شاعری

آنکھ جب برسے تو کیا پوچھنا موسم کیسا

آنکھ جب برسے تو کیا پوچھنا موسم کیسا زخم تقدیر میں لکھا ہے تو مرہم کیسا حادثہ گزرا تھا وہ ایک ہی لمحے کے لیے زندگی پھر یہ بتا روز کا ماتم کیسا اب نہ دیوار سے شکوہ ہے نہ سائے کی طلب دھوپ جب میرا مقدر ہے تو پھر غم کیسا آسماں رات اگر رویا نہیں ہے تو بتا برگ گل پر ہے بھلا قطرۂ شبنم ...

مزید پڑھیے

اٹھا کے غم ترا اے زندگی نہ روئیں گے

اٹھا کے غم ترا اے زندگی نہ روئیں گے ہمارا وعدہ رہا اب کبھی نہ روئیں گے ہم اپنے سینے پہ رکھ لیں گے ضبط کا پتھر اگر ہے اس میں تمہاری خوشی نہ روئیں گے ہمارے غم نے تمہیں پھر سے کر دیا ہے اداس تمہارے سامنے اب ہم کبھی نہ روئیں گے ہم اپنی شدت احساس کو چھپا لیں گے سنا کے اپنی کبھی بے بسی ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کو انا گیر نہیں کر سکتے

آرزوؤں کو انا گیر نہیں کر سکتے خواب کو پاؤں کی زنجیر نہیں کر سکتے کیا ستم ہے کی مقدر میں لکھا ہے سب کچھ پھر بھی ہم شکوۂ تقدیر نہیں کر سکتے جب بلائے گی ہمیں موت چلے جائیں گے حکم ایسا ہے کی تاخیر نہیں کر سکتے یہ سفر وہ ہے کی جو چھوٹ گیا چھوٹ گیا پھر اسے پانے کی تدبیر نہیں کر ...

مزید پڑھیے

ہے جو دیوار پر گھڑی تنہا

ہے جو دیوار پر گھڑی تنہا دیکھتی ہوں پڑی پڑی تنہا چاند میں عکس ڈھونڈھتی ہوں ترا روز آنگن میں میں کھڑی تنہا سوچتی ہوں کی جلد دن نکلے رات اتنی لگے بڑی تنہا یاد کرتی ہوں اپنے ماضی کو حال کی قبر میں پڑی تنہا سارے اپنوں کی بھیڑ میں رہ کر اپنے حالات سے لڑی تنہا

مزید پڑھیے

پہلے ہوتا اگر شعور اتنا

پہلے ہوتا اگر شعور اتنا شیشۂ دل نہ ہوتا چور اتنا عشق اس سے ہی تھا ہوا احساس ہو گیا جب وہ مجھ سے دور اتنا کہہ نہ پائے کہ بے قصور ہیں ہم ہو گیا ہم سے بے قصور اتنا خواب میں بھی سفر نہیں ہوتا جسم ہے اب تھکن سے چور اتنا تو بھی مٹی کا ایک پتلا ہے کس لئے ہے تجھے غرور اتنا لوٹ آنا بھی اب ...

مزید پڑھیے

دیکھتا کیا ہے تو حیرت سے ہمارا چہرہ

دیکھتا کیا ہے تو حیرت سے ہمارا چہرہ ہم نے مدت سے سجایا نہ سنوارا چہرہ یہ تو اچھا ہے کی بے رنگ ہے آنسو ورنہ کس قدر داغ لیے پھرتا ہمارا چہرہ روز ہوتا ہے گزر ایک نئی آندھی سے اور اٹ جاتا ہے پھر دھول سے سارا چہرہ زندگی ایک ہی چہرے پہ گزاری ہم نے ہم نے پہنا نہ کبھی ہم نے اتارا ...

مزید پڑھیے

زمانہ لاکھ سمجھتا ہو اہمیت میری

زمانہ لاکھ سمجھتا ہو اہمیت میری مری نظر میں نہیں کوئی حیثیت میری کوئی تو تھا جو مری زندگی سے گزرا تھا بتا رہی ہیں زمانے کو کیفیت میری میں ساری دنیا کو اپنا ہی گھر سمجھنے لگوں نہ کوئی شہر ہو میرا نہ شہریت میری نوازشوں نے زمانے کی مجھ کو چونکایا مجھے کہاں تھی پتا کوئی خاصیت ...

مزید پڑھیے

جب میری کہانی میں وہ کردار نہیں اب

جب میری کہانی میں وہ کردار نہیں اب جا مان لیا پہلے سا معیار نہیں اب لے تیرے ہی کہنے پہ تجھے چھوڑ دیا ہے کیوں اور کہاں کیسے کہ تکرار نہیں اب کچھ شوق نہ حسرت نہ تمنا نہ گزارش دنیا سے مرا کوئی سروکار نہیں اب وحشت بھی طبیعت میں ہے اور جوش جنوں بھی ٹکرانے کو سر سامنے دیوار نہیں ...

مزید پڑھیے

در حقیقت روز و شب کی تلخیاں جاتی رہیں

در حقیقت روز و شب کی تلخیاں جاتی رہیں زندگی سے سب مری دلچسپیاں جاتی رہیں نام تھا جب تک تو ہم پر سیکڑوں الزام تھے ہو گئے گمنام تو رسوائیاں جاتی رہیں اب خیالوں میں وہ میرے ساتھ صبح و شام ہے جب سے وہ بچھڑا ہے ساری دوریاں جاتی رہیں اس قدر تنہائیوں نے توڑ ڈالا ہے مجھے جسم سے ہو کر ...

مزید پڑھیے

تصورات میں دل کی اڑان دیکھ ذرا

تصورات میں دل کی اڑان دیکھ ذرا اسی زمیں سے کبھی آسمان دیکھ ذرا ابھی تو جسم کے ہی گھاؤ تو نے دیکھے ہیں جو میرے دل پہ ہیں وہ بھی نشان دیکھ ذرا تو اس سے پہلے کریں بات غیر سنجیدہ مرا مزاج مرے قدردان دیکھ ذرا دھواں بھی ہو گیا اب تو فضاؤں سے غائب کہاں ہے شہر میں میرا مکان دیکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 644 سے 5858