شاعری

تھکے ماندے پرندے

پرندے اڑ رہے ہیں دور افق بوجھل فضاؤں میں تھکے ماندے پروں میں آگہی کی شورشیں لے کر پناہیں ڈھونڈتے ہیں قرمزی کرنوں کے دامن میں کوئی جائے پناہ ہو کنج ہو کلیوں کا آنگن ہو کوئی صحرا ہو نخلستان ہو بے آب دریا ہو تھکے ماندے پرندے اڑ رہے ہیں شام سر پر ہے فقط اک رات کا ٹھہراؤ اک احساس کی ...

مزید پڑھیے

ریت کا مسافر

ریت کا مسافر تھا رات کی حویلی میں صرف رات بھر ٹھہرا جوگ لے لیا اس نے ریت کی ہتھیلی سے پھول ریت کے چن کر خواب کی سہیلی سے روگ لے لیا اس نے صرف ایک لمحے کی مختصر کہانی کو ریت کے مسافر نے یوں امر بنا ڈالا کاسۂ محبت میں لے کے بھیک لفظوں کی آرزو کی آنکھوں میں اشک تر بنا ڈالا کون اب تجھے ...

مزید پڑھیے

شریک غم

بہت مغرور ہو تم بھی محبت کو سمجھتے ہو کہ جیسے دھول پاؤں کی کہ جیسے خاک راہوں کی مگر جاناں ذرا سوچو رکو لمحے کو اور دیکھو کہیں ایسا نہ ہو جائے تمہارا دل بدل جائے ستائے یاد چاہت کی یہ آنسو روگ بن جائیں تمہیں اور ہم کو تڑپائیں ذرا ٹھہرو مری سن لو کہ میں تم کو سمجھتی ہوں ذرا تم سے ...

مزید پڑھیے

سکھی

آج آؤ سکھی بتاؤں تجھے ان کہی بات ہے سناؤں تجھے کیسے ٹوٹا ملن کا خواب مرا دشت میں رہ گیا سراب مرا تم ملی ہو تو آج سوچتی ہوں پردۂ راز کو اٹھا ہی دوں آج آؤ سکھی بتا ہی دوں دل دھڑکتا ہے اور یہ جنبش بھی ایک ناکام آرزو لے کر شام وعدہ کی جستجو لے کر یوں ہی دم بھر کو مسکراتا ہے اور پھر ڈوب ...

مزید پڑھیے

آگہی

زندگی کیا ہے روشنی کے سوا روشنی کیا ہے اک خوشی کے سوا یہ خوشی وادیوں کی چھاؤں میں ناچتی ہے ہر ایک پتی پر چوم لیتی ہے بادلوں کے حصار اڑتی پھرتی ہے سکھ کی بستی پر میرے دل میں ہمک رہی ہے ابھی آتشیں رنگ یہ کرن ہی تو ہے آنکھ میں دیپ جل اٹھے ہوں جہاں یہ خوشی اک حسیں ملن ہی تو ہے اپنے ...

مزید پڑھیے

خواب آثار

ابھی تو تم سے اپنی گفتگو کے تار باقی ہیں ابھی آدھی ہے شب اور خواب کے آثار باقی ہیں ابھی منزل طلب کے راستوں میں کھوئی کھوئی ہے ابھی اک کہکشاں ہے بام پر جو سوئی سوئی ہے مرادوں اور امنگوں کے کئی کوہسار باقی ہیں ابھی آدھی ہے شب اور خواب کے آثار باقی ہیں ہمارے اور تمہارے راستوں میں ...

مزید پڑھیے

دائمی سکھ

محبت دائمی سکھ ہے کہ جس کو موت کی گھڑیاں کبھی کم کر نہیں سکتیں یہ موسم اک دفعہ آئے تو پھر آ کر ٹھہر جائے حسیں شاداب سی کلیاں نگاہوں میں سما جائیں تو پھر یہ مر نہیں سکتیں خیالوں کی روانی میں کہ جیسے بہتے پانی میں کنول کھل جائیں خوابوں کے تو قدرت مسکراتی ہے اشارہ کر کے تاروں ...

مزید پڑھیے

محبت دائمی سکھ ہے

محبت دائمی سکھ ہے کہ جس کو میت کی گھڑیاں کبھی کم کر نہیں سکتیں یہ موسم اک دفعہ آئے تو پھر آ کر شہر جائے حسیں شاداب سی کلیاں نگاہوں میں سماں جائیں تو پھر یہ مر نہیں سکتیں خیالوں کی روانی میں کہ جیسے بہتے پانی میں کنول کھل جائیں خوابوں کے تو فطرت مسکراتی ہے اشارہ کر کے تاروں ...

مزید پڑھیے

شب تنہائی

سانس روکے ہوئے اس شہر سے گزری ہے ہوا کچھ تو کہتی ہے فضا رات کے دیوانوں سے خالی سڑکوں پہ بہت شور ہے سناٹے کا گیت لکھے ہیں خموشی کی مدھر تانوں سے میرے احباب مجھے کہتے ہیں اے جان عزیز تو یہاں تنہا اندھیروں سے الجھتا کیا ہے شہر میں صف سی بچھی ہے بجھے انگاروں پر تو فقط راکھ کے انبار کو ...

مزید پڑھیے

تتلیاں

وہ سارے لمحے یہیں کہیں تھے مری محبت کی قربتوں میں بہت حسیں تھے مگر وہ لمحے تو تتلیاں تھے بہت ہی رنگین کہکشائیں تلاشتے تھے جب ان پروں پر جوان رنگوں کے عکس نکھرے تو اڑ چلے ہیں بہت ہی انجان راستوں پر نکل گئے ہیں میں خالی ہاتھوں کو دیکھتی ہوں بہت ہی حیرت سے سوچتی ہوں کہ ان میں قوس قزح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 860 سے 5858