شاعری

جسم کو روح کی سرحد پہ بلا کر دیکھیں

جسم کو روح کی سرحد پہ بلا کر دیکھیں کیوں نہ آئینے کے اندر کبھی جا کر دیکھیں جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے وہ لوگ سوکھے پیڑوں سے پرندے ہی اڑا کر دیکھیں خواب ہم دن میں پکڑ لیں کوئی جگنو جیسا بارہا رات میں پھر اس کو جلا کر دیکھیں اس میں گرداب بہاؤ نہ کٹاؤ ہے کہیں کیوں نہ تالاب ...

مزید پڑھیے

رکھے چراغ طاق پر سارے بجھے ہوئے

رکھے چراغ طاق پر سارے بجھے ہوئے پھر بھی ہوا کے ساتھ مرے معرکے ہوئے پہلے پہل تو اس سے فقط گفتگو ہوئی اور پھر تعلقات بھی اچھے بھلے ہوئے اک دن ہماری لو نے چراغوں کو مات دی لگتے ہیں آپ ٹھیک اسی دن سے جلے ہوئے اس نے کہا تھا آج وہ آئے گا لازماً مرجھا گئے ہیں پھول گلی تک بچھے ہوئے

مزید پڑھیے

خوبیوں خامیوں اچھی بری عادات سمیت

خوبیوں خامیوں اچھی بری عادات سمیت بول منظور ہوں میں سارے تضادات سمیت جھانک سکتے ہو اگر نیند کی وادی سے پرے دیکھ سکتے ہو مجھے خواب و خیالات سمیت بوڑھے برگد کے جھکے شانے بتاتے ہیں مجھے اس نے ڈھویا ہے کہانی کو روایات سمیت پیڑ کا سایہ نہیں پھل بھی ضرورت ہے مری دل بھی درکار ہے ...

مزید پڑھیے

بدلے نہ اگر مقسوم سکھی

بدلے نہ اگر مقسوم سکھی پھر جینا ہے مذموم سکھی مرا دل تیری جاگیر ہوا ہر سمت یہاں پر گھوم سکھی میں سات سروں سے راگ بنی ہر لے ہے مجھے معلوم سکھی مرے کان کے پردے چیرتا ہے مرے اندر ایک ہجوم سکھی دھک دھک پسلی میں شور کرے ترا بنجارا معصوم سکھی

مزید پڑھیے

یہ آسماں زمیں کے ہونٹ چومتا ہوا نہ ہو

یہ آسماں زمیں کے ہونٹ چومتا ہوا نہ ہو کسے خبر ہے کل تلک یہاں پہ کیا ہو کیا نہ ہو وہ مجھ سے مل کے بھی کسی سے وصل کی دعا کرے عجیب پیڑ ہے جو پانی پی کے بھی ہرا نہ ہو یہ دستکیں کواڑ پر برس رہی ہیں جس طرح کواڑ ہی کی نبض آشنا کوئی ہوا نہ ہو وہ کم سخن سہی مگر کوئی تو اور بات ہے خموشیوں کی ...

مزید پڑھیے

مصلحت کوش نہ تھے خواب جلانے سے رہے

مصلحت کوش نہ تھے خواب جلانے سے رہے رات بنتی ہوئی اک بات بنانے سے رہے بزم آئندہ میں کب کون کہاں بیٹھے گا رفتگاں سب کو یہ اسرار بتانے سے رہے تم نے لوٹ آنے کی امید لگائی ہے عبث ہم جو دیوار اٹھا دیں وہ گرانے سے رہے ترے پہلو سے سرکتے ہوئے دل رونے لگا ڈوبنے والے کو تیراک بچانے سے ...

مزید پڑھیے

دہشت کے موسم میں کھلنے والے پھول

دہشت کے موسم میں کھلنے والے پھول پتی پتی بکھرے کون سنبھالے پھول ان ہونٹوں کے لمس میں ایسا جادو ہے آنکھوں پر رکھتے ہی ہو گئے چھالے پھول تتلی تیرا رنگ چرانے آئی ہے خوش رو تتلی کے پریمی متوالے پھول اس کا رستہ دیکھنے والی آنکھوں میں تیرتے رہتے ہیں کچھ منت والے پھول میں نے وصل ...

مزید پڑھیے

جو ہو سکے تو میسر ہمیں تمام رہو

جو ہو سکے تو میسر ہمیں تمام رہو قیام دل میں کرو اور یہیں مدام رہو یہ کوئی بات کہ اس کے ہوئے کبھی اس کے ہمارے ہو تو سراسر ہمارے نام رہو کبھی تو آؤ ہماری رسائی کی حد میں کبھی کبھی تو ہمارے لیے بھی عام رہو بعید کچھ بھی نہیں ہے ہماری بات سنو طناب خیمۂ امکاں ذرا سا تھام رہو نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں اب تو اس کی آنکھوں کے مے کدے میسر ہیں پھر سکون ڈھونڈوگے ساغروں میں جاموں میں دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں زندگی بکھرتی ہے شاعری نکھرتی ہے دلبروں کی گلیوں ...

مزید پڑھیے

مختلف ایک ہی سپاہ کا دکھ

مختلف ایک ہی سپاہ کا دکھ اک پیادے کا ایک شاہ کا دکھ منزلوں تک ہمارے ساتھ گیا مختصر ایک شاہراہ کا دکھ دکھ ہمیں اک ادھورے رشتے کا اسی رشتے سے پھر نباہ کا دکھ یعنی یک طرفہ تھا ہمارا عشق ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ آپ شہزادی لینے آئے ہیں کیسے سمجھیں گے بادشاہ کا دکھ

مزید پڑھیے
صفحہ 670 سے 5858