تھکے ماندے پرندے
پرندے اڑ رہے ہیں دور افق بوجھل فضاؤں میں تھکے ماندے پروں میں آگہی کی شورشیں لے کر پناہیں ڈھونڈتے ہیں قرمزی کرنوں کے دامن میں کوئی جائے پناہ ہو کنج ہو کلیوں کا آنگن ہو کوئی صحرا ہو نخلستان ہو بے آب دریا ہو تھکے ماندے پرندے اڑ رہے ہیں شام سر پر ہے فقط اک رات کا ٹھہراؤ اک احساس کی ...