شاعری

باغ میں کلیوں کا مسکانا گیا

باغ میں کلیوں کا مسکانا گیا پھول پر تتلی کا منڈلانا گیا بے ہنر ہونا بھی گویا ہے ہنر راز یہ تاخیر سے جانا گیا میرے دل میں بھی تپاں ہیں ولولے کیوں مجھے بے آرزو مانا گیا بند غم سے ہم رہا نہ ہو سکے رائیگاں سب سب کا سمجھانا گیا ہاتھ ملتا رہ گیا شوق جنوں توڑ کر زنجیر دل دانا گیا ہو ...

مزید پڑھیے

اے خواہش یک طرفۂ تاراج جنوں سن

اے خواہش یک طرفۂ تاراج جنوں سن سن دل کے قریں زمزمۂ کن فیکوں سن سننے کی ہے جو تاب تو پھر کھول دریچے اے گوش محبت مرا احوال زبوں سن کیوں اس میں جلاتا نہیں تو یاد کی شمعیں کب تک تو رہے گا یوں تہی کنج دروں سن اک بار وہ آیا تھا مری عشرت شب میں طاری ہے مرے دل پہ وہی شام فسوں سن خمیازۂ ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی تعبیر بنا کر دیکھوں تو

خوابوں کی تعبیر بنا کر دیکھوں تو میں تیری تصویر بنا کر دیکھوں تو اک قیدی کو کروٹ لینا مشکل ہے پھولوں سے زنجیر بنا کر دیکھوں تو اک ویران سا رستہ ہو اور شام ڈھلے اس پر اک رہ گیر بنا کر دیکھوں تو دنیا تجھ پر قبضہ کرنے آتی ہے میں تجھ کو جاگیر بنا کر دیکھوں تو کاغذ کی کشتی میں دریا ...

مزید پڑھیے

گل نہیں خار سمجھتے ہیں مجھے

گل نہیں خار سمجھتے ہیں مجھے سب گراں بار سمجھتے ہیں مجھے ہیں اندھیرے بھی گریزاں مجھ سے چشم بیدار سمجھتے ہیں مجھے میری پیشانی پہ محراب نہیں وہ گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے دولت درد میرا سرمایہ کیوں وہ نادار سمجھتے ہیں مجھے دور بیٹھے ہیں مری محفل سے وجہ آزار سمجھتے ہیں مجھے چارہ ...

مزید پڑھیے

میں یہ دن رات بدل ڈالوں گی

میں یہ دن رات بدل ڈالوں گی اپنے حالات بدل ڈالوں گی کب تلک آس کی سولی پہ رہوں اب یہ جذبات بدل ڈالوں گی دل کی ٹھوکر پہ اسے رکھوں گی غم کی اوقات بدل ڈالوں گی اس کی سوچوں پہ تصرف ہے مرا سو خیالات بدل ڈالوں گی ہار سے اپنی نہ ہو رنجیدہ جیت سے مات بدل ڈالوں گی بن ترے جی کے دکھاؤں گی ...

مزید پڑھیے

کب سنی تم نے راگنی میری

کب سنی تم نے راگنی میری گفتنی ہے یہ خامشی میری ایک آہٹ سے جاگتی ہوں میں ایک دستک ہے زندگی میری ابر ظلمت کسے ڈراتا ہے اور پھیلے گی چاندنی میری کون ٹھہرے گا دیکھنا یہ ہے دور مینا یا تشنگی میری آہ آیا ہی تھا وہ سپنے میں دفعتاً آنکھ کھل گئی میری وجہ بے چینی کیا بتاؤں میں چین تیرا ...

مزید پڑھیے

جنون عشق کی آمادگی نے کچھ نہ دیا

جنون عشق کی آمادگی نے کچھ نہ دیا یہاں بھی زیست کی افتادگی نے کچھ نہ دیا لہو کی موج سے بام خیال روشن ہے دمکتے چاند کی استادگی نے کچھ نہ دیا یہ لب تمہارے نہیں کر سکے مسیحائی انہیں بھی وقفۂ واماندگی نے کچھ نہ دیا سمیٹ لائے تھے جتنے بھی خواب تھے لیکن حضور دوست بھی دیوانگی نے کچھ ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی ہو تقدیر کا لکھا بدل

کچھ بھی ہو تقدیر کا لکھا بدل چاہئے تجھ کو کہ اب رستا بدل بعد میں مجھ کو دکھانا آئنہ پہلے اپنا جا کے تو چہرہ بدل آگہی کا جس میں اک روزن نہ ہو اس مکان ذات کا نقشہ بدل میری وحشت ہے سوا اس سے کہیں بارہا اس سے کہا صحرا بدل نعمتیں دنیا کی سب مل جاتی ہیں ماں نہیں ملتا مگر تیرا بدل پھر ...

مزید پڑھیے

اٹھائے گا کب تو حجابات ساقی

اٹھائے گا کب تو حجابات ساقی گرفتار مشکل میں ہے ذات ساقی یہ محصور کس دائرے میں ہوئی ہوں نہ دن ہی مرا نہ مری رات ساقی اگر مل گئے ہو تو رک جاؤ دو پل نہ جانے ہو پھر کب ملاقات ساقی یہاں ہوش والوں کا جینا ہے مشکل تو لے چل ہمیں پھر خرابات ساقی ترا مے کدہ تیرے پیالے صبوحی کرے کوئی کیسے ...

مزید پڑھیے

سوال

ایک پتھر پہ بیٹھے ہوئے جھیل میں پاؤں ڈالے میں یہ سوچتا ہوں شب و روز کا یہ تماشا بھی کیوں ہے آسماں کی بلندی جو اک ان چھوا راز ہے وہ کیا ہے میرے وجدان نے روح کی بے قراری کو تسکین دینے کی خاطر بنایا خدا ہے خدا ہے زمیں ہے زماں ہے شب و روز ہیں چاند سورج ستارے آسماں کی بلندی جو اک ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 853 سے 5858