھروں میں زندگی معمول کی رفتار سے چلتی تھی لیکن بحر کے ساحل کی گولائی سے ہم آغوش میلوں تک یہ آبادی کا مسکن اک خموشی کی ردا اوڑھے ہوئے تھا گنگ بے آواز ...

مزید پڑھیے

آخری کوس

آخری کوس مجھے آج ہی طے کرنا ہے اور اس لمبے سفر کا یہ کڑا کوس مجھے اس قدر لمبا بڑھانا ہے کہ اب سے پہلے جو بھی کچھ گزرا ہے ماضی میں اسے پھر اک بار حاضر و ناظر و موجود سا میں جھیل سکوں عرصۂ غائب و معدوم سے اس لمحے تک وادیاں جھرنے چراگاہیں مویشی پنچھی کھیت کھلیان چھپر کھٹ مرے گھر کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1113 سے 6203