شاعری

جنت نہیں تو کوئے بتاں کچھ نہ کچھ تو ہو

جنت نہیں تو کوئے بتاں کچھ نہ کچھ تو ہو تسکین دل کو اپنی یہاں کچھ نہ کچھ تو ہو آنکھوں میں اشک لب پہ فغاں کچھ نہ کچھ تو ہو راز اس پہ درد دل کا عیاں کچھ نہ کچھ تو ہو او بے نیاز ایک اچٹتی ہوئی نظر دل کو بھی زندگی کا گماں کچھ نہ کچھ تو ہو چشم کرم نہیں نہ سہی زہر ہی سہی لیکن علاج درد نہاں ...

مزید پڑھیے

صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے

صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے جب سے دل خراب تری انجمن میں ہے یہ برہمی جو زلف شکن در شکن میں ہے شاید کوئی کمی مرے دیوانہ پن میں ہے جو کارواں بھی آیا یہیں کا وہ ہو رہا کیا جانے کیا کشش مری خاک وطن میں ہے رگ رگ میں جیسے برق تپاں دوڑنے لگی کوئی کشش تو قصۂ دار و رسن میں ہے وہ بزم ...

مزید پڑھیے

بڑے صبر و تحمل سے بصد پاس ادب کاٹے

بڑے صبر و تحمل سے بصد پاس ادب کاٹے جدائی اک قیامت تھی مگر یہ روز و شب کاٹے قیامت ہے کہ اس نے ایک جرم بے گناہی کا میرے دست طلب توڑے مرے پائے طلب کاٹے دل درد آشنا ملتا تو شاید تم سمجھ سکتے کہ تم سے دور رہ کر ہم نے کیسے روز و شب کاٹے اسیران قفس صیاد کے ممنون احساں ہیں کبھی منقار سی ...

مزید پڑھیے

باقی نہ رہے ہوش جنوں ایسا ہوا تیز

باقی نہ رہے ہوش جنوں ایسا ہوا تیز اتنا ہی بھٹکتا رہا میں جتنا چلا تیز دن ڈھلنے لگا بڑھنے لگے شام کے سائے اے سست قدم اب تو قدم اپنے اٹھا تیز کیا جانیے ظالم نے کسے قتل کیا ہے کیوں ہاتھوں میں آج اس کے ہوا رنگ حنا تیز اب منزل مقصود بہت دور نہیں ہے اے ہم سفرو اور ذرا اور ذرا ...

مزید پڑھیے

کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں

کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں سینے میں دل ہو اور پریشانیاں نہ ہوں ترک تعلقات تو کرتے ہو دیکھنا تم کو خدا نہ کردہ پشیمانیاں نہ ہوں یہ ساری اضطراب مسلسل کی بات ہے دل کو سکون ہو تو غزل خوانیاں نہ ہوں زخم جگر کو اپنے چھپاتا رہا ہوں میں اس خوف سے کہ ان کو پشیمانیاں نہ ہوں وہ ...

مزید پڑھیے

کچھ تو دیکھیں اثر چراغ چلے

کچھ تو دیکھیں اثر چراغ چلے بجھ ہی جائے مگر چراغ جلے مسکرا کر یہ کس نے دیکھ لیا رہ گزر رہ گزر چراغ جلے اتنی ہی اور تیرگی پھیلی شہر میں جس قدر چراغ جلے کون جانے کہ کن امیروں پر شام سے تا سحر چراغ جلے قابل دید ہے یہ عالم بھی اس طرف دل ادھر چراغ جلے ساری بستی دھوئیں میں ڈوب گئی شہر ...

مزید پڑھیے

پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی

پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی دونوں طرف سے پرسش حالات ہو گئی ہلکی سی روشنی بھی نہیں دور دور تک فرقت کی رات کتنی بڑی رات ہو گئی راہ جنوں میں بیکس و تنہا چلا تھا میں ہم راہ دل کے گردش حالات ہو گئی یہ حسن اتفاق کہ تم آ گئے ادھر خوش قسمتی کہ تم سے ملاقات ہو گئی یہ وقت آ گیا ہے مری ...

مزید پڑھیے

نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے

نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے خدا جانے کہاں سے آ رہی ہے وہ مل جائیں صبا تو ان سے کہنا یہ برکھا رت بھی بیتی جا رہی ہے کسی سے دور ہو جانے کی ساعت بہت نزدیک آتی جا رہی ہے یہ کیوں بڑھنے لگی ہے دل کی دھڑکن ہماری یاد کس کو آ رہی ہے بہاروں کا پیام آیا ہے شاید ہوا زنجیر در کھڑکا رہی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

مسلم لیگ

لوگ کہتے ہیں کہ آمادۂ اصلاح ہے لیگ یہ اگر سچ ہے تو ہم کو بھی کوئی جنگ نہیں صیغۂ راز سے کچھ کچھ یہ بھنک آتی ہے کہ ہم آہنگئ احباب سے اب ننگ نہیں فرق اتنا تو بظاہر نظر آتا ہے ضرور اب خوشامد کا ہر اک بات میں وہ رنگ نہیں عرض مطلب میں زباں کچھ تو ہے کھلتی جاتی گرچہ اب تک بھی حریفوں سے ہم ...

مزید پڑھیے

عدل جہانگیری

قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزر ایک دن نورجہاں بام پہ تھی جلوہ فگن کوئی شامت زدہ رہ گیر ادھر آ نکلا گرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن غیرت حسن سے بیگم نے طمنچہ مارا خاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفن ساتھ ہی شاہ جہانگیر کو پہنچی جو خبر غیظ سے آ گئی ابروئے عدالت پہ شکن حکم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 737 سے 5858