شاعری

چاک کر کر کے گریباں روز سینا چاہیئے

چاک کر کر کے گریباں روز سینا چاہیئے زندگی کو زندگی کی طرح جینا چاہیئے خودکشی کے ٹل گئے لمحے تو سوچا مدتوں یہ خیال آیا ہی کیوں تھا زہر پینا چاہیئے مشورہ موجوں سے لوں اس پار جانا ہے مجھے ناخداؤں کا تو کہنا ہے سفینہ چاہیئے باسلیقہ لوگ بھی ہیں بے سلیقہ لوگ بھی کس سے کب ملیے کہاں ...

مزید پڑھیے

ہم پر جتنے وار ہوئے بھرپور ہوئے

ہم پر جتنے وار ہوئے بھرپور ہوئے ہم سے پوچھو کیسے چکناچور ہوئے سنجیدہ لوگوں کا جینا مشکل ہے کھیل تماشے دنیا کا دستور ہوئے میری نظر میں جیسے پہلے تھے اب ہو کون سی دولت پا کر تم مغرور ہوئے یہ تو گلستانوں میں روز کے قصے ہیں پھول کھلے کھل کر شاخوں سے دور ہوئے ہم نے شکیلؔ اک چھوٹی ...

مزید پڑھیے

آج اس بزم میں یوں داد وفا دی جائے

آج اس بزم میں یوں داد وفا دی جائے اے غم عشق تری عمر بڑھا دی جائے موسم خندۂ گل ہے تو زباں بند رکھیں بات اپنی بھی ہنسی میں نہ اڑا دی جائے عشوۂ ناز و ادا جور و جفا مکر و دغا کیسے جی لیں جو ہر اک بات بھلا دی جائے اس کے غم ہی سے ہے ہر درد کا رشتہ اب تک دل پہ جب چوٹ لگے اس کو دعا دی ...

مزید پڑھیے

جان کی باری ہے اب دل کا زیاں ایسا نہ تھا

جان کی باری ہے اب دل کا زیاں ایسا نہ تھا خیر جو کچھ بھی ہوا ہم کو گماں ایسا نہ تھا سخت جیسی اب ہے قدموں میں زمیں ایسی نہ تھی سر پہ جیسا اب ہے بھاری آسماں ایسا نہ تھا اک زمانہ ہو گیا اس راہ سے گزرے ہوئے یہ گلی ایسی نہیں تھی یہ مکاں ایسا نہ تھا تھا خس و خاشاک کی مانند اپنا ہی ...

مزید پڑھیے

کوئی دیکھے ادھوراپن ہمارا

کوئی دیکھے ادھوراپن ہمارا کہ گھر بھی ہے تو بے آنگن ہمارا انہیں ہرگز نہ روکو کھولنے دو انہی بچوں میں ہے بچپن ہمارا ابھی کچھ اور سانسوں کی ہوا دو سلگتا رہ گیا ہے تن ہمارا تمہیں بھی لے چلے پردیس ساجن ذرا لگنے لگا تھا من ہمارا تم آ جاؤ ہرے ہو جائیں گے ہم ہرا پن لے گیا ساون ...

مزید پڑھیے

وہ کہاں قصر عالی شان میں خوش

وہ کہاں قصر عالی شان میں خوش ہم غریبوں کے ہیں گمنام میں خوش دور سے دیکھنے سے لگتے ہیں سب ستارے ہیں آسمان میں خوش دھوپ اسی راستے میں آتی ہے ایک دروازہ ہے مکان میں خوش راہ گیروں کو روک لیتی ہے چارپائی ہے سائبان میں خوش ٹکڑے ٹکڑوں میں بٹ گئی دنیا کچھ پرانے ہیں خاندان میں ...

مزید پڑھیے

کب مرحلۂ غم سے گزرنا نہیں ہوتا

کب مرحلۂ غم سے گزرنا نہیں ہوتا پل بھر کو سواری سے اترنا نہیں ہوتا اڑنے دو مری خاک سمیٹو گے کہاں تک یکجا ہی نہ ہوتا جو بکھرنا نہیں ہوتا چھت سے کبھی اترا تو نظر آیا فلک پر زینے سے کبھی اس کا اترنا نہیں ہوتا دنیا کا کوئی کام ہو آسان سے آسان ہونا ہو تو ہوتا ہے وگرنہ نہیں ہوتا لاتا ...

مزید پڑھیے

رقص ہستی کے پھسل جانے کا اندیشہ ہے

رقص ہستی کے پھسل جانے کا اندیشہ ہے باغ ہاتھوں سے نکل جانے کا اندیشہ ہے اب تو وہ سر بھی لگتا ہے ہمارا مطرب راگ جس سر پہ بدل جانے کا اندیشہ ہے رات کو خوف مرا چاند کوئی چھین نہ لے چاند کو رات کے ڈھل جانے کا اندیشہ ہے بوند بھر تیل بچا ہے تو دیا گل کر دو ورنہ بستی کے بھی جل جانے کا ...

مزید پڑھیے

روح سے کب یہ جسم جدا ہے

روح سے کب یہ جسم جدا ہے ان باتوں میں کیا رکھا ہے رفتہ رفتہ وہ بھی مجھ کو بھول رہا ہے بھول چکا ہے رت پیراہن بدل رہی ہے پتا پتا ٹوٹ رہا ہے ان آنکھوں کا ہر افسانہ میرے ہی خوابوں کی صدا ہے ہر چہرہ جانا پہچانا شہر ہی اپنا چھوٹا سا ہے

مزید پڑھیے

ہم کب اس راہ سے گزرتے ہیں

ہم کب اس راہ سے گزرتے ہیں اپنی آوارگی سے ڈرتے ہیں کشتیاں ڈوب بھی تو سکتی ہیں ڈوب کر بھی تو پار اترتے ہیں توڑ کر رشتۂ خلوص احباب آنسوؤں کی طرح بکھرتے ہیں اپنے احساس کی کسوٹی پر ہم بھی پورے کہاں اترتے ہیں چاہے کیسا ہی دور آ جائے اپنے حالات کب سنورتے ہیں سطح پر ہیں حباب کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 858 سے 5858