حیات درد مسلسل بھی انتشار بھی ہے
حیات درد مسلسل بھی انتشار بھی ہے قرار ڈھونڈنے والو کہیں قرار بھی ہے شمیم گل سے سلگتا ہے دامن احساس کہ تیری نکہت پوشاک شعلہ بار بھی ہے زمانہ خود نظر آتا نہیں زمانے کو کہ دل کا آئنہ آلودۂ غبار بھی ہے زباں سے کہئے تو کیوں کہئے اس کی محفل میں وہ دل کا حال جو صورت سے آشکار بھی ہے یہ ...