شاعری

موسم آنے پہ شجر بور سے بھر جاتا ہے

موسم آنے پہ شجر بور سے بھر جاتا ہے جانے کس اور مگر سارا ثمر جاتا ہے آ کے بیٹھے ہو تم اور وقت سحر آ پہنچا کس قدر جلد بھلا وقت گزر جاتا ہے جب بھی بیٹی کی جدائی کا سماں سوچتا ہوں ایک خنجر مرے سینے میں اتر جاتا ہے تو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کے ذرا اے خوباں کوئی کوچے سے ترے خاک بہ سر جاتا ...

مزید پڑھیے

کعبہ بنائیے نہ کلیسا بنائیے

کعبہ بنائیے نہ کلیسا بنائیے دل کو تصورات کی دنیا بنائیے تصویر حسن کھینچیے مجنوں کے بھیس میں آئینۂ خیال کو لیلیٰ بنائیے حرص و ہوائے دار فنا سے غرض نہیں دنیا سے کھوئیے مجھے اپنا بنائیے دیوانگئ عشق کو رسوا نہ کیجئے لیلیٰ کو قیس قیس کو لیلیٰ بنائیے ہے فطرت نظر کا تقاضا یہ بار ...

مزید پڑھیے

حسن ہو میرا دل نواز حسن کی دل نواز میں

حسن ہو میرا دل نواز حسن کی دل نواز میں میرے اٹھائیں ناز وہ اس کے اٹھاؤں ناز میں کون ہوں اور کیا ہوں میں کوئی نہ یہ سمجھ سکا بزم جہاں میں آتے ہی بن گئی ایک راز میں حسن میں اور عشق میں کیسے نبھے گی اے خدا حسن جفا شعار ہے اور وفا نواز میں میرے شب فراق میں کاش اجل ہو میہماں پھر تو ...

مزید پڑھیے

برادران وطن سے

ملک کی حالت پہ سینوں سے دھواں اٹھتا نہیں ساز دل خاموش ہیں شور فغاں اٹھتا نہیں کس لئے آنکھوں سے طوفان نہاں اٹھتا نہیں پھول روندے جا رہے ہیں باغباں اٹھتا نہیں بے حسی کی انتہا ہے ہوش میں آتے نہیں ذلتوں پر ذلتیں ہوتی ہیں شرماتے نہیں شعلۂ احساس بجھتا ہے ہوا دے دو اسے قومیت دم توڑتی ...

مزید پڑھیے

انقلاب فلسطین

دیکھتا ہے کون صحرا کے بگولوں کی طرف جو نظر اٹھتی ہے بس جاتی ہے پھولوں کی طرف عیش میں رہ کر ہمیں کچھ بھی خیال غم نہیں مسکراہٹ لب پہ ہے آنکھیں مگر پر نم نہیں دیکھتا اس کے کرشمے کس کو اتنا ہوش تھا پتی پتی دم بخود تھی گل چمن خاموش تھا محو نظارہ تھیں آنکھیں دل میں طاری بے خودی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

ہوتا ہے اس جہاں میں کسے ناگوار جھوٹ

ہوتا ہے اس جہاں میں کسے ناگوار جھوٹ جب سچ ہوا ذلیل تو عالی وقار جھوٹ تہذیب نو کا شاعرہؔ ہے شاہکار جھوٹ بے اختیار سچ ہوا با اختیار جھوٹ کتنا حسیں فریب ہے پروردگار جھوٹ جان قرار جھوٹ ہے جان بہار جھوٹ یہ صبح و شام جھوٹ یہ لیل و نہار جھوٹ ساری ہی زندگی کا ہے اب کاروبار جھوٹ بنتی ...

مزید پڑھیے

دلا نہ اپنی محبت کا اعتبار مجھے

دلا نہ اپنی محبت کا اعتبار مجھے خدا کے واسطے رہنے دے سوگوار مجھے نہیں ہے منظر ہستی پہ اعتبار مجھے مشیتوں نے دیا ہے دل فگار مجھے ہر اک مقام پہ شاکی ہے آدمی کی نظر نہ راس آیا تجسس کا کاروبار مجھے فراق دوست کا غم ہو کہ ہو نشاط حیات نہیں ہے اب کسی حالت پہ اعتبار مجھے نگاہ شوق کو ...

مزید پڑھیے

نئی منزلوں کو پا لو مرے نقش پا پہ چل کے

نئی منزلوں کو پا لو مرے نقش پا پہ چل کے میں بنا چکی ہوں لوگو وہ جو راستے ہیں کل کے مجھے بحر غم میں پا کر نہ ہنسو اے ہنسنے والو کوئی موج لے نہ ڈوبے کہیں تم کو بھی اچھل کے تری آرزو سے بڑھ کر کوئی آرزو نہیں ہے میں تجھی کو ڈھونڈھتی ہوں ترے غم کے ساتھ چل کے کہیں دھوپ بن گیا ہے کہیں رات ...

مزید پڑھیے

میں روایت ہوں ایک بھولی ہوئی (ردیف .. ے)

میں روایت ہوں ایک بھولی ہوئی اور تو جدتوں میں رہتا ہے میری آنکھیں سوال کرتی ہیں کیا خدا منظروں میں رہتا ہے ساعتیں رقص کر رہی ہیں مگر میرا دل الجھنوں میں رہتا ہے پرچم جنگ جھک گیا لیکن وسوسہ سا دلوں میں رہتا ہے گو چراغاں کیے گئے خیمے پر اندھیرا دلوں میں رہتا ہے آؤ موجوں سے ...

مزید پڑھیے

بس وہی لمحہ آنکھ دیکھے گی (ردیف .. ا)

بس وہی لمحہ آنکھ دیکھے گی جس پہ لکھا ہوا ہو نام اپنا ایسا صدیوں سے ہوتا آیا ہے لوگ کرتے رہیں گے کام اپنا کچھ ہوائیں گزر رہی تھیں ادھر ہم نے پہنچا دیا پیام اپنا ذہن کر لے ہزارہا کوشش دل بھی کرتا رہے گا کام اپنا چاہتی ہوں فلک کو چھو لینا جانتی ہوں مگر مقام اپنا کیا یہی ہے شناخت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 869 سے 5858