خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں میں
خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں میں خالی کاغذ پر لکیریں کھینچتا رہتا ہوں میں آج سے مجھ پر مکمل ہو گیا دین فراق ہاں تصور میں بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں میں تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیل میں ہوں دروازہ محبت کا، کھلا رہتا ہوں میں شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں اس دنیا کے ...