شاعری

زیاں گر کچھ ہوا تو اتنا جتنا سود ہوتا ہے

زیاں گر کچھ ہوا تو اتنا جتنا سود ہوتا ہے یہی جو ہست ہے اس پل یہی تو بود ہوتا ہے تری موجودگی محدود کرتی ہے تجھے تجھ تک تو ناموجود ہونے ہی پہ لا محدود ہوتا ہے جسے دیکھو بہ زعم خود ہے ٹھیکے دار جنت کا کہیں اک آدھ ہی مجھ سا کوئی مردود ہوتا ہے سبھی گپ چپ تکا کرنا بت بے حس بنا رہنا خدا ...

مزید پڑھیے

کسی کا تیر کسی کی کماں ہو ٹھیک نہیں

کسی کا تیر کسی کی کماں ہو ٹھیک نہیں تمھارے منہ میں کسی کی زباں ہو ٹھیک نہیں جو خاک ہونا مقدر ہے اپنا رنگ ہے خوب تمام عمر دھواں ہی دھواں ہو ٹھیک نہیں تو مل سکا بھی تو کیا اور نہ مل سکا بھی تو کیا خیال سود ملال زیاں ہو ٹھیک نہیں گھنیری رات گھنا دشت گھور تنہائی کہیں پہ کوئی خیال ...

مزید پڑھیے

شہر میں آ ہی گئے ہیں تو گزارا کر لیں

شہر میں آ ہی گئے ہیں تو گزارا کر لیں اب بہرحال ہر اک شے کو گوارا کر لیں ڈھونڈتے ہی رہے گھر میں کوئی کھڑکی نہ ملی ہم نے چاہا جو کبھی ان کا نظارہ کر لیں اپنی تنہائی کا احساس ادھورا ہے ابھی آئینہ توڑ دیں سائے سے کنارا کر لیں اپنے جلتے ہوئے احساس میں تپتے تپتے موم بن جائیں یا اپنے ...

مزید پڑھیے

نظر سمیٹیں بٹور کر انتظار رکھ دیں

نظر سمیٹیں بٹور کر انتظار رکھ دیں جو اس پہ تھا اب تلک ہمیں اعتبار رکھ دیں بس ایک خواہش مدار تھی اپنی زندگی کا کسی کے ہاتھوں میں اپنا دار و مدار رکھ دیں تجھے جکڑ لے کبھی سلیقہ یہی نہیں ہے ہے جی میں سب نوچ کر نگاہوں کے تار رکھ دیں بڑی ہی نرمی سے اس کی آنکھیں مصر ہوئی تھیں ہم اس کے ...

مزید پڑھیے

تو کیا جانے تیری بابت کیا کیا سوچا کرتے ہیں

تو کیا جانے تیری بابت کیا کیا سوچا کرتے ہیں آنکھیں موندے رہتے ہیں اور تجھ کو سوچا کرتے ہیں دور تلک لہریں بنتی ہیں پھیلتی ہیں کھو جاتی ہیں دل کے باسی ذہن کی جھیل میں کنکر پھینکا کرتے ہیں ایک گھنا سا پیڑ تھا برسوں پہلے جس کو کاٹ دیا شام ڈھلے کچھ پنچھی ہیں اب بھی منڈلایا کرتے ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا غم ڈھوئیں اور رو رو جی ہلکان کریں

تنہائی کا غم ڈھوئیں اور رو رو جی ہلکان کریں اس سے بہتر ہوگا کہ وہ مشق تیر و کمان کریں وقت کا رونا رونے والے وقت کو ضائع کرتے ہیں پلکوں سے لمحوں کی کرچیں چننے کا سامان کریں سڑکوں کے چوراہوں پر جن کو تنہائی گھیرے ہو اس سیمابی دنیا میں کیوں جینے کا ارمان کریں باہر کی دنیا میں جن ...

مزید پڑھیے

ذات کا گہرا اندھیرا ہے بکھر جا مجھ میں

ذات کا گہرا اندھیرا ہے بکھر جا مجھ میں ڈوبتی شام کے سورج تو اتر جا مجھ میں ابن آدم ہوں میں شہزادۂ تعمیر حیات تو جو بگڑا ہو تو اے وقت سنور جا مجھ میں پھر سے اک شکل نئی تجھ کو عطا کر دوں گا اے مری زیست کسی روز تو مر جا مجھ میں آئے اور بیت گئے کتنے ہی ساون لیکن کوئی جذبہ کوئی بادل ...

مزید پڑھیے

یہ کہو یہ نہ کہو ایسے کہو ایسے نہیں

یہ کہو یہ نہ کہو ایسے کہو ایسے نہیں سن اے نقاد تری گود کے ہم پالے نہیں ہم چھڑے چھانٹ یک و تنہا ادب کا میداں کوئی ہم زلف نہیں اور سسر سالے نہیں مومن و کافر و مشرک نہ تو مرتد ملحد اپنے ڈانڈے تو کسی سے بھی کہیں ملتے نہیں روکھی پھیکی سی کبھی چٹنی کہیں سادی سی دال اپنی غزلوں کے مقدر ...

مزید پڑھیے

تم میں تو کچھ بھی واہیات نہیں

تم میں تو کچھ بھی واہیات نہیں جاؤ تم آدمی کی ذات نہیں دل میں جو ہے وہی زبان پے ہے اور کوئی ہم میں خاص بات نہیں سب کو دھتکارا درکنار کیا ایک بس خود ہی سے نجات نہیں کھل کے ملتے ہیں جس سے ملتے ہیں ذہن میں کوئی چھوت چھات نہیں اک تعلق سبھی سے ہے لیکن سب سے جائز تعلقات نہیں شاعری ہے ...

مزید پڑھیے

زمیں چلائی چیخی بلبلا کے

زمیں چلائی چیخی بلبلا کے نہ جوں تک رینگی کانوں پر خدا کے میں تیرے قہر کے صدقے خدایا ادھورے رہ گئے جملے دعا کے کریدے راکھ ڈھونڈے خاک کوئی سبھی ناپید ہے جب جل جلا کے تمنا آرزو ارمان حسرت پرندے اڑ گئے پر پھڑپھڑا کے پڑی ہے زندگی ڈھانپے لپیٹے فنا دوڑے پھرے ہے دندنا کے پھٹا مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 851 سے 5858