شاعری

انداز کو سمجھا نہیں

ہوا تو ایک بہتر آغاز اپنے افسانے کا پر تم نے سوچا اچھا ذریعہ ہے کچھ دیر بہلانے کا کب منہ پھیر کے تم بن گئے انجان کب ملا اس بے ہوش آغاز کو ہوش کا انجام میرا دل آج تک اس بات کو سمجھا نہیں ہاں شاید تم نے میرے پیار کے انداز کو سمجھا نہیں

مزید پڑھیے

سلجھا لیا خود کو

کبھی کبھی خود ہی الجھ جاتی ہوں میں شاید خود کو ہی نہیں سمجھ پاتی ہوں میں کیا اہلیت میری کچھ بھی نہیں کیا ضرورتیں میری کچھ بھی نہیں میں یہ نہیں کہتی کہ صرف میں ہی سہی کوئی انساں نہیں جس میں نہیں کوئی کمی ہو سکتا ہے کہ میری امید ہو کچھ زیادہ پر بھولی نہیں ہوں میں انسانیت کا ...

مزید پڑھیے

آنگن میں مرے دیکھیے کب پاؤں دھرے وہ

آنگن میں مرے دیکھیے کب پاؤں دھرے وہ جاتا ہوں قریب اس کے تو ہوتا ہے پرے وہ باتوں میں لبھا کر کہیں گم ہو گیا اک دن شاید مجھے یاد آتا ہے اک شخص ارے وہ اس چاند سے چہرے کی چمک اور کہیں ہے لگتا ہے ستاروں سے سدا مانگ بھرے وہ جاں دشمن جانی سے بچانی نہیں ممکن ہاں جان ہی دینی ہے کسی کو تو ...

مزید پڑھیے

شوق وارفتہ کو ملحوظ ادب بھی ہوگا

شوق وارفتہ کو ملحوظ ادب بھی ہوگا شرط ہے مال عرب پیش عرب بھی ہوگا لب و رخسار میں ہوگی گل و مہتاب کی بات آنکھ میں تذکرۂ بنت عنب بھی ہوگا مان لیتا ہے مری بات مرا حیلہ طراز اور سب وعدوں میں اک وعدۂ شب بھی ہوگا عشق وہ شے ہے کہ برفیلے نہاں خانوں میں سرد پڑ جائے شرر بار تو جب بھی ...

مزید پڑھیے

ہے ارتباط شکن دائروں میں بٹ جانا

ہے ارتباط شکن دائروں میں بٹ جانا چمن کا موجۂ باد صبا سے کٹ جانا کرن کے حق میں یہ سورج کا فیصلہ کیوں ہے جو فرش خاک پکارے تو دور ہٹ جانا میں پر شکستہ نہ تھا بادلوں کے بیچ مگر مری اڑان کا زنجیر سے لپٹ جانا یہ ساز و رخت دل بہرہ مند کیا شے ہے تمام بکھرے ہوئے درد کا سمٹ جانا یہ کون ...

مزید پڑھیے

گردش آب و ہوا جانتی ہے

گردش آب و ہوا جانتی ہے دل ہے کیوں دل سے جدا جانتی ہے سانس لینا ہے فنا ہو جانا راز یہ برگ حنا جانتی ہے کیسے روشن ہے اس آندھی میں چراغ ساری تفصیل ہوا جانتی ہے یوں دبے پاؤں چلی باد نسیم جیسے آداب حیا جانتی ہے روئے غنچہ پہ دمک ہے کس کی شبنم آبلہ پا جانتی ہے فرش رہ بن کے بکھر جاتی ...

مزید پڑھیے

باغ و بستاں ہوئے ویران کہ جی جانتا ہے

باغ و بستاں ہوئے ویران کہ جی جانتا ہے سر دنیا ہے وہ طوفان کہ جی جانتا ہے اور کیا اس کے سوا حاصل روداد جہاں خاک و خوں دست و گریبان کہ جی جانتا ہے روز محشر تو نہ تھا شام ملاقات تھی وہ یوں ہوئے بے سر و سامان کہ جی جانتا ہے ماہ تمثال تھا یا خنجر عریاں کوئی یوں ہے پیوست رگ جان کہ جی ...

مزید پڑھیے

قدم خوش بدناں شعبدہ گر ہے کہ نہیں

قدم خوش بدناں شعبدہ گر ہے کہ نہیں یہ زمیں‌ لالہ رخ و کشت گہر ہے کہ نہیں دیکھیے رنگ حنا روئے شفق جوش بہار طائر خواب تو ہے تاب سفر ہے کہ نہیں بے سبب میں نہیں تاثیر نظر کا قائل زخم غنچہ صفت و شاخ ثمر ہے کہ نہیں تیری آواز کلید چمنستاں ہے مگر سینۂ نے میں گداز گل تر ہے کہ نہیں دیکھنے ...

مزید پڑھیے

ملال غنچۂ تر جائے گا کبھی نہ کبھی

ملال غنچۂ تر جائے گا کبھی نہ کبھی وہ خاک اڑا کے گزر جائے گا کبھی نہ کبھی میں لالۂ سر صحرا مکاں نہیں رکھتا کہ دشت ہے مرے گھر جائے گا کبھی نہ کبھی برہنہ شاخ ہوا زرد بے زمین شجر پرندہ سوئے سفر جائے گا کبھی نہ کبھی کہیں بھی طائر آوارہ ہو مگر طے ہے جدھر کماں ہے ادھر جائے گا کبھی نہ ...

مزید پڑھیے

سفر کے تجربوں میں گرد پا بھی آ ہی جاتی ہے

سفر کے تجربوں میں گرد پا بھی آ ہی جاتی ہے مگر اس پیچ و خم سے کچھ جلا بھی آ ہی جاتی ہے جو چلتا ہوں فلک سے خوں کے فوارے برستے ہیں جو رکتا ہوں سموم فتنہ زا بھی آ ہی جاتی ہے خرد کی سانس بھی رک جاتی ہے تیرہ خیالی سے تہہ احساس نادیدہ بلا بھی آ ہی جاتی ہے جو پودے صحن میں کھلتے ہیں ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 96 سے 5858