شاعری

میں رنگ برنگی مورنی مرے پنکھ بہت ممتاز

میں رنگ برنگی مورنی مرے پنکھ بہت ممتاز مرا رقص انوکھا رقص ہے مجھے اپنے آپ پہ ناز میں سبز رتوں کی راز داں میں پت جھڑ کی ہمدرد میں اپنی آپ مثال ہوں میرا ایک جدا انداز میں دھانی شام کا روپ بھی میں صبح کی کومل دھوپ مجھے دیکھ کے کوئل گائے تو ہر پات بجائے ساز میں مست الست فقیرنی ...

مزید پڑھیے

توجہ چاہیں گے پھر بھی کسی بہانے سے

توجہ چاہیں گے پھر بھی کسی بہانے سے شریر تھک گئے جب سیٹیاں بجانے سے میں دھیرے دھیرے اسے اپنی راہ پر لائی اندھیرا گھٹتا گیا روشنی بڑھانے سے خدا دماغ دے ان کو چراغ دے ان کو جو جل گئے ہیں ہمارے دیا جلانے سے سکوت ٹوٹ گیا جیسے کتنی صدیوں کا شجر کا سوکھا ہوا پتا چرمرانے سے

مزید پڑھیے

مکین شور مچاتے ہیں تو مچانے دے

مکین شور مچاتے ہیں تو مچانے دے کواڑ کھول دے تازہ ہوا کو آنے دے بھٹک نہ جائے کہیں پھر سے قافلہ تیرا چراغ تھام مجھے راستہ بتانے دے الاؤ بجھنے لگے گا تو لوگ اٹھیں گے ذرا ذرا سی کہانی سے آگ آنے دے تماش بین تماشے کا ایک حصہ ہیں اگر یہ لوگ اٹھاتے ہیں حظ اٹھانے دے تمام عمر کا رونا ...

مزید پڑھیے

یہ مکیں کیا یہ مکاں سب لا مکاں کا کھیل ہے

یہ مکیں کیا یہ مکاں سب لا مکاں کا کھیل ہے اک فسوں ہے یہ جہاں سب آسماں کا کھیل ہے مدتوں کے بعد کوئی ہم سے یہ کہہ کر ملا کچھ نہیں یہ ہجر بس آہ و فغاں کا کھیل ہے آج سوکھے پھول جب ہم کو کتابوں میں ملے سوچنے پر یاد آیا باغباں کا کھیل ہے ایک مجنوں سے سر بازار جب پوچھا گیا عشق کیا ہے تو ...

مزید پڑھیے

آج دیکھا جو کوئی شخص دیوانہ مرے دوست

آج دیکھا جو کوئی شخص دیوانہ مرے دوست یاد پھر آیا مجھے میرا فسانہ مرے دوست میں ترے ہجر میں چپ چاپ چلے جاتا ہوں دل کو آتا ہے کہاں کوئی بہانہ مرے دوست خود سے نکلوں تو نئے شہر کا نقشہ دیکھوں اک زمانے سے ہوں محروم زمانہ مرے دوست دل کی بستی میں فقط آخری تم ہی ہو مکیں ایک اک کر کے ہوئے ...

مزید پڑھیے

آگہی عذاب ہے

مجھے آواز نا دینا پلٹ کر میں نہ آ جاؤں مجھے سب یاد ہیں رستے میں تجھ تک آ بھی سکتا ہوں اگر وہ سحر کی نگری جہاں دروازے جادو کے جو میرے چھونے سے کھلتے ہیں گر پھر چھو لیا میں نے انہی میں سے کسی کو تو میں اندر آ بھی سکتا ہوں مجھے تم راستہ نا دو

مزید پڑھیے

وقفہ

میرے دست مقدر پہ یہ گامزن مدتوں آفتوں سے گزرتی رہیں میرے دکھ درد میں یہ بھی شامل رہیں انگلیاں تھام کر میرے خوابوں کی یہ سنگ چلتی رہیں منزلوں کی طرف میری آنکھوں نے جو کچھ نہ دیکھا ابھی مثل آئینہ مجھ کو دکھاتی ہیں یہ وہ سبھی گیت جو میں نے لکھے نہیں وہ مجھے گنگنا کر سناتی ہیں یہ بھید ...

مزید پڑھیے

دل آباد کا برباد بھی ہونا ضروری ہے

دل آباد کا برباد بھی ہونا ضروری ہے جسے پانا ضروری ہے اسے کھونا ضروری ہے مکمل کس طرح ہوگا تماشہ برق و باراں کا ترا ہنسنا ضروری ہے مرا رونا ضروری ہے بہت سی سرخ آنکھیں شہر میں اچھی نہیں لگتیں ترے جاگے ہوؤں کا دیر تک سونا ضروری ہے کسی کی یاد سے اس عمر میں دل کی ملاقاتیں ٹھٹھرتی شام ...

مزید پڑھیے

ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو

ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو زندگی تو نے کہاں لا کے بکھیرا مجھ کو سفر شب میں تو پھر چاند کی ہم راہی ہے کیا عجب ہو کسی جنگل میں سویرا مجھ کو میں کہاں نکلوں گا ماضی کو صدائیں دینے میں کہ اب یاد نہیں نام بھی میرا مجھ کو شکوۂ حال‌ سیہ گردش دوراں سے نہیں شام باقی تھی کہ جب ...

مزید پڑھیے

طفل کو سلانا ہے تھپکیاں سمجھتی ہیں

طفل کو سلانا ہے تھپکیاں سمجھتی ہیں فکر ساری ماؤں کی لوریاں سمجھتی ہیں آب و تاب رکھتے ہیں لوگ بھی سمندر بھی کون کتنا گہرا ہے ڈبکیاں سمجھتی ہیں صبح صبح جاتی ہیں روٹیاں کمانے کو باپ کی جو حالت ہے بیٹیاں سمجھتی ہیں وہ بھی ظلم سہتی ہیں وہ بھی ٹوٹ جاتی ہیں درد ایک عورت کا چوڑیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 671 سے 5858