پیاس
جی میں ہے کہ جل تھل برسوں پر یہ آنسو کس کس نام سے روؤں گی اک آنسو پر نام ہے اس کا جس کے ہاتھ سوالی ہیں اک آنسو ہے اس کے نام جو سردی میں کہر زدہ ان سڑکوں پر بھوکوں مرتا ہے یہ لمبی کالی کاروں میں کون سی دنیا بیٹھتی ہے کیا نام ہے ان کا کون ہیں وہ کیا بیچتے ہیں اور سرخ گلابی ہونٹوں پر یہ ...