شاعری

مرا ہی خوف ہر اک موڑ پر ملے ہے مجھے

مرا ہی خوف ہر اک موڑ پر ملے ہے مجھے نواح جاں کوئی آسیب سا لگے ہے مجھے میں داستاں کی طرح ہر صدی کے ذہن میں ہوں کوئی لکھے ہے مجھے اور کوئی پڑھے ہے مجھے جو میرے قد کو اندھیروں میں چھوڑ آیا تھا شعاع زر کی طرح ساتھ لے چلے ہے مجھے میں کیا ہوں کون ہوں پہچان میں نہیں آتا جو جس کے جی میں ...

مزید پڑھیے

بہ احتیاط مرے پاس سے گزر بھی گیا

بہ احتیاط مرے پاس سے گزر بھی گیا وہ بے نیاز رہا اور با خبر بھی گیا نہ تن کا ہوش رہا اور نہ جاں عزیز ہوئی وہ معرکہ تھا کہ احساس تیغ و سر بھی گیا تمہیں میں تھا وہ مگر تم نہ اس کو جان سکے اور اب تو وادئ لا سمت میں اتر بھی گیا سنبھالے بیٹھے تھے دستار دونوں ہاتھوں سے اٹھی وہ موج کہ ...

مزید پڑھیے

مرکز چشم ہے اب لعل و گہر کا سودا

مرکز چشم ہے اب لعل و گہر کا سودا ننگ بازار ہوا دیدۂ تر کا سودا آج چولھے سے اٹھے گا کوئی شعلہ نہ دھواں آج لوٹا ہی نہیں لے کے وہ گھر کا سودا صاحب سر کو خبر بھی نہیں ہونے پاتی اور ہو جاتا ہے بازار میں سر کا سودا اب میسر ہے نہ صحرا نہ بیاباں کوئی لے کے جائے گا کہاں مجھ کو یہ سر کا ...

مزید پڑھیے

اپنے روز و شب کا عالم کربلا سے کم نہیں

اپنے روز و شب کا عالم کربلا سے کم نہیں عرصۂ ماتم ہے لیکن فرصت ماتم نہیں صرف جذب شوق میں پوریں لہو کرتے رہے ہم وہاں الجھے جہاں پر کوئی پیچ و خم نہیں کوئی روگ ایسا نہیں جو قریۂ جاں میں نہ ہو کوئی سوگ ایسا نہیں جس میں کہ شامل ہم نہیں کوئی لے ایسی نہیں جو صرف ہنگامہ نہیں ایک بھی سر ...

مزید پڑھیے

دیر ہو جائے گی پھر کس کو سنائی دو گے

دیر ہو جائے گی پھر کس کو سنائی دو گے دشت خود بول اٹھے گا تو دہائی دو گے اب تو اس پردۂ افلاک سے باہر آ جاؤ ہم بھی ہو جائیں گے منکر تو دکھائی دو گے؟ اب اسیران قفس جیسے قفس میں بھی نہیں اب کہاں ہوگی رہائی جو رہائی دو گے شمعیں روشن ہیں تو کیا عالم بے چہرگی میں تم کوئی بھی ہو مگر کس کو ...

مزید پڑھیے

خواہ محصور ہی کر دیں در و دیوار مجھے

خواہ محصور ہی کر دیں در و دیوار مجھے گھر کو بننے نہیں دینا کبھی بازار مجھے میں اسے دست عدو میں نہیں جانے دوں گا سر کی قیمت پہ بھی مہنگی نہیں دستار مجھے میں جو چلتا ہوں تو آنکھیں بھی کھلی رکھتا ہوں اتنا سادہ بھی نہ سمجھیں مرے سالار مجھے پھر توازن میں رہے گی مری ناؤ کب تک جب ...

مزید پڑھیے

دیکھ ان آنکھوں سے کیا جل تھل کر رکھا ہے

دیکھ ان آنکھوں سے کیا جل تھل کر رکھا ہے غم سی آگ کو ہم نے بادل کر رکھا ہے جس نے راہ کے پیڑوں کی سب شاخیں کاٹیں سب نے اسی کے سر پر آنچل کر رکھا ہے کوئی پہاڑ ہے اپنی ذات کے اندر جس نے خود ہم سے بھی ہم کو اوجھل کر رکھا ہے پتھر لے کر سارا شہر ہے اس کے پیچھے اک پاگل نے سب کو پاگل کر رکھا ...

مزید پڑھیے

زندگی کو ہم وفا تک وہ جفا تک لے گئے

زندگی کو ہم وفا تک وہ جفا تک لے گئے اپنے اپنے فن کو دونوں انتہا تک لے گئے لغزشوں میں کیا معافی کی توقع ہو کہ جب بے گناہی کو بھی میری وہ سزا تک لے گئے ساحلوں پر اور بھی خوش ذوق تھے لیکن مجھے پانیوں کے رنگ ہر موج بلا تک لے گئے جی رہی ہے اب تو بستی ایک سناٹے کے ساتھ جبر کے موسم ...

مزید پڑھیے

دشمن جاں بھی وہی حاصل ارماں بھی وہی

دشمن جاں بھی وہی حاصل ارماں بھی وہی غم کا ساماں بھی وہی درد کا درماں بھی وہی لطف گل گشت مگر اب وہ کہاں تیرے بغیر رنگ گلشن ہے وہی جوش بہاراں بھی وہی بعد دیوانے کے اگلی سی وہ رونق نہ رہی بزم خوباں ہے وہی شہر نگاراں بھی وہی آج تک آتش غم جان جہاں کم نہ ہوئی زخم ہیں اب بھی وہی سوزش ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

آنکھیں اندھے کنویں کی مانند دور اندھیرے رستوں پر پانی کو کھرچ رہی ہیں گہری دھند کی چادر اوڑھے کون ابھاگن پھوٹ پھوٹ کے رو بھی نہ پائی صبر کی روٹی چپ کا سالن سب ذائقوں سے کڑوا زہر گلے کے اندر کند چھری کی مانند اٹکے کیا بولے سارے لفظ اپنے لہو کی گردش سے بے پروا لب پر اتریں معانی کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 882 سے 5858