واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا
واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا یہی بندے کی خطا ہے مجھے معلوم نہ تھا غم دوراں کا مداوا نہ ہوا پر نہ ہوا ہاتھ میں کس کے شفا ہے مجھے معلوم نہ تھا نغمۂ نے بھی نہ ہو بانگ بط مے بھی نہ ہو یہ بھی جینے کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا میں سمجھتا تھا جسے ہیکل و محراب و کنشت میرا نقش کف پا ہے ...