شاعری

رسوا بقدر ذوق تمنا نہیں ہوں میں

رسوا بقدر ذوق تمنا نہیں ہوں میں اپنے عروج پر ابھی پہونچا نہیں ہوں میں نیرنگ قید ہستیٔ فانی نہ پوچھئے مرتا ہوں روز اور کبھی مرتا نہیں ہوں میں تاثیر ہی بیاں میں نہ ہو جب تو کیا کروں کیا اپنا حال ان کو سناتا نہیں ہوں میں جو مجھ کو دیکھتے ہیں تجھے دیکھتے ہیں وہ شاید تری نگاہ کا ...

مزید پڑھیے

اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو

اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو جسے حاصل ہو تیرا قرب وہ تجھ سے جدا کیوں ہو یہ ہستی و عدم کیوں ہو فنا کیوں ہو بقا کیوں ہو تمہیں تم ہو تو پھر دل میں خیال ماسوا کیوں ہو وفا میں ہے وفائی ہے وفائی میں وفا کیسی وفا ہو تو جفا کیوں ہو جفا ہو تو وفا کیوں ہو نتیجہ کچھ نہیں ہے شمع ...

مزید پڑھیے

حقیقت سامنے تھی اور حقیقت سے میں غافل تھا

حقیقت سامنے تھی اور حقیقت سے میں غافل تھا مرا دل تیرا جلوہ تھا ترا جلوہ مرا دل تھا ہوا نظارہ لیکن یوں کہ نظارہ بھی مشکل تھا جہاں تک کام کرتی تھیں نگاہیں طور حائل تھا رہا جان تمنا بن کے جب تک جان مشکل تھا نہ تھی مشکل تو اس کے بعد پھر کچھ بھی نہ تھا دل تھا نظر بہکی حجاب اٹھا ہوئی ...

مزید پڑھیے

سچ ہے ان کو مجھ سے کیا اور میرے افسانے سے کیا

سچ ہے ان کو مجھ سے کیا اور میرے افسانے سے کیا کر دیا دیوانہ تو اب کام دیوانے سے کیا عشق کا عالم جدا ہے حسن کی دنیا جدا مجھ کو آبادی سے کیا اور تم کو ویرانے سے کیا میری حیرت اس طرف ہے تیری غفلت اس طرف دیکھیے دیوانہ اب کہتا ہے دیوانے سے کیا شمع کی لو ہے تو اس کا رخ بھی ہے سوئے ...

مزید پڑھیے

تجویز

شرافتوں کے سر و پا اتار کر پھینکیں چلیں سڑک پہ ذرا گھومیں فقرے چست کریں کسی کو بے وجہ چھیڑیں ہنسی اڑائیں بلائیں بلا کے پیار کریں ستائیں راستے چلتے کسی مسافر کو غلط پتا دیں سڑک کے بیچ چلیں غتہ کو پا کے اترائیں لگائیں ٹھوکریں فٹ بال مان کر اس کو لگے کسی کے جو جا وہ تو ادھر ادھر ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

فضاؤں میں پھیلی خزاں کی خموشی سمٹنے لگی ہے کھلی ادھ کھلی سی کئی کھڑکیوں سے

مزید پڑھیے

تذبذب

سچ بتاؤ جو کتابوں میں لکھا ہے کیا وہ سب تم نے کہا ہے جب اذیت جسم سے رسنے لگے گی جب دعا کو اٹھنے والے ہاتھ شل ہونے لگیں گے اور شل ہوتے ہوئے ہاتھوں کو کاٹ ڈالا جائے گا شانوں سے میرے جب ثنا کی صوت پھونک ڈالے گی لبوں کو آرزو میں آبلوں سی آنکھیں نیزے پھوڑ دیں گے اور گلا بنجر زمیں سا کچھ ...

مزید پڑھیے

سبھی ویسے کا ویسا ہے

سبھی کچھ ویسے کا ویسا ہے کہیں کچھ بھی نہیں بدلا دور سے آواز دیتیں محرابیں دھوجائیں نکیلے اور گول گنبد غٹرغوں کرتے کبوتر ٹوٹتے بکھرتے قلعے کی منہدم برجیوں پہ اگی جلی گھاس برساتی نالے کی ناف سے نکلتی پگڈنڈی پار کوٹھار گاڈولیا لوہار گھنا چھتنار پیڑ پیپل کا اونگھتی السائی ...

مزید پڑھیے

تجسس

ایک بار صرف ایک بار آتی ہو دبے پاؤں اور دبے پاؤں ہی گزر جاتی ہو تمہاری آمد اور ساعتوں کا قیام کتنا مختصر ہے لیکن کتنا فخر آور مگر جہاں تم بار بار پلٹ پلٹ کر جاتی ہو وہاں بھی تمہارے یہی معنی ہیں بہار

مزید پڑھیے

پرانے مندر میں شام

اب تو وہاں نشان ہے جہاں کبھی دیوتا کہ مورتی رہی ہوگی شکستہ شہتیر میں پھنسا بچا زنجیر کا حلقہ جس میں شاید کبھی گھنٹی لٹکتی ہو صحن میں راکھ ہے کسی نے الاؤ جلایا ہوگا روشنی اور گرمی کے لئے درکتی دہلیز پر ریوڑ سے بچھڑی بھیڑ پرانے سجدے چنتی ہے پیلے پائے دانوں پر نقوش پا ابھرتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 742 سے 5858