شاعری

موج ہوا سے پھولوں کے چہرے اتر گئے

موج ہوا سے پھولوں کے چہرے اتر گئے گل ہو گئے چراغ گھروندے بکھر گئے پیڑوں کو چھوڑ کر جو اڑے ان کا ذکر کیا پالے ہوئے بھی غیر کی چھت پر اتر گئے یادوں کی رت کے آتے ہی سب ہو گئے ہرے ہم تو سمجھ رہے تھے سبھی زخم بھر گئے ہم جا رہے ہیں ٹوٹتے رشتوں کو جوڑنے دیوار و در کی فکر میں کچھ لوگ گھر ...

مزید پڑھیے

پرکھوں سے جو ملی ہے وہ دولت بھی لے نہ جائے

پرکھوں سے جو ملی ہے وہ دولت بھی لے نہ جائے ظالم ہوائے شہر ہے عزت بھی لے نہ جائے وحشت تو سنگ و خشت کی ترتیب لے گئی اب فکر یہ ہے دشت کی وسعت بھی لے نہ جائے پیچھے پڑا ہے سب کے جو پرچھائیوں کا پاپ ہم سے عداوتوں کی وہ عادت بھی لے نہ جائے آنگن اجڑ گیا ہے تو غم اس کا تا بہ کے محتاط رہ کہ ...

مزید پڑھیے

ریت پر جتنے بھی نوشتے ہیں

ریت پر جتنے بھی نوشتے ہیں اپنے ماحول کے مجلے ہیں کون جانے کہاں دفینے ہیں اپنے تو پاس صرف نقشے ہیں صورتیں چھین لے گیا کوئی اس برس آئینے اکیلے ہیں خواب خوشبو، خیال، اور خدشے ایک دیوار سو دریچے ہیں دوستی عشق اور وفاداری سخت جاں میں بھی نرم گوشے ہیں پڑھ سکو تو کبھی پڑھو ان ...

مزید پڑھیے

موسم غم گزر نہ جائے کہیں

موسم غم گزر نہ جائے کہیں شب میں سورج نکل نہ آئے کہیں اپنی تنہائیاں چھپانے کو بت بنائے صنم گرائے کہیں وہ سراپا ہے خواب خوشبو کا جھونکا جھونکا بکھر نہ جائے کہیں ڈر یہ کیسا ہوا سفر میں مجھے راستہ ختم ہو نہ جائے کہیں کیا بتاؤں وہ کیوں پریشاں ہے مجھ کو ڈھونڈے کہیں چھپائے کہیں سب ...

مزید پڑھیے

رنگوں کا تقدس

مجھے سب خبر ہے اسے بھی پتا ہے کہ اب وسعتوں میں نہیں اور کچھ بھی فقط وسعتیں ہیں ہمیں رنگوں کا اندرجالی تقدس اٹھائے اٹھائے سفر کی صعوبت یوں ہی جھیلنی ہے خبر ہے کہ خوشبو کا آکار کچھ بھی نہیں ہے پتہ ہے کہ لمس اک قبا ڈھونڈھتا ہے نفس نیزوں ہی پر ہواؤں کے سر کو اٹھائے اٹھائے یوں ہی ...

مزید پڑھیے

سایوں کے سائے میں

منتظر متشوش و منتشر کتنے مکانوں کی قطاریں اس کھنڈر کی اور جو شاید کبھی معبد کدہ ہیں ان کا جن کے گم ہونے سے ہیں گم سم سبھی گلیاں اور گزر گاہوں پہ منڈلاتا ہوا آسیبی سایہ موڑ پر رکتی سسکتی اجنبی سایوں سے سہمی کوئی پرچھائیں پلٹتی بھاگتے قدموں کی آہٹ ڈوب جاتی آب جو کے ٹھیک بیچوں بیچ

مزید پڑھیے

بیاضیں کھو گئی ہیں

بیاضیں جن میں ان دیکھے پرندوں کے پتے لکھے بیاضیں! جن میں ہم نے پھولوں کی سرگوشیاں لکھیں پہاڑوں کے رموز اور آبشاروں کی زباں لکھی بیاضیں! جن کے سینے میں سمندر اور سورج کی عداوت کے تھے افسانے پرندے اور پیڑوں کے رقم تھے باہمی رشتے ہمارے ارتقا کی الجھنیں جن سے منور تھیں بیاضیں کھو ...

مزید پڑھیے

چھین کر وہ لذت صوت و صدا لے جائے گا

چھین کر وہ لذت صوت و صدا لے جائے گا ہاتھ شل کر جائے گا حرف دعا لے جائے گا بیچ کا بڑھتا ہوا ہر فاصلہ لے جائے گا ایک طوفاں آئے گا سب کچھ بہا لے جائے گا دیکھنا بڑھتا ہوا یہ خواہشوں کا سلسلہ موج خوں دکھلائے گا رنگ حنا لے جائے گا بے مقدر چھوڑ جائے گا سبھی پیشانیاں روشنی آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

موج ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی

موج ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی اڑتے ہوئے پرندوں کے پر بھی کتر گئی آنکھیں کہیں دماغ کہیں دست و پا کہیں رستوں کی بھیڑ بھاڑ میں دنیا بکھر گئی کچھ لوگ دھوپ پیتے ہیں ساحل پہ لیٹ کر طوفان تک اگر کبھی اس کی خبر گئی نکلے کبھی نہ گھر سے مگر اس کے باوجود اپنی تمام عمر سفر میں گزر ...

مزید پڑھیے

وہ کچھ اس طرح چاہتا ہے مجھے

وہ کچھ اس طرح چاہتا ہے مجھے اپنے جیسا بنا دیا ہے مجھے اس طرح اس نے خط لکھا ہے مجھے جیسے دل سے بھلا دیا ہے مجھے گر نہیں چاہتا تو پچھلے پہر کیوں دعاؤں میں مانگتا ہے مجھے جس پہ پھلتے نہیں دعا کے پیڑ اس زمیں سے پکارتا ہے مجھے تخلیئے میں نہ جانے کتنی بار لکھتے لکھتے ہٹا چکا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 743 سے 5858