شاعری

جب ہجوم غم سے جی گھبرا گیا

جب ہجوم غم سے جی گھبرا گیا جانے کیوں لب پر ترا نام آ گیا آہ شارقؔ اب مری حالت نہ پوچھ دل دہی سے اور وہ تڑپا گیا دل پہ جو گزرے وہ سہہ لیتا ہوں میں اب مجھے ہر زہر پینا آ گیا آب دیدہ جب نظر آیا کوئی یاد اک بھولا فسانہ آ گیا بجلیوں میں گھر کے اے شارقؔ ہمیں آشیانے کا بنانا آ گیا

مزید پڑھیے

ترے بغیر ہے اب یہ مری خوشی اے دوست

ترے بغیر ہے اب یہ مری خوشی اے دوست خوشی ملے نہ مجھے عمر بھر کبھی اے دوست ترا خیال تھا مقصود زندگی اپنا تری طلب تھی اندھیرے میں روشنی اے دوست اب اس کے بعد کسے آرزو ہے جینے کی تری نگاہ کرم تک تھی زندگی اے دوست تری جدائی میں اکثر یہ سوچتا ہوں میں نہ جانے کیسے کٹے گی یہ زندگی اے ...

مزید پڑھیے

گزرنے کو تو شارقؔ اپنی ہر عالم میں گزری ہے

گزرنے کو تو شارقؔ اپنی ہر عالم میں گزری ہے وہی ہے زندگی لیکن جو ان کے غم میں گزری ہے وہ افتاد خزاں ہو یا بہاروں کی جنوں خیزی قیامت ہے پہ سچ پوچھو تو ہر موسم میں گزری ہے وہ کوئی اور ہوں گے خواہش امن و سکوں والے یہاں تو عمر ساری کاوش پیہم میں گزری ہے نہ پوچھ اے ہم نشیں کیا سانحے ...

مزید پڑھیے

ہوا بدلتے ہی پہلی سی دل کشی نہ رہی

ہوا بدلتے ہی پہلی سی دل کشی نہ رہی یہ کیا ہوا کہ وہ پھولوں میں تازگی نہ رہی کسی کے درد محبت کے بخشنے کی تھی دیر پھر اس کے بعد کسی چیز کی کمی نہ رہی یہ سوچتا ہوں زمانے کا حال کیا ہوگا اگر دلوں میں محبت کی روشنی نہ رہی ترے بغیر بھی ہنسنے کو میں ہنسا ہوں مگر ہنسی کی طرح لبوں پر کبھی ...

مزید پڑھیے

جب دل کی خلش بڑھ جاتی ہے مجبور جب انساں ہوتا ہے

جب دل کی خلش بڑھ جاتی ہے مجبور جب انساں ہوتا ہے جینا جسے مشکل ہو جائے مرنا اسے آساں ہوتا ہے آئی تھی جوانی ہم پر بھی ہم نے بھی بہاریں دیکھی ہیں اس دور سے ہم بھی گزرے ہیں اک خواب پریشاں ہوتا ہے بے کار ہے شکوہ اپنوں کا بے سود شکایت غیروں کی جب وقت برا آ جاتا ہے سایہ بھی گریزاں ہوتا ...

مزید پڑھیے

ابر و شاکر رہے شاداں رہے

ابر و شاکر رہے شاداں رہے خوش رہے جس حال میں انساں رہے تم کو آئینے میں کیا آیا نظر مثل آئینہ جو تم حیراں رہے اس محبت کا برا ہو عشق میں چار دن بھی تو نہ ہم شاداں رہے تھے وہ حسن و عشق کے راز و نیاز قید زنداں میں مہ کنعاں رہے تم نہیں ہو تو تمہاری یاد ہے خانۂ دل کس لئے ویراں رہے قتل ...

مزید پڑھیے

یاد اس کی ہے بہت جی مرا بہلانے کو

یاد اس کی ہے بہت جی مرا بہلانے کو جس نے افسانہ بنایا مرے افسانے کو شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی دل نے جب چھیڑ دیا درد کے افسانے کو آ گئی یاد کسی کی نگہ مست مجھے ابھی ہونٹوں سے لگایا ہی تھا پیمانے کو اب نہ ساغر کی ہوس ہے نہ تمنائے بہار تیرے دامن کی ہوا مل گئی دیوانے کو لذت ...

مزید پڑھیے

زندگی اس کو راس آئی ہے

زندگی اس کو راس آئی ہے جس نے غم سے حیات پائی ہے کون سمجھا فسانۂ دل کو میں ہوں تنہا جہاں خدائی ہے برق سوزاں گری ہے جب بھی کہیں آنچ میرے قفس تک آئی ہے اک مزہ دے گئے ہیں کانٹے بھی ہائے کیا شے برہنہ پائی ہے جب ہنسی لب پہ آئی ہے شارقؔ آنکھ کیا جانے کیوں بھر آئی ہے

مزید پڑھیے

کسی کا خرام جواں دیکھتا ہوں

کسی کا خرام جواں دیکھتا ہوں ترنم کی جوئے رواں دیکھتا ہوں کبھی دیکھتا ہوں سوئے جادۂ غم کبھی اپنا عزم جواں دیکھتا ہوں اک ایسا بھی عالم گزرتا ہے مجھ پر کہ قدموں میں دونوں جہاں دیکھتا ہوں حجاب رخ لالہ و گل اٹھا کر محبت کی چنگاریاں دیکھتا ہوں یہ تمہید ہے جور تازہ کی شاید انہیں آج ...

مزید پڑھیے

کسی طرح خلش آرزو مٹا نہ سکے

کسی طرح خلش آرزو مٹا نہ سکے ترے قریب بھی آ کر سکون پا نہ سکے چمن میں دیکھے کوئی اس کلی کی محرومی جو مسکرائے تو جی بھر کے مسکرا نہ سکے اسی کا سجدہ اسی کا نیاز اسی کی نماز جو اس کے در پہ جھکا کر جبیں اٹھا نہ سکے جہان عشق میں ہے انقلاب کی ضامن وہ ایک آہ جو دل سے لبوں تک آ نہ سکے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 785 سے 5858