موج ہوا سے پھولوں کے چہرے اتر گئے
موج ہوا سے پھولوں کے چہرے اتر گئے گل ہو گئے چراغ گھروندے بکھر گئے پیڑوں کو چھوڑ کر جو اڑے ان کا ذکر کیا پالے ہوئے بھی غیر کی چھت پر اتر گئے یادوں کی رت کے آتے ہی سب ہو گئے ہرے ہم تو سمجھ رہے تھے سبھی زخم بھر گئے ہم جا رہے ہیں ٹوٹتے رشتوں کو جوڑنے دیوار و در کی فکر میں کچھ لوگ گھر ...