شاعری

آپ کی بس یہ نشانی رہ گئی

آپ کی بس یہ نشانی رہ گئی الجھنوں میں زندگانی رہ گئی جھوٹ آیا سامنے سچ کی طرح دور روتی حق بیانی رہ گئی جس کے دو کردار تھے تم اور میں یاد مجھ کو وہ کہانی رہ گئی جس کا کہہ دینا ضروری تھا بہت بات وہ تم کو بتانی رہ گئی خاک میں لپٹا ہوا بچپن گیا کرب میں لپٹی جوانی رہ گئی عمر گزری ہے ...

مزید پڑھیے

میری رسوائی کا یوں جشن منایا تم نے

میری رسوائی کا یوں جشن منایا تم نے ریت پر نام لکھا اور مٹایا تم نے فکر کی دھوپ میں جھلسی ہوں کئی صدیوں تک میں نے پایا ہے تمہیں مجھ کو نہ پایا تم نے میں نے جب چاہا بھلا دوں تری یادوں کو تبھی پیار کا گیت مجھے آ کے سنایا تم نے عشق نے سدھ ہی بھلا دی تھی مرے تن من کی ٹوٹ ہی جاتی مگر مجھ ...

مزید پڑھیے

تیرا ہی ذکر ہرسو ترا ہی بیاں ملے

تیرا ہی ذکر ہرسو ترا ہی بیاں ملے کھولوں کوئی کتاب تیری داستاں ملے دنیا کے شور و شر سے بہت تنگ آ گئے ممکن ہے اب تری ہی گلی اماں ملے پیدا تو کر بلندیاں اپنے خیال میں شاید اسی زمیں پہ تجھے آسماں ملے بس ایک بار اس سے ملاقات کیا ہوئی تا عمر اپنے آپ کو پھر ہم ملے محسوس تیرے قدموں کی ...

مزید پڑھیے

ہم نے چاہا اسے اسی کے بغیر

ہم نے چاہا اسے اسی کے بغیر کاٹ دی عمر زندگی کے بغیر ایسے بھی کچھ چراغ ہوتے ہیں جلتے رہتے ہیں روشنی کے بغیر ہو گئے پار ہم تصور میں ناؤ چلتی رہی ندی کے بغیر ضبط کیا ہے یہ پوچھیے ہم سے مسکرائے ہیں ہم خوشی کے بغیر گھٹ کے رہ جائے گا اکیلے میں آدمی کیا ہیں آدمی کے بغیر

مزید پڑھیے

فصیل درد کو میں مسمار کرنے والی ہوں

فصیل درد کو مسمار کرنے والی ہوں میں آنسوؤں کی ندی پار کرنے والی ہوں مجھے خدا کی رضا سے ہے واسطہ ہر دم میں خود نمائی سے انکار کرنے والی ہوں یہ اس کی مرضی کہ اقرار وہ کرے نہ کرے میں آج خواہش اظہار کرنے والی ہوں وہ جس نے کی ہے ہمیشہ مخالفت میری اسی کو اپنا مددگار کرنے والی ہوں وفا ...

مزید پڑھیے

اب کوئی سلسلہ نہیں باقی

اب کوئی سلسلہ نہیں باقی دوستوں میں وفا نہیں باقی زندگی تجھ پہ رائے کیا دو میں اب کوئی تبصرہ نہیں باقی وقت بے وقت کیوں برستے ہیں بادلوں میں حیا نہیں باقی زندگی تجھ سے اور لڑنے کا مجھ میں اب حوصلہ نہیں باقی رنج، الجھن، گھٹن، پریشانی روگ کوئی رہا نہیں باقی اپنی منزل کو چھو لیا ...

مزید پڑھیے

اب تو یہ سفر اپنا آسماں سے آگے ہے

اب تو یہ سفر اپنا آسماں سے آگے ہے مرحلہ حقیقت کا اب گماں سے آگے ہے جس سکوں کی چاہت ہے وہ یہاں نہیں ممکن کیونکہ اپنی منزل ہی اس جہاں سے آگے ہے گفتگو ہماری اب کیا کوئی سمجھ پائے فکر ہی ہماری جب ہر بیاں سے آگے ہے اتنا محترم کوئی اور ہے زمانے میں اس جہان میں رشتہ کوئی ماں سے آگے ...

مزید پڑھیے

سلگتے دشت کا منظر ہوئی ہیں

سلگتے دشت کا منظر ہوئی ہیں یہ آنکھیں ہجر میں بنجر ہوئی ہیں تمہاری آرزو کو مل گیا گھر ہماری حسرتیں بے گھر ہوئی ہیں محبت میں تڑپ آہیں اذیت یہ سب دشواریاں اکثر ہوئی ہے نگاہوں میں کوئی تصویر ابھری یہ آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوئی ہیں نہیں میں وہ نہیں ایسے نہ دیکھو بہت تبدیلیاں اندر ...

مزید پڑھیے

جس دن سے مری تم سے شناسائی ہوئی ہے

جس دن سے مری تم سے شناسائی ہوئی ہے اس دن سے مری اور بھی رسوائی ہوئی ہے تم نے ہی نظر بھر کے نہیں دیکھا ہے مجھ کو ایسے میں بھلا خاک پذیرائی ہوئی ہے قصہ جو نیا پاس کوئی ہے تو سناؤ یے بات تو سو بار کی دہرائی ہوئی ہے چاہوں بھی تو میں توڑ نہیں پاؤں گی اس کو رسموں کی یے زنجیر جو پہنائی ...

مزید پڑھیے

رہ کر بھی تجھ سے دور ترے آس پاس ہوں

رہ کر بھی تجھ سے دور ترے آس پاس ہوں ہجراں میں جل رہی ہوں میں جیسے کپاس ہوں قبضہ کیا ہے کس نے یہ میرے شعور پر اک عمر ہو گئی ہے مجھے بد حواس ہوں دنیا نہ دیکھ پائے گی تیرا کوئی بھی عیب مجھ کو پہن کے دیکھ میں تیرا لباس ہوں جس سے مرا سکون بھی دیکھا نہیں گیا دعویٰ وہ کر رہا ہے ترا غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 643 سے 5858