شاعری

آٹا

حضرت آدم پہ جو گزری ہے سب کو یاد ہے دانۂ گندم کی زندہ آج تک بیداد ہے آج پھر اولاد آدم پر وہی افتاد ہے اس کا بانی بھی فرشتوں کا وہی استاد ہے دور دورہ آج اس کا چور بازاروں میں ہے ماہرین چور بازاری کے غم خواروں میں ہے ان میں دیکھا اس کا جلوہ جو ذخیرہ باز ہیں دفن تہہ خانوں میں جن کے ...

مزید پڑھیے

وزیر کا فرمان

لوگو مجھے سلام کرو میں وزیر ہوں گردن کے ساتھ خود بھی جھکو میں وزیر ہوں گردن میں ہار ڈال دو میں جھک سکوں اگر نعرے بھی کچھ بلند کرو میں وزیر ہوں تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورے پر آؤں جب موٹر کے ساتھ ساتھ چلو میں وزیر ہوں لکھے ہیں شاعروں نے قصائد مرے لیے ایک آدھ نظم تم بھی کہو میں وزیر ...

مزید پڑھیے

جو ہم انجام پر اپنی نظر اے باغباں کرتے

جو ہم انجام پر اپنی نظر اے باغباں کرتے چمن میں آگ دے دیتے قفس کو آشیاں کرتے اجل کمبخت آتی ہے نہیں در پر ترے ورنہ ہم ایسی موت پر بھی زندگانی کا گماں کرتے سہی افشائے راز عشق لیکن یہ مصیبت ہے نہ کرتے سجدہ تیرے در پر آخر تو کہاں کرتے ہمیں دیر و حرم میں قید رکھا بد نصیبی نے جہاں سجدہ ...

مزید پڑھیے

زندہ ہوں یوں کہ بس میں مری خود کشی نہیں

زندہ ہوں یوں کہ بس میں مری خود کشی نہیں آخر یہ اور کیا ہے اگر بے بسی نہیں وہ دل دیا نصیب نے جس میں خوشی نہیں اک چیز تو ملی ہے مگر کام کی نہیں ہاں اے شب فراق تجھے جانتا ہوں میں تو صبح تک رہی تو مری زندگی نہیں ہرگز فریب رنگ مسرت نہ کھائیے یہ غم کا نام ہے یہ حقیقی خوشی نہیں دنیا کی ...

مزید پڑھیے

اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا

اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا بتوں کے سامنے جا کر خدا کا واسطہ دینا نگاہ شوق کا بڑھ کر نقاب رخ اٹھا دینا ترے جلوے کا برہم ہو کے اک بجلی گرا دینا خدائی ہی خدا کی خاک سے انساں بنا دینا تمہارا کھیل ہے انساں کو مٹی میں ملا دینا میں اپنی داستان درد دل رو رو کے کہتا ہوں جہاں ...

مزید پڑھیے

کون سا جادو ہے یا رب اس نگاہ ناز میں

کون سا جادو ہے یا رب اس نگاہ ناز میں دیکھتا ہوں جب تو پاتا ہوں نئے انداز میں موت تھی میرے لئے تیری نگاہ ناز میں زندگی کا راز تھا تیرے لب اعجاز میں صاف تصویریں نظر آتی ہیں حسن و عشق کی تجھ کو میرے عجز میں اور مجھ کو تیرے ناز میں اپنے زنداں کو اڑا کر باغ میں لے جائیں ہم لیکن اب ...

مزید پڑھیے

فریب ذوق کو ہر رنگ میں عیاں دیکھا

فریب ذوق کو ہر رنگ میں عیاں دیکھا جہاں جہاں تجھے ڈھونڈھا وہاں وہاں دیکھا وہی ہے دشت جنوں اور وہی ہے تنہائی ترے فریب کو اے گرد کارواں دیکھا ہے برق کو بھی کوئی لاگ نا مرادوں سے گری تڑپ کے جہاں اس نے آشیاں دیکھا جنوں نے حافظہ برباد کر دیا اپنا کچھ اب تو یاد نہیں ہے کسے کہاں ...

مزید پڑھیے

یہاں جزا و سزا کا کچھ اعتبار نہیں

یہاں جزا و سزا کا کچھ اعتبار نہیں فریب حد نظر ہے عروج دار نہیں نگاہ لطف میں غم کا مرے شمار نہیں یہ اعتبار بانداز اعتبار نہیں سکون موت ہی انجام اضطراب فراق جسے قرار نہ آئے وہ بیقرار نہیں خبر نہیں کہ کھلے کتنے پھول گلشن میں کہ آج جیب و گریباں میں ایک تار نہیں خدا کے نام پہ دل کو ...

مزید پڑھیے

سمت کا صحرا

کیسا لگتا ہے اب جب ہو گئے ہیں ایک جیسے چاروں اور چھور ساربانوں کے کہیں بیٹھتے اٹھتے مڑتے ٹوٹتے سر ہیں نہ اونٹوں کے گلے کی گھنٹیوں کی دوریوں کے دریاؤں میں دھیرے دھیرے ڈوبتی گونجیں نہ کہیں خچروں پہ بیٹھیں خواب بنتیں خانہ بدوش دوشیزائیں جن کے برہے سننے ٹھہر جاتا تھا ساون تمہارے ...

مزید پڑھیے

مشورہ

بہت پرانی ہمارے رشتوں کی سب قبائیں جگہ جگہ سے اسی لئے سب مسک رہی ہیں اتاریں ان کو پرانے کپڑوں کے گندے گھر میں بند کر دیں کبھی کوئی سب پھٹے پرانے ہمارے کپڑے خرید لے گا اور ان کے بدلے چمکتا سا کچھ تھمائے شاید

مزید پڑھیے
صفحہ 741 سے 5858