موسم آنے پہ شجر بور سے بھر جاتا ہے
موسم آنے پہ شجر بور سے بھر جاتا ہے جانے کس اور مگر سارا ثمر جاتا ہے آ کے بیٹھے ہو تم اور وقت سحر آ پہنچا کس قدر جلد بھلا وقت گزر جاتا ہے جب بھی بیٹی کی جدائی کا سماں سوچتا ہوں ایک خنجر مرے سینے میں اتر جاتا ہے تو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کے ذرا اے خوباں کوئی کوچے سے ترے خاک بہ سر جاتا ...