قومی زبان

تاج محل بنائیں گے

چاند ستاروں کی دنیا میں اک دن ہم بھی جائیں گے ننھی منی پیار کی دنیا مل کر وہاں بسائیں گے سونے چاندی کی اینٹوں کو ڈھونڈ کے لائیں گے تاج محل بنوایں گے چندا ماما کی نگری میں پھول کہاں سے آئے گا رونق اپنے تاج محل کی آخر کون بڑھائے گا اپنے دیس سے ہم پھولوں کو چن چن کر لے جائیں گے تاج ...

مزید پڑھیے

خوشبوؤں سے مری ہر سانس کو بھر دیتا ہے

خوشبوؤں سے مری ہر سانس کو بھر دیتا ہے موسم گل ترے آنے کی خبر دیتا ہے مجھ سے ملتا ہے مگر تیز ہواؤں کی طرح ہر قدم پر مجھے جو شوق سفر دیتا ہے بھر گئی ہے مرے دامن کو ندی کی اک موج لوگ کہتے ہیں سمندر ہی گہر دیتا ہے خامشی مہر لگا دیتی ہے ہونٹوں پہ مرے اس طرح بھی وہ رفاقت کا ثمر دیتا ...

مزید پڑھیے

کسی کی منتظر اب دل کی رہ گذار نہیں

کسی کی منتظر اب دل کی رہ گذار نہیں مگر مجھے تو کسی طرح بھی قرار نہیں گلاب کیسے کھلے دشت آرزو میں کوئی یہ سر زمین ابھی واقف بہار نہیں سمٹ گیا تھا مرے بازوؤں میں رات گئے یہ آسمان مری طرح بے کنار نہیں تری نظر نے کھلائے مری نظر میں گلاب خود اپنے آپ پہ موسم کو اختیار نہیں لہولہان ...

مزید پڑھیے

نئی بہار کا تھا منتظر چمن میرا

نئی بہار کا تھا منتظر چمن میرا جو اس کا لمس ملا کھل اٹھا بدن میرا خبر نہیں مری تنہائیوں میں رات گئے نہ جانے کون بھگوتا ہے پیرہن میرا مرے وجود کو چھو لے مجھے مکمل کر ترے بغیر ادھورا ہے بانکپن میرا ہر اک محاذ پہ مجھ کو شکست دی اس نے اگرچہ چار سو لشکر تھا خیمہ زن میرا اب اس کے ...

مزید پڑھیے

ہیں بشر میں صفات مٹھی بھر

ہیں بشر میں صفات مٹھی بھر پر نہیں خواہشات مٹھی بھر میری آنکھوں میں خواب لا محدود میرے حصے میں رات مٹھی بھر آسماں سے وسیع منصوبے آدمی کی حیات مٹھی بھر دنیوی علم جانتے ہیں سب ماہر دینیات مٹھی بھر زیست میں ہیں مسرتیں لاکھوں اور ہیں حادثات مٹھی بھر مسئلے آئے ہر گھڑی درپیش حل ...

مزید پڑھیے

خیالوں میں کسی کے کھو گئے کیا

خیالوں میں کسی کے کھو گئے کیا دوانے آپ بھی اب ہو گئے کیا سنی ہے صبح کے آنے کی آہٹ ستارے رات کے دیکھو گئے کیا تو کیا وہ آئے تھے پرسش کو میری وہ گال اشکوں سے اپنے دھو گئے کیا شرارت ہے کہ نادانی تمہاری جگا کر پوچھتے ہو سو گئے کیا نئی نسلیں ہیں کیوں پھولوں سے محروم پرانے لوگ کانٹے ...

مزید پڑھیے

کبھی نہ منزل کو پا سکے گا وہ جس میں عزم جواں نہیں ہے

کبھی نہ منزل کو پا سکے گا وہ جس میں عزم جواں نہیں ہے حصول مقصد میں ہو جو کوشش تو وہ کبھی رائیگاں نہیں ہے ہیں کسب زر میں سبھی پریشاں اسی کو سمجھے ہیں دین و ایماں مگر سمجھتے نہیں یہ ناداں کہ زندگی جاوداں نہیں ہے عجیب بو ہے عجیب رنگت نہ دل کشی ہے نہ کوئی نکہت یہ گل کدہ کوئی اور ہوگا ...

مزید پڑھیے

وہ میری بزم میں آئے تھے یوں نقاب کے ساتھ

وہ میری بزم میں آئے تھے یوں نقاب کے ساتھ ہو جیسے ابر کا ٹکڑا بھی ماہتاب کے ساتھ جو میں نے کہہ دیا کافر ادا تو کیوں بگڑے زمانہ تم سے ہے واقف اسی خطاب کے ساتھ یہ مانا میری خطا تھی کہ دل لگا بیٹھا نظر تم آئے تھے کیوں فتنۂ شباب کے ساتھ دیا جو منہ سے لگا کر تو کھنچ گئی تصویر میں پی گیا ...

مزید پڑھیے

مجھے بھول جانے والے تری بے رخی سلامت

مجھے بھول جانے والے تری بے رخی سلامت غم عشق دینے والے تری زندگی سلامت تری یاد جب بھی آئی مرے دل نے یہ دعا دی تو رہے جہاں میں شاداں تری ہر خوشی سلامت جو تری نظر نے بخشی تھی خلش مرے جگر کو ہے خدا گواہ میرا وہ ہے آج بھی سلامت مرے آنسوؤں کا طوفاں نہ رکا نہ رک سکے گا ترے درد نے جو بخشی ...

مزید پڑھیے

باتونی میاں

رہتے ہیں قصبے میں میرے ایک باتونی میاں روکنے سے بھی نہیں رکتی کبھی ان کی زباں دھن یہی ہر دم ہے ان کی قوم کا لیڈر بنوں قوم پیچھے ہو مرے میں قوم کے آگے رہوں فرق کچھ تذکیر اور تانیث میں کرتے نہیں گفتگو میں پھر بھی وہ لاتے ہیں الفاظ حسیں ایک دن بولے کہ میں جاتا ہوں پڑھنے کے لئے گھومتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1060 سے 6203