شاعری

میں ہی کشتی بھی ہوں ملاح بھی طوفان بھی ہوں

میں ہی کشتی بھی ہوں ملاح بھی طوفان بھی ہوں اور اب ڈوب رہا ہوں تو پریشان بھی ہوں میں جو اوروں کو دکھاتا ہوں اس آئینے میں اپنا چہرہ نظر آیا ہے تو حیران بھی ہوں حال یہ کیسا فقیروں سا بنا رکھا ہے کون کہہ دے گا کسی وقت کا سلطان بھی ہوں باریابی کی تمنا میں پڑا ہوں در پر بیٹھا ہوتا تو ...

مزید پڑھیے

منوں ریت تلے

میں جو سوئی ہوں منوں ریت تلے کاش تو جان سکے شام ڈھلے میری آنکھیں تری آہٹ پہ لگی رہتی ہیں میرا آنچل میری ترسی ہوئی بے کل ہستی میری ممتا تری راہوں میں بچھی رہتی ہے میں بہت خوش ہوں تجھے دیکھ کے اے دل کے قرار تیرے چہرے کی چمک آج بھی تابندہ ہے تیرے لہجے میں مرا عکس ابھی زندہ ہے میں جو ...

مزید پڑھیے

نظم

وہ سمندر کے پار رہتا ہے اور دل بے قرار رہتا ہے اس کی باتیں جو یاد آتی ہیں دن ڈھلے تک ہمیں ستاتی ہیں رات بھر اک خمار رہتا ہے وہ سمندر کے پار رہتا پے شہر ماتم کناں ہے تیرے بغیر دشت بھی بے اماں ہے تیرے بغیر ہر شجر سوگوار رہتا ہے وہ سمندر کے پار رہتا ہے دوستی بن گئی سزا جیسے اور ہو آپ ...

مزید پڑھیے

امر لمحہ

بارشوں کے موسم میں اجنبی سی راہوں میں اس طرح تمہیں ملنا اور پھر بچھڑ جانا یاد پھر دلاتا ہے کہ ابھی گلابوں کی موتیے کے پھولوں کی شوخ تتلیوں جیسی رت ابھی بھی باقی ہے روح کے سفر میں ہم مل چکے ہیں پہلے بھی ماہ و سال کی گردش پاس لے کے آئی تھی اور پھر یہی گردش دور لے گئی ہم کو زندگی کے ...

مزید پڑھیے

شہر کا شہر جانتا ہے مجھے

شہر کا شہر جانتا ہے مجھے شہر کے شہر سے گلہ ہے مجھے میرا بس ایک ہی ٹھکانا ہے میں کہاں جاؤں گا پتا ہے مجھے روشنی میں کہیں اگل دے گا میرا سایہ نگل گیا ہے مجھے بن گیا ہوں گناہ کی تصویر کوئی چھپ چھپ کے دیکھتا ہے مجھے راستے بھی تو سو گئے ہوں گے اپنے بستر پہ جاگنا ہے مجھے اس کی باتیں ...

مزید پڑھیے

دولت مرے پیچھے نہ شرافت مرے آگے

دولت مرے پیچھے نہ شرافت مرے آگے چلتا ہے مرا سایۂ وحشت مرے آگے قدرت نے بنایا ہے مجھے ایسا بیاباں اڑ جاتی ہے صحراؤں کی رنگت مرے آگے دشمن کی نظر آتا ہوں میں جان کا اپنی پھیکی ہے رقیبوں کی رقابت مرے آگے کچھ کرنے نہیں دیتی مری کاہلی مجھ کو بیکار پڑی رہتی ہے فرصت مرے آگے کچھ کھویا ...

مزید پڑھیے

جب قافلہ یادوں کا گزرا تو فضا مہکی

جب قافلہ یادوں کا گزرا تو فضا مہکی محسوس ہوا تیرے قدموں کی صدا مہکی خوابوں میں لیے ہم نے بوسے ترے بالوں کے جب ہجر کی راتوں میں ساون کی گھٹا مہکی مانگی جو دعا ہم نے اس شوخ سے ملنے کی لوبان کی خوشبو سے بڑھ کر وہ دعا مہکی اک نرم سے جھونکے کی نازک سی شرارت سے کیا کیا نہ ہوئی رسوا ...

مزید پڑھیے

زہر غم خوب پیا ہم نے شرابوں سے بچے

زہر غم خوب پیا ہم نے شرابوں سے بچے جھیل کر کتنے عذابوں کو عذابوں سے بچے سوچنے بیٹھیں تو سوچے ہی چلے جاتے ہیں خوف کانٹوں کا عجب تھا کہ گلابوں سے بچے کتنے معصوم تھے چہرے نہیں دیکھے تم نے وہ جو رہ کر بھی نقابوں میں نقابوں سے بچے جاگتا ہو تو نہ دیکھے کوئی محلوں کی طرف کس طرح سویا ...

مزید پڑھیے

رخت سفر

خالی کمرے میں مرا رخت سفر رکھا ہے چند ارمان ہیں پوشیدہ نہاں خانے میں کرچیاں خواب کی رکھی ہیں حفاظت سے کہیں اور کچھ پھول چھپا رکھے ہیں انجانے میں ڈھونڈھتی پھرتی رہی روح کسی ساتھی کو در بدر ٹھوکریں کھاتا رہا پندار مرا اپنی مٹی سے بھی اٹھی نہیں سوندھی خوشبو غیر کے دیس میں لٹتا رہا ...

مزید پڑھیے

اپنے یزداں سے اک سوال مرا

اپنے یزداں سے پوچھنا ہے مجھے ایسے خوابوں میں روشنی کیوں ہے جن کی تعبیر دسترس میں نہیں ان امنگوں کی کیا حقیقت ہے جن کا انجام میرے بس میں نہیں کیوں مرے راستے الجھتے ہیں ان گھنے جنگلوں کی سرحد سے جن میں وحشت کے دیپ جلتے ہیں زندگی کے عمیق راز نہاں سر بہ سر ساتھ ساتھ چلتے ہیں اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 859 سے 5858