قومی زبان

جہان رنگ و بو کی دل کشی بن جائیں ہم دونوں

جہان رنگ و بو کی دل کشی بن جائیں ہم دونوں کسی معصوم بچے کی ہنسی بن جائیں ہم دونوں مٹا دیں تیرگی کو روشنی بن جائیں ہم دونوں سراسر پورنیما کی چاندنی بن جائیں ہم دونوں کہانی خوب صورت ہے مگر بے رنگ ہے اب تک چلو کردار اس کے مرکزی بن جائیں ہم دونوں ہمارا ذکر بھی آئے تو آئے اب مثالوں ...

مزید پڑھیے

خوشبو پھول صبا اور شبنم دل کی دھڑکن تاج محل (ردیف .. م)

خوشبو پھول صبا اور شبنم دل کی دھڑکن تاج محل اچھے اچھے پیارے پیارے لفظ یہ سارے آپ کے نام آپ کی دل کش قربت پا کر جاگ اٹھی ان کی تقدیر رنگ برنگے پھولوں کے یہ جھلمل گجرے آپ کے نام گلشن جاں کی پتی پتی موج نسیم عطر فشاں رنگ بہاراں پھول شگوفے سب گلدستے آپ کے نام بام و در محرابیں کمرے ...

مزید پڑھیے

در و دیوار کا بدلا ہوا حلیہ لکھیں

در و دیوار کا بدلا ہوا حلیہ لکھیں اس حویلی کا کوئی دوسرا نقشہ لکھیں نہ کنیزوں کا وہ جھرمٹ نہ بہی خواہوں کا دل کی مانند محل کو بھی اکیلا لکھیں پار جو ہم نے کیا آگ کا دریا وہ تھا زندگی اب تجھے بیتا ہوا لمحہ لکھیں تشنگی تشنہ لبی اپنا مقدر ہے تو اب سمندر جو لکھا جائے تو پیاسا ...

مزید پڑھیے

کہیں بہار کہیں خار زار کی صورت

کہیں بہار کہیں خار زار کی صورت جدھر بھی دیکھو وہی انتظار کی صورت جسے بھی دیکھو مسائل کی بھیڑ میں گم ہے ہر اک جبیں ہے کسی اشتہار کی صورت ہتھیلیوں پہ نمایاں ہے جبر کی تحریر اسی کو کہتے ہیں کیا اختیار کی صورت ابھی تو شام و سحر دل کے داغ جلتے ہیں قبائے جاں ہے ابھی تار تار کی ...

مزید پڑھیے

دشمن نہیں کہ کچھ نہ کہو مجھ کو دوستو

دشمن نہیں کہ کچھ نہ کہو مجھ کو دوستو کیوں میرے منہ پہ چپ ہو کہو کچھ تو دوستو میری نظر کا آئنہ صورت شناس ہے میری نظر کے سامنے آؤ تو دوستو فصل بہار آنے سے پہلے کی بات ہے ہم بھی تمہارے ساتھ تھے پہچانو دوستو مدت گزر گئی ہے بیابان و دشت میں کانٹا سہی چمن میں بلاؤ تو دوستو جن بادلوں ...

مزید پڑھیے

عادتاً مایوس اب تو شام ہے

عادتاً مایوس اب تو شام ہے ہجر تو بس مفت ہی بدنام ہے آج پھر دھندلا گیا میرا خیال آج پھر الفاظ میں کہرام ہے الگنی پر ٹانگ کر دن کا لباس رات کو اب چین ہے آرام ہے نقص تعبیروں میں کیوں کرنا رہے خواب ہی جب کے ہمارا خام ہے مختلف شکلیں بنانا وقت کا بس یہی تو گردش ایام ہے اس فراق نا ...

مزید پڑھیے

جب فرط غم میں آنکھ سے آنسو نکل گئے

جب فرط غم میں آنکھ سے آنسو نکل گئے حالات مرے دیکھ کے پتھر پگھل گئے مجھ سے بچھڑ کے وہ تو بہت شاد تھے مگر میرے قریب آئے تو چہرے بدل گئے اب کیا سنائیں داستاں اپنوں کی بھی تمہیں غم کو ہمارے دیکھ کے جب تم مچل گئے برسوں کے بعد آیا جو موسم بہار کا میری خوشی کو دیکھ کے اپنے ہی جل ...

مزید پڑھیے

لہو لہو ہر منظر دیکھ

لہو لہو ہر منظر دیکھ گلشن گلشن بنجر دیکھ گھر نہ بنانا شیشے کا ہاتھ میں سب کے پتھر دیکھ کون بھلا ہے کون برا جھانک کے دل کے اندر دیکھ جو کرتا تھا پیار کی بات ہاتھ میں اس کے خنجر دیکھ لاکھ ہوں خطرے راہوں میں رک مت جانا ڈر کر دیکھ آنکھیں ان سے چار ہوئیں کیا گزری ہے دل پر ...

مزید پڑھیے

ہمارا دل کچھ بہک رہا ہے

ہمارا دل کچھ بہک رہا ہے گلاب جیسا مہک رہا ہے تمہیں کچھ اپنے قریب پا کر ہمارا دل بھی دھڑک رہا ہے جو ایک مدت پہ تم ملے ہو خوشی سے آنسو چھلک رہا ہے ہمارا دل بھی خوشی سے اب تو مثال بلبل چہک رہا ہے تمہاری صورت میں اس کا نقشہ ذرا شباہتؔ جھلک رہا ہے

مزید پڑھیے

تم ہو تصویر وفا میں نے کب انکار کیا

تم ہو تصویر وفا میں نے کب انکار کیا مجھ سے ہوتی ہے خطا میں نے کب انکار کیا ایسا ہوتا ہی نہیں بسمل حسرت کا لہو یہ تو ہے رنگ حنا میں نے کب انکار کیا ہر زمانے میں رہی اہل محبت کے لئے ہاں یہی رسم جفا میں نے کب انکار کیا خنجر ابروئے خم دار کی خاطر منظور میرا حاضر ہے گلا میں نے کب انکار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1068 سے 6203