شاعری

سماعتوں پہ گراں بے زبانیاں اس کی

سماعتوں پہ گراں بے زبانیاں اس کی اسیر‌ دیر و حرم لا‌ مکانیاں اس کی ہر ایک چہرے پہ بے چہرگی کے سائے ہیں گرفت میں نہیں آتیں نشانیاں اس کی یہ کس نے لحن سے کاٹا ہے نور کا رشتہ کہ بے نوا ہوئیں جادو بیانیاں اس کی اسی کا کاسۂ سر بھی اسی کا پتھر بھی لہو اسی کا لہو میں روانیاں اس کی وہ ...

مزید پڑھیے

سحر نے سانس لی سورج چمکنے والا تھا

سحر نے سانس لی سورج چمکنے والا تھا دیا ہواؤں کی زد میں تھا بجھنے والا تھا خبر ملی کہ مرے واسطے تو صحرا ہے میں تیری یاد کے دریا میں بہنے والا تھا درخت گھونسلے کھانے لگے پرندوں کے میں ڈر رہا تھا شجر پہ جو رہنے والا تھا مری طرح کا کوئی بھی نہیں تھا بستی میں بقول یاراں میں جنگل میں ...

مزید پڑھیے

جو کچھ بھی میرے پاس تھی دولت نگل گئی

جو کچھ بھی میرے پاس تھی دولت نگل گئی میری انا کو تیری محبت نگل گئی تصویر کہہ رہی تھی مصور کی داستاں منظر کشی کو آنکھ کی حیرت نگل گئی حصے میں میرے آئی ہمیشہ شب فراق ہر لمحۂ نشاط کو ظلمت نگل گئی میں نے جلائی آگ عدو کے لیے مگر میرا وجود آگ کی حدت نگل گئی میں بد نہیں ہوں بس یونہی ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر وہ ہم کو تنہا کس جہاں میں جا بسا

چھوڑ کر وہ ہم کو تنہا کس جہاں میں جا بسا لاکھ اس کو ملنا چاہا پر رہا وہ نارسا سچ ہی کہتا تھا ہمیں وہ چھوڑ جب میں جاؤں گا مجھ کو ڈھونڈا تم کرو گے ہر گلی میں جا بہ جا تب ہمیں دکھلاوا لگتا تھا وہ ماتھا چومنا آج جس کے واسطے ہے دل میں میرے اشتہا چھوڑ کر جب وہ گیا تب سارے دشمن ہو گئے پھر ...

مزید پڑھیے

پرانے گھر کو گرایا تو باپ رونے لگا

پرانے گھر کو گرایا تو باپ رونے لگا خوشی نے دل سا دکھایا تو باپ رونے لگا جو امی نہ رہیں تو کیا ہوا کہ ہم سب ہیں جواب بن نہیں پایا تو باپ رونے لگا یہ رات کھانستے رہتے ہیں کوفت ہوتی ہے بہو نے سب میں جتایا تو باپ رونے لگا بٹھا کے رکشے میں کل شب روانہ کرتے ہوئے دیا جو میں نے کرایہ تو ...

مزید پڑھیے

ردیف قافیہ بندش خیال لفظ گری

ردیف قافیہ بندش خیال لفظ گری وہ حور زینہ اترتے ہوئے سکھانے لگی کتاب باب غزل شعر بیت لفظ حروف خفیف رقص سے دل پر ابھارے مست پری کلام عروض تغزل خیال ذوق جمال بدن کے جام نے الفاظ کی صراحی بھری سلیس شستہ مرصع نفیس نرم رواں دبا کے دانتوں میں آنچل غزل اٹھائی گئی قصیدہ شعر مسدس ...

مزید پڑھیے

آنکھ حیراں ہے یہ صد رنگئ جلوہ کیا ہے

آنکھ حیراں ہے یہ صد رنگئ جلوہ کیا ہے شہر کہتا ہے ابھی آپ نے دیکھا کیا ہے کون آیا ہے پئے‌ چارہ گری دیکھ تو لے آخر اے درد جگر تیرا ارادہ کیا ہے چھوڑ گلشن کو کسی رشک چمن زار کو دیکھ ذوق نظارہ یہاں بزم میں رکھا کیا ہے اف وہ اعضا شکنی نیند میں ڈوبی آنکھیں ذکر مے خانہ ہے کیا تشنۂ صہبا ...

مزید پڑھیے

نشتر غم جو رگ جاں میں اتر جاتا ہے

نشتر غم جو رگ جاں میں اتر جاتا ہے اور کچھ حوصلۂ‌ شوق نکھر جاتا ہے حال بیمار کا کچھ ٹھیک نہیں ہے شاید جو بھی آتا ہے دبے پاؤں گزر جاتا ہے احتیاط ان کو سر بزم نہ مل جائے نظر اور مجھے غم ہے کہ ناموس نظر جاتا ہے رہرو راہ محبت کا سہارا ہے یہی غم جو جاتا ہے تو سامان سفر جاتا ہے فتنۂ ...

مزید پڑھیے

دستک دیتی صرف ہوا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

دستک دیتی صرف ہوا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے دیر سے کوئی در پہ کھڑا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے شاخ ارماں سونی ہے تو کیا الزام بہاروں پر پھول کسی نے توڑ لیا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے ایک تغافل پروردہ تو خوگر غم ہو جاتا ہے لطف و کرم سے درد بڑھا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے آدھی رات ہے بند پڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر سمت روشنی تھی جدھر بھی نظر اٹھی

ہر سمت روشنی تھی جدھر بھی نظر اٹھی لیکن وہ اک نگاہ نہ جانے کدھر اٹھی یہ کون نغمہ سنج و غزل خواں گزر گیا گلشن سے جھومتی ہوئی باد سحر اٹھی وہ انتظار یار کے لمحات الاماں درد جگر بڑھا تو نظر سوئے در اٹھی افسانے آنسوؤں سے ہزاروں ابل پڑے پھر آج جو نگاہ مری بام پر اٹھی کس نے یہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 881 سے 5858