شاعری

ذرا سی دیر سہی رخ بدلنا چاہتا ہے

ذرا سی دیر سہی رخ بدلنا چاہتا ہے جسے بھی دیکھیے گھر سے نکلنا چاہتا ہے مرا مزاج سمجھنے کی بھی کرے زحمت وہ ایک شخص کہ مجھ کو بدلنا چاہتا ہے لرز رہی ہے یہاں لو چراغ خانہ کی بتاؤ کون سر راہ جلنا چاہتا ہے اک اضطراب ہے دل سے دریچۂ جاں تک یہ کون مجھ میں چھپا ہے نکلنا چاہتا ہے نئے سفر ...

مزید پڑھیے

مجھ سا کب شہر گرد تھا پہلے

مجھ سا کب شہر گرد تھا پہلے جو تھا صحرا نورد تھا پہلے اتنی ہنگامہ خیز کب تھی حیات اتنا تنہا نہ فرد تھا پہلے برف باری تو ہوتی رہتی ہے سرد ہوں میں نہ سرد تھا پہلے اس قدر تو نہ پھول اے سرسوں سبز موسم بھی زرد تھا پہلے جس کو دیکھا وہ کہہ رہا تھا غزل معتبر کب یہ درد تھا پہلے

مزید پڑھیے

جنون شوق میں اپنی گرہ سے کیا نہ گیا

جنون شوق میں اپنی گرہ سے کیا نہ گیا یہ اور بات کہ اب تک وہ حوصلا نہ گیا غبار راہ تھے برسا جوں ہی سحاب کرم کچھ ایسے بیٹھ گئے ہم کہ پھر اٹھا نہ گیا یہ حادثہ ہے کہ افسانۂ غم ہستی کہیں کہا نہ گیا اور کہیں سنا نہ گیا کہاں کہاں اسے دیکھوں کہاں کہاں جاؤں تلاش کو وہ کوئی دائرہ بنا نہ ...

مزید پڑھیے

حواس میں وہ رہا ہو کہ بد حواس بہت

حواس میں وہ رہا ہو کہ بد حواس بہت ہر آدمی کو بدلنے پڑے لباس بہت تھکن سے چور بدن دشت یاس و تنہائی اندھیری رات ندی دور اور پیاس بہت شراب خانے کا سادہ سا اک اصول یہ ہے جسے شراب میسر اسے گلاس بہت قدم قدم نظر آتے ہیں موت کے سائے ہمارے دشت سے شہروں میں ہے ہراس بہت بہر عمل ابھی رد عمل ...

مزید پڑھیے

نغمگی سے سکوت بہتر تھا

نغمگی سے سکوت بہتر تھا میں تھا اور اک کرائے کا گھر تھا کوئی مجھ سا نہ دوسرا آیا یوں تو ہر شخص مجھ سے بہتر تھا ہر طرف قحط آب تھا لیکن ایک طوفان میرے اندر تھا میں بنا تھا خلیفۂ دوراں یوں کہ کانٹوں کا تاج سر پر تھا میں مسلسل وہاں چلا کہ جہاں دو قدم کا سفر بھی دوبھر تھا گھر گیا ...

مزید پڑھیے

چاہنے پر بھی نہ چاہا ہم کو

چاہنے پر بھی نہ چاہا ہم کو اس نے ہم سے بھی چھپایا ہم کو جس نے مضمون لکھے تھے ہم پر اس نے پھر خط بھی نہ لکھا ہم کو جو مسرت ملی تقسیم ہوئی اور ملا درد سو تنہا ہم کو حادثوں ہی نے چڑھایا پروان غم ملے حوصلہ افزا ہم کو ہم کہ دنیا کے لئے روئے ہیں دیکھنا روئے گی دنیا ہم کو

مزید پڑھیے

مقبرہ بن جائے خود معمار کا

مقبرہ بن جائے خود معمار کا کیا بھروسہ ریت کی دیوار کا کس طرف اٹھے قدم کس کو غرض شہر میں چرچا رہا رفتار کا غم زدہ تو مطمئن سا تھا مگر کس نے سمجھا غم کسی غم خوار کا میں ہوں اور ہر ذرۂ صحرا کا غم تو ہے اور ماتم در و دیوار کا رابطہ رکھئے ہر اک فن کار سے شعر کہئے اپنے ہی معیار کا اس ...

مزید پڑھیے

سارے عالم کے درد مند رہے

سارے عالم کے درد مند رہے ہم بھی کیا انتہا پسند رہے سرکشی تھی ہماری فطرت میں پست جتنے ہوئے بلند رہے ہوشمندی تو اک ضرورت تھی فطرتاً ہم جنوں پسند رہے آبرو فن کی انکسار سے تھی سر جھکایا تو سر بلند رہے ہم زمانے کے درد اپنا کر اپنے گھر ہی میں نا پسند رہے بعد تیرے نہ جی لگا لیکن کون ...

مزید پڑھیے

وجود برق ضروری ہے گلستاں کے لئے

وجود برق ضروری ہے گلستاں کے لئے پیام لاتی ہے تعمیر آشیاں کے لئے ازل سے تا بہ قیامت سکوں نہیں ملتا مرے نصیب کی گردش ہے آسماں کے لئے یہ اور بات ہے پھولوں کا تنگ دامن ہے بہاریں پھرتی ہیں بیتاب گلستاں کے لئے نہ پوچھ حال دل زار ہم نشیں مجھ سے کلیجہ چاہئے پتھر کا راز داں کے لئے مرا ...

مزید پڑھیے

حسن کی بجلیاں الاماں الاماں

حسن کی بجلیاں الاماں الاماں عشق کی گرمیاں جاوداں جاوداں باغ میں گر نشیمن جلا کیا ہوا غم ہے صحرا ہوئے گلستاں گلستاں کچھ نہ محمل نشیں کا پتہ مل سکا ہم پھرے ڈھونڈتے کارواں کارواں باغ عالم میں گر کوئی بجلی گری روشنی ہو گئی آشیاں آشیاں ہے یقیناً کوئی بات ایسی کہ تم ہو تبسم بہ لب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 813 سے 5858