شاعری

اب تک جو بقایا ہے ادا کر دو سبھی اب اچھا ہے یہی اب

اب تک جو بقایا ہے ادا کر دو سبھی اب اچھا ہے یہی اب وہ باتیں ملاقاتیں کئی راتیں مری اب سب آج ابھی اب سر میں ترے سر اپنا کوئی کاہے ملائے جو کھائے وہ گائے چلتی جو چلی آئی نہ چلنے کی تری اب ہے باری مری اب چاہا نہ ملا جو نہیں چاہا ملا اکثر ہیرا ہو کہ پتھر ہر مال نرا کھوٹا کھری دھوکا ...

مزید پڑھیے

خود فریبی

شب ایک ساتھ گزارنے والے دن اکٹھے نہیں گزار سکتے کہ اندھیرا تنہائی کی آنکھ پر انگلی رکھ دیتا ہے اور وصلتی ہجر کا سارا دکھ پی جاتا ہے سویرا بہت بولتا ہے سارے راز کھولتا ہے رات کاٹنا مشکل دن اس سے سوا مشکل روشنی آپ کو ایک ساتھ دکھانے کا فریب دیتی ہے اور شاید کامیاب ہو جاتی ہے میں نے ...

مزید پڑھیے

پچھتاوا

یہ کس دیار میں لے آئی زندگی مجھ کو جہاں پہ پھول سے چہرے ببول لگتے ہیں جہاں پہ سایہ بھی لگتا ہے دھوپ کی مانند نسیم چلتی ہے رک رک کے ایسے سینے میں کہ جیسے پھانس کسی یاد کی اٹکتی ہو جہاں پہ ابر بھی سورج مثال لگتا ہے جہاں کرن کی ضرب زخم دل کھرچتی ہے کھلے جو پھول تو پتی سے چوٹ لگتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

پانچواں موسم

کہنے کو تو چار ہیں موسم پانچواں موسم بنجر پن کا جس میں فکر کے سارے طائر حرف کی شاخ سے اڑ جاتے ہیں جس میں لفظ کی خوشبو سرسر لے جاتی ہے بے رنگی اور بے کیفی کے ان بانجھ پلوں میں خالی پن میں صبح سے لے کر شام تلک یاس کی تان پہ ناچ ناچ کے جسم کو بوجھل کر دیتے ہیں فکر و خیال کے سارے ...

مزید پڑھیے

ہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں

ہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں بے وجہ نہیں ہے کہ جو شرمائے ہوئے ہیں تھی جن کی تب و تاب سے اس بزم کی رونق دیپک وہ سر شام ہی کجلائے ہوئے ہیں ہر سمت سیاہی ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا کیا زلف دوتا آج وہ بکھرائے ہوئے ہیں ہم خوگر تسلیم و رضا آج ہیں ورنہ ماضی میں بہت ٹھوکریں بھی کھائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

بھگت رہا ہوں خود اپنے کئے کا خمیازہ

بھگت رہا ہوں خود اپنے کئے کا خمیازہ ٹپک رہا ہے جو آنکھوں سے یہ لہو تازہ کسی کی یاد کے سائے کو ہم سفر سمجھا لگا سکو تو لگا لو جنوں کا اندازہ کسے مجال کہ اب میرے دل میں گھر کر لے ہے گرچہ اب بھی کھلا اپنے دل کا دروازہ نگار وقت نے ہر سو کمند ڈالی ہے بکھر نہ جائے کہیں انجمن کا ...

مزید پڑھیے

کب شوق مرا جذبے سے باہر نہ ہوا تھا

کب شوق مرا جذبے سے باہر نہ ہوا تھا تھا کون سا قطرہ جو سمندر نہ ہوا تھا کیا یاد تری دل کو مرے کر گئی تاریک اک گوشہ بھی تو اس کا منور نہ ہوا تھا کس طرح کوئی عہد وفا مجھ سے کرے آج جب روز ازل میں یہ مقدر نہ ہوا تھا دیدار کی حسرت ہی ہوئی وجہ تاسف قسمت میں مری حرف مکرر نہ ہوا تھا آنکھوں ...

مزید پڑھیے

پہلے تو مجھ میں حشر بپا کر دیا گیا

پہلے تو مجھ میں حشر بپا کر دیا گیا اور پھر بدن کو نذر صبا کر دیا گیا کانٹوں کی باڑ پر تھا گلابوں کا پیراہن پھولوں کو خار و خس کی قبا کر دیا گیا مانگی جو میں نے وصل کی لذت تو یہ کہا کہ تجھ کو درد ہجر عطا کر دیا گیا جب جب اسے پکارا کڑی دھوپ میں لگا سایہ سا جیسے مجھ پہ گھنا کر دیا ...

مزید پڑھیے

ایک دو پل کی آشنائی بس

ایک دو پل کی آشنائی بس اور پھر عمر بھر دہائی بس عذر دینے میں کچھ نہیں لیکن میرے دامن میں ہے خدائی بس دید کی تاب ہی نہ دی اس نے اپنی آواز ہی سنائی بس کس نے آواز خد و خال کو دی میں نے تصویر ہی بنائی بس اس کے ہاتھوں میں وصل کے گہنے میرے کاسے میں ہے جدائی بس

مزید پڑھیے

یہ ستارے مجھے دیوار نہیں ہونے کے

یہ ستارے مجھے دیوار نہیں ہونے کے خواب سے ہم ترے بیدار نہیں ہونے کے میں نے پلکوں کو بچھایا ہے ترے قدموں میں راستے اب تجھے دشوار نہیں ہونے کے چاہے تو جام بقا دینے کا وعدہ کر لے اے مسیحا ترے بیمار نہیں ہونے کے درد‌ کونین سے لبریز ہوں جن کے دامن وہ مرے غم کے خریدار نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 852 سے 5858