اسی لیے تو اجالوں سے دوستی ہوئی ہے
اسی لیے تو اجالوں سے دوستی ہوئی ہے کہ تیرے آنکھ جھپکنے سے روشنی ہوئی ہے ضرور عشق کی حدت سے یہ نمی ہوئی ہے کہ گھاس آپ کے چلنے سے ریشمی ہوئی ہے ہمیں یقین ہے اس باغ کے نہیں ہو تم کہ ہم نے چڑیوں کی تعداد تک گنی ہوئی ہے اسی کا حق ہے کہ دیوان اس کے نام کروں وہ جس کی یاد میں دن رات شاعری ...