باغ میں کلیوں کا مسکانا گیا
باغ میں کلیوں کا مسکانا گیا پھول پر تتلی کا منڈلانا گیا بے ہنر ہونا بھی گویا ہے ہنر راز یہ تاخیر سے جانا گیا میرے دل میں بھی تپاں ہیں ولولے کیوں مجھے بے آرزو مانا گیا بند غم سے ہم رہا نہ ہو سکے رائیگاں سب سب کا سمجھانا گیا ہاتھ ملتا رہ گیا شوق جنوں توڑ کر زنجیر دل دانا گیا ہو ...