گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں
گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں ہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاں لہولہان انگلیاں ہیں اور چپ کھڑی ہوں میں گل و سمن کی بے پناہ چاہتوں کے درمیاں ہتھیلیوں کی اوٹ ہی چراغ لے چلوں ابھی ابھی سحر کا ذکر ہے روایتوں کے درمیاں جو دل میں تھی نگاہ سی نگاہ میں کرن سی تھی وہ داستاں ...