ہزار گردش شام و سحر سے گزرے ہیں
ہزار گردش شام و سحر سے گزرے ہیں وہ قافلے جو تری رہ گزر سے گزرے ہیں ابھی ہوس کو میسر نہیں دلوں کا گداز ابھی یہ لوگ مقام نظر سے گزرے ہیں ہر ایک نقش پہ تھا تیرے نقش پا گماں قدم قدم پہ تری رہ گزر سے گزرے ہیں نہ جانے کون سی منزل پہ جا کے رک جائیں نظر کے قافلے دیوار و در سے گزرے ...