اب تک جو بقایا ہے ادا کر دو سبھی اب اچھا ہے یہی اب
اب تک جو بقایا ہے ادا کر دو سبھی اب اچھا ہے یہی اب وہ باتیں ملاقاتیں کئی راتیں مری اب سب آج ابھی اب سر میں ترے سر اپنا کوئی کاہے ملائے جو کھائے وہ گائے چلتی جو چلی آئی نہ چلنے کی تری اب ہے باری مری اب چاہا نہ ملا جو نہیں چاہا ملا اکثر ہیرا ہو کہ پتھر ہر مال نرا کھوٹا کھری دھوکا ...