وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے
وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے دامن کو جیب جیب کو داماں نہ کر سکے درد دروں کا وہ بھی تو درماں نہ کر سکے دشواریٔ حیات کو آساں نہ کر سکے تر خون دل سے ناوک جاناں نہ کر سکے ہم اتنی بھی تو خاطر مہماں نہ کر سکے کچھ ایسے جلد ختم ہوئے زندگی کے دن ہم اعتبار عمر گریزاں نہ کر سکے دریا ...