شاعری

زہے کوشش کامیاب محبت

زہے کوشش کامیاب محبت ہمیشہ رہے ہم خراب محبت سکون محبت جو ممکن نہیں ہے بڑھا دیجئے اضطراب محبت جھکی جا رہی ہیں وہ معصوم نظریں دیا جا رہا ہے جواب محبت بلا واسطہ ہم سے آنکھیں ملاؤ رہے درمیاں کیوں حجاب محبت تری بزم جنت تھی لیکن کروں کیا اٹھا لے گیا اضطراب محبت نہ ترسا نہ ترسا ...

مزید پڑھیے

میں نے یوں ان سرد لبوں کو رکھا ان رخساروں پر

میں نے یوں ان سرد لبوں کو رکھا ان رخساروں پر جیسے کوئی بھول سے رکھ دے پھولوں کو انگاروں پر چھپ گیا عید کا چاند نکل کر دیر ہوئی پر جانے کیوں نظریں اب تک ٹکی ہوئی ہیں مسجد کے میناروں پر آتی جاتی سانسوں پر وہ دل کے تڑپنے کا عالم جیسے کوئی ناچ رہا ہو دو دھاری تلواروں پر برسوں بعد جو ...

مزید پڑھیے

مرے نصیب کا لکھا بدل بھی سکتا تھا

مرے نصیب کا لکھا بدل بھی سکتا تھا وہ چاہتا تو مرے ساتھ چل بھی سکتا تھا یہ تو نے ٹھیک کیا اپنا ہاتھ کھینچ لیا مرے لبوں سے ترا ہاتھ جل بھی سکتا تھا اڑاتی رہتی ہے دنیا غلط سلط باتیں وہ سنگ دل تھا تو اک دن پگھل بھی سکتا تھا اتر گیا ترا غم روح کی فضاؤں میں رگوں میں ہوتا تو آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

ہم سے ہی روشن رہا ہے تیرے میخانے کا نام

ہم سے ہی روشن رہا ہے تیرے میخانے کا نام ہم ہی لے سکتے نہیں اب ایک پیمانے کا نام زینت صد انجمن ہے آپ کی موجودگی ہے قیامت آپ کے محفل سے اٹھ جانے کا نام دل کے بہلانے پہ دنیا نے کئے ہیں وہ سلوک اب نہ لیں گے بھول کر بھی دل کو بہلانے کا نام رات کی رعنائیاں ہیں زلف برہم کے طفیل صبح صادق ...

مزید پڑھیے

میں انتظار کروں گی

میں انتظار کروں گی اس وقت کا جب کسی جنگ میں محبت جدا نہ ہوگی جب محبت کا دائرہ لا محدود ہو جائے گا جب محبت جسم کی محتاج نہیں رہے گی جب تم مجھے اپنا استعارہ بنا دو گے اور میں خود کو تمہاری تشبیہ بنا لوں گی

مزید پڑھیے

پسند

دن بھرتے ہیں دکھ بڑھتے ہیں خوشیاں کتنی کم ہیں آسمان کتنا اونچا اور زمیں کتنی چھوٹی چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے پھر بھی زمین سورج ہی کے گرد گھومتی ہے شاید اسے بھی پسند ہے تپش میں پگھلنا

مزید پڑھیے

اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی

اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی کہ وہ ساحل پہ ہوتے اور کشتی ڈوبتی اپنی ہمیں تو شام غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی جہاں وہ ہوں وہیں اے چاند لے جا چاندنی اپنی نہ ہے یہ اضطراب اپنا نہ ہے یہ بے خودی اپنی تری محفل میں شاید بھول آیا زندگی اپنی وہیں چلئے وہیں چلئے محبت کا تقاضہ ...

مزید پڑھیے

غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے

غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے کہ منزل دور ہو اور راستے میں شام ہو جائے وہی نالہ وہی نغمہ بس اک تفریق لفظی ہے قفس کو منتشر کر دو نشیمن نام ہو جائے تصدق عصمت کونین اس مجذوب الفت پر جو ان کا غم چھپائے اور خود بد نام ہو جائے یہ عالم ہو تو ان کو بے حجابی کی ضرورت کیا نقاب ...

مزید پڑھیے

اس نظر کی شراب پیتا ہوں

اس نظر کی شراب پیتا ہوں بادۂ کامیاب پیتا ہوں پردہ داریٔ نظم کن کی خیر آج میں بے حجاب پیتا ہوں جھوم جاتے ہیں عرش و کوثر و خلد جھوم کر جب شراب پیتا ہوں رحمتیں بے حساب ہوتی ہیں میں جہاں بے حساب پیتا ہوں سادہ، سادہ نگاہوں کے نثار ہلکی ہلکی شراب پیتا ہوں اف یہ میرا جلال بادہ ...

مزید پڑھیے

عام سا دولہا

آج پھر ایک لڑکی رخصت ہو کر جا رہی ہے آنکھوں میں اپنی سپنے سجائے سپنوں کے محل میں پیار بسائے پھر ویسا ہی گھر ویسا ہی چولہا ویسے ہی لوگ اور ایک عام سا دولہا دولہن چاہتے ہوئے بھی محل کو قائم نہیں رکھ پائے گی دولہا پا کر بھی دولہن کو کبھی نہیں چاہے گا

مزید پڑھیے
صفحہ 733 سے 5858