شاعری

ہزار گردش شام و سحر سے گزرے ہیں

ہزار گردش شام و سحر سے گزرے ہیں وہ قافلے جو تری رہ گزر سے گزرے ہیں ابھی ہوس کو میسر نہیں دلوں کا گداز ابھی یہ لوگ مقام نظر سے گزرے ہیں ہر ایک نقش پہ تھا تیرے نقش پا گماں قدم قدم پہ تری رہ گزر سے گزرے ہیں نہ جانے کون سی منزل پہ جا کے رک جائیں نظر کے قافلے دیوار و در سے گزرے ...

مزید پڑھیے

نالۂ صبا تنہا پھول کی ہنسی تنہا

نالۂ صبا تنہا پھول کی ہنسی تنہا اس چمن کی دنیا میں ہے کلی کلی تنہا رات دن کے ہنگامے ایک مہیب تنہائی صبح زیست بھی تنہا شام زیست بھی تنہا کون کس کا غم کھائے کون کس کو بہلائے تیری بے کسی تنہا میری بے بسی تنہا دیکھیے تو ہوتے ہیں سارے ہم قدم رہرو کاٹیے تو کٹتی ہے راہ زندگی ...

مزید پڑھیے

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں ہم ہوئے کیسے جدا یاد نہیں ایک شعلہ سا اٹھا تھا دل میں جانے کس کی تھی صدا یاد نہیں ایک نغمہ سا سنا تھا میں نے کون تھا شعلہ نوا یاد نہیں روز دہراتے تھے افسانۂ دل کس طرح بھول گیا یاد نہیں اک فقط یاد ہے جانا ان کا اور کچھ اس کے سوا یاد نہیں تو مری جان ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقف اضطراب (ردیف .. و)

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقف اضطراب یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لا دوا ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو شاید تمہیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر شاید یہ بات تم بھی گوارا نہ کر سکو کیا جانے پھر ستم بھی میسر ہو یا نہ ہو کیا جانے یہ کرم بھی کرو یا نہ کر ...

مزید پڑھیے

تری محفل میں سوز جاودانی لے کے آیا ہوں

تری محفل میں سوز جاودانی لے کے آیا ہوں محبت کی متاع غیر فانی لے کے آیا ہوں میں آیا ہوں فسون جذبۂ دل آزمانے کو نگاہ شوق کی جادو بیانی لے کے آیا ہوں میں آیا ہوں سنانے قصۂ غم سرد آہوں میں ڈھلکتے آنسوؤں کی بے زبانی لے کے آیا ہوں میں تحفہ لے کے آیا ہوں تمناؤں کے پھولوں کا لٹانے کو ...

مزید پڑھیے

سکون قلب و شکیب نظر کی بات کرو

سکون قلب و شکیب نظر کی بات کرو گزر گئی ہے شب غم سحر کی بات کرو دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو شگفتہ ہو نہ سکے گی فضائے ارض و سما کسی کی جلوہ گہ بام و در کی بات کرو حریم ناز کی خلوت میں دسترس ہے کسے نظارہ ہائے‌ سر رہ گزر کی بات کرو بدل نہ ...

مزید پڑھیے

کچھ اور گمرہئ دل کا راز کیا ہوگا

کچھ اور گمرہئ دل کا راز کیا ہوگا اک اجنبی تھا کہیں رہ میں کھو گیا ہوگا وہ جن کی رات تمہارے ہی دم سے روشن تھی جو تم وہاں سے گئے ہوگے کیا ہوا ہوگا اسی خیال میں راتیں اجڑ گئیں اپنی کوئی ہماری بھی حالت کو دیکھتا ہوگا تمہارے دل میں کہاں میری یاد کا پرتو وہ ایک ہلکا سا بادل تھا چھٹ ...

مزید پڑھیے

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی اس موسم گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے ساتھ ابر بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی ہر درد محبت سے الجھا ہے غم ہستی کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی چرکے ...

مزید پڑھیے

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا صحرا بنا لیا کبھی دریا بنا لیا یوں رشک کی نگاہ سے کس کس کو دیکھتے ہر آرزو کو اپنی تمنا بنا لیا کب تک جہاں سے درد کی دولت سمیٹتے خود اپنے دل کو غم کا خزینہ بنا لیا دنیا کی کوفتوں کو گوارا نہ کر سکے عقبیٰ کو زندگی کا سہارا بنا لیا تھی کائنات ...

مزید پڑھیے

جب اشک تری یاد میں آنکھوں سے ڈھلے ہیں

جب اشک تری یاد میں آنکھوں سے ڈھلے ہیں تاروں کے دیے صورت پروانہ جلے ہیں سو بار بسائی ہے شب وصل کی جنت سو بار غم ہجر کے شعلوں میں جلے ہیں ہر آن امنگوں کے بدلتے رہے تیور ہر آن محبت میں نئی راہ چلے ہیں مہتاب سے چہرے تھے ستاروں سی نگاہیں ہم لوگ انہی چاند ستاروں میں پلے ہیں نوچے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 622 سے 5858