شاعری

سراب ذات

میں وہ نہیں ہوں میں ہوں جو شاید میں اپنے ہونے سے کچھ الگ ہوں حیات کی کچھ علامتوں میں نگار جاں کی قباحتوں میں فریب جیسی صداقتوں میں تمام اندھی بصارتوں میں میں خود کو آواز دے رہا ہوں نہ جانے کب سے یہیں کھڑا ہوں مگر میں ہوں کب یہ میرے ہونے کا ایک دھوکہ مجھے بھی حیران کر رہا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کاش

جو تم ساتھ ہوتے تو میں تم کو رستے کا وہ پہلا پل اور وہ نالہ دکھاتا جہاں پر ہوا اپنے پر کھولتی ہے جہاں دھوپ ہر روز کچھ دیر رک جواں سال کرنوں کے در کھولتی ہے جو تم ساتھ ہوتے

مزید پڑھیے

دلوں میں لگ رہے پہرے کہیں تھے

دلوں میں لگ رہے پہرے کہیں تھے کسی کا تو فسانہ چل رہا ہے چلی جو بات الفت کی ہماری کہا سب نے دوانہ چل رہا ہے دوانہ بن پھرا میں در بدر تھا محبت میں نبھانا چل رہا ہے تمہاری مسکراہٹ کیا ہوئی تھی ہمارا گنگنانا چل رہا ہے کیا وعدہ تمہیں جو وہ صلہ تھا سبب پلکیں بچھانا چل رہا ہے

مزید پڑھیے

وہ ایک لڑکی جو خندہ لب تھی نہ جانے کیوں چشم تر گئی وہ

وہ ایک لڑکی جو خندہ لب تھی نہ جانے کیوں چشم تر گئی وہ ابھی تو بیٹھی سسک رہی تھی ابھی نہ جانے کدھر گئی وہ وہ لڑکی لگتی تھی اجنبی سی ذرا سے کھٹکے پہ چونکتی تھی یہ اس کے ساتھ حادثہ ہوا کیا کہ بیٹھے بیٹھے بکھر گئی وہ وہ کوئی شے اپنی کھو چکی تھی وہ ڈھونڈھتی اس کو پھر رہی تھی وہ شہر شہر ...

مزید پڑھیے

ضبط کی قید سخت نے ہم کو رہا نہیں کیا

ضبط کی قید سخت نے ہم کو رہا نہیں کیا درد پہ درد اٹھا مگر شور بپا نہیں کیا دنیا نے کیا نہیں کیا ہم نے گلہ نہیں کیا سب سے برائی لی مگر تم کو خفا نہیں کیا جو بھی مطالبہ ہوا عذر ذرا نہیں کیا اب تو نہیں کہو گے تم وعدہ وفا نہیں کیا عمر گزر گئی تمہیں اپنا نہیں بنا سکے سہنے کو کیا نہیں ...

مزید پڑھیے

تسلی

بہت دیر سے ایک چڑیا میری چھت کی کڑیوں میں بیٹھی ہوئی اپنے بچوں کو دنیا کے آداب سکھلا رہی ہے کہ بہلا رہی ہے سو نہ جا میرے ننھے یوں بھوکے نہ سو ابھی جبکہ بارش رکے گی میں اڑ کر بہت دور سے دانہ لاؤں گی دانہ بہت ڈھیر سا خوب کھائیں گے مل کر ابھی بس ذرا دیر میں دور اونچے گگن میں مگر کالے ...

مزید پڑھیے

فنا

میں ڈبے کا آخری بسکٹ اس موجود جہاں سے نکل کر اس عالم کی سمت رواں ہوں میرے ساتھی جہاں پہنچ کر میرا رستہ دیکھ رہے ہیں

مزید پڑھیے

ساتھی

ساتھی آ جس کی سونی شام ان زندہ شاموں کے نام جن میں تیری سرگوشی نغمہ بن کے ابھری تھی سایہ بن کے بکھر گئی

مزید پڑھیے

سراب

میں آہٹ پہ چونکا بھلا کون ہوگا دریچے سے باہر کو جھانکا کہیں کچھ نہیں ہے واہمے نے مرے آج پھر مجھ کو بہلا دیا

مزید پڑھیے

شاعر

شاعر تم کتنے بھولے ہو ہنستے ہو تو پھول سا چہرہ کھل اٹھتا ہے اور اگر تم چپ ہوتے ہو سارا جہاں چپ چپ لگتا ہے شاعر تم کو یاد تو ہوگا ایس ایل ٹی کے باہر جب ہم تم ملتے تھے بوٹنی کے باہر کی ہی باتیں کرتے تھے شاعر تم تو بھول چکے ہو گے وہ میلے جن میں لگتے تھے سپنوں وعدوں کے ٹھیلے تم کہتے تھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 608 سے 5858